Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184927
Published : 5/1/2017 16:31

حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیھاکے فضائل و مناقب(۲)

اولیاء خدا جنہوں نے بندگی و اطاعت کی راہ میں دوسروں سے سبقت حاصل فرمائی اور اس راہ کو خلوص کے ساتھ طے کیا وہ اپنی با برکت زندگی میں بھی اور اس عارضی زندگی کے بعد بھی منشاء کرامات و عنایات ہیں،جو ان کی پاکیزہ زندگی کا نتیجہ ہے۔


ولایت پورٹل:
ہم نے اس سے پہلے کی گفتگو میں شہزادی معصومہ قم سلام اللہ علیہا کے فضائل میں اس امر کی جانب اشارہ کیا تھا کہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا بے پناہ عبادت گذار زاہدہ اور عالمہ و محدثہ تھیں ،آج کی ہماری گفتگو شہزادی کے دیگر فضائل کے متعلق ہوگی لہذا پہلے مضمون سے متصل ہونے کے لئے نیچے لنک پر کلک کیجئے!
حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیھاکے فضائل و مناقب(۱)
کریمہ اہل بیت علیہم السلام
انسان عبادت و بندگی خداوند عالم کے نتیجے میں اس حد تک پہنچ سکتا ہے کہ مظہر ارادہ حق اور واسطہ فیض الٰہی قرار پا جائے، یہ ذات خداوند قدوس کی عبادت کا ثمرہ ہے چنانچہ خداوند عالم حدیث قدسی میں فرماتا ہے:«انا اقول للشیء کن فیکون اطعنی فیما امرتک اجعلک تقول للشیء کن فیکون»۔(۱) اے فرزند آدم، میں کسی چیز کے لئے کہتا ہوں کہ ہوجا ! پس وہ وجود میں آجاتی ہے، تو بھی میرے بتائے ہوئے راستوں پر چل میں تجھ کو ایسا بنادوں گا کہ کہے گا ہوجا ! وہ شیء موجود ہو جائے گی۔
امام صادق علیہ اسلام نے بھی فرمایا:«العبودیة جوھرۃ کنهها الربوبیة»۔(۲)
یعنی خدا کی بندگی ایک گوہر ہے جس کی نہایت اور اس کا باطن موجودات پر فرمانروائی ہے۔
اولیاء خدا جنہوں نے بندگی و اطاعت کی راہ میں دوسروں سے سبقت حاصل فرمائی اور اس راہ کو خلوص کے ساتھ طے کیا وہ اپنی با برکت زندگی میں بھی اور اس عارضی زندگی کے بعد بھی منشاء کرامات و عنایات ہیں،جو ان کی پاکیزہ زندگی کا نتیجہ ہے۔
قدیم الایام سے آستان قدس فاطمی ہزاروں کرامات و عنایات ربانی کا مرکز و معدن رہا ہے،کتنے نا امید قلوب فضل و کرم الٰہی کی امیدوں سے سر شار اور کتنے خالی دامن افراد رحمت ربوبی سے اپنی جھولی بھر کر، اور کتنے ہر جگہ سے نا امید افراد اس در پر آکر خوشحال و شادمان ہوکر کریمہ اہلبیت سلام اللہ علیہا کے فیض و کرم سے فیضیاب ہوتے ہوئے لوٹے ہیں اور اولیاء حق کی ولایت کے سایہ میں مستحکم ایمان کے ساتھ اپنی زندگی کی بنیاد ڈالی ہے،یہ تمام چیزیں اسی کنیز خدا کی عظمت روحی اور بے کراں منبع فیض و کرم خداوندی کی نشانی ہیں عنقریب آپ کی کرامت کے نمونے ذکر کئے جائیں گے۔
مقام شفاعت
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حق شفاعت اور اس مقام عظیم تک پہنچنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لئے ایک خاص اہلیت کی ضرورت ہے، کیونکہ خداوند عالم ایسے لوگوں کی شفاعت قبول کرتا ہے کہ جنہیں اس کی طرف سے اجازت حاصل ہے:«یومئذ لا تنفع الشفاعۃ الا من اذن لہ الرحمن»۔(۳) اس دن کسی کی شفاعت سودمند نہ ہوگی مگر جسے رحمن اجازت دے گا،اور یہ اذن ان لوگوں کو ملتا ہے کہ جو قرب الٰہی کے مرتبہ عالی اور مخلصانہ بندگی پرور دگار کو حاصل کرچکے ہیں ان میں انبیاء و ائمہ معصومین سر فہرست ہیں اور ان کے بعد خالص بندگان الٰہی اور اولیاء مقرب ایزدی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنے حد و مقام اور اپنے درجہ معنوی کے مطابق شفاعت کا حق رکھتے ہیں۔ مثلًا علماء ، شہداء اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی شائستہ  اولاد ۔ انہی لوگوں میں سے کہ جن کی شفاعت کے حق کی روایات میں تصریح ہوئی ہے وہ فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:«تدخل بشفاعتها شیعتی الجنة باجمعهم»۔(۴) یعنی ان ( فاطمہ معصومہ ) کی شفاعت سے ہمارے سارے شیعہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔
آپ کی زیارت میں امام معصوم کے حکم کے مطابق کہا جا تا ہے کہ«یافاطمة اشفعی لی فی الجنة»۔ یعنی اے فاطمہ جنت میں ہماری شفاعت فرمائیے۔یہ جملہ خود آپ کی عظمت اور رفعت مقام ، جلالت قدر کو بیان کر رہا ہے کہ آپ شفیعہ روز جزا ہیں ،چنانچہ اسی زیارت کے دوسرے ٹکڑے میں آیا،«فان لک عند اللہ شاٴنا من الشاٴن»۔(۵) یعنی ہم جو آپ سے شفاعت کی بھیک مانگ رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ خد کے محضر میں نا قابل بیان شان و منزلت کی حامل ہیں جو زمینوں کے باسیوں کے لئے قابل تصور نہیں ہے فقط خدا ، پیغمبر اور اوصیاء طاہرین اس سے واقف ہیں۔
فضیلت زیارت
وہ روایتیں جو آپ کی زیارت کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں آپ کے فضائل کی بہترین سند ہیں کیونکہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے پیروکاروں کو اس مرقد مطہر و منور کی زیارت کی تشویق فرمائی ہے نیز اس کا بہت عظیم ثواب بیان فرمایا ہے یہ ثواب ایسا ہے کہ جو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی اولاد میں امام رضا علیہ السلام کے بعد فقط آپ ہی کے سلسلے میں کتابوں میں ملتا ہے۔
ہم یہاں فقط چند روایات ذکر کرتے ہیں ہیں۔
۱۔ امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:«من زارھا فله الجنة»۔(۶)
یعنی جو ان(فاطمہ معصومہ) کی زیارت کرے گا وہ بہشت کا حقدار ہے۔
۲۔ امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا:«من زارها قبر عمتی بقم فله الجنة۔(۷) یعنی جو قم میں ہماری پھوپھی کی زیارت کرے گا اس کے لئے جنت ہے۔
۳۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:«من زارها عارفا بحقھا فله الجنة»۔(۸) جو ان (فاطمہ معصومہ ) کی زیارت ان کے حق کو پہچانتے ہوئے کرے گا وہ بہشت کا حق دار ہے۔
۴۔ امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا :قال الامام الصادق علیہ السلام :«ان لِله حرما و هو مکة وللرسول حرما و هو المدینة و لامیرالموٴمنین حرما و هو الکوفة و لنا حرما و هو قم و ستدفن فیه-امرۃ من ولدی تسمی فاطمة من زارها وجبت له الجنة۔(قال علیه السلام ذالک و لم تحمل بموسیٰ امة)۔(۹)
خدا کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مکہ ہے رسول کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مدینہ ہے، امیرالموٴمنین کے لئے ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے ہمارے لئے ایک حرم ہے ایک حرم ہے اور وہ قم ہے ، عنقریب وہاں میری اولاد میں سے ایک خاتون دفن کی جائے گی جس کا نام فاطمہ ہوگا ۔ امام علیہ السلام نے یہ حدیث اس وقت ارشاد فرمائی کہ جب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی والدہ حاملہ بھی نہ ہوئی تھیں۔ جو بھی اس کی زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہوگی۔
اس روایت سے خصوصًا اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ولادت سے قبل یہ حدیث صادر ہوئی بخوبی اندازہ ہوتا کہ حضرت فاطمہ معصومہ کا قم میں دفن ہونا خداوند عالم کے اسرار میں سے ایک سر خفی ہے اور اس کا تحقق مکتب تشیع کی حقانیت کی ایک عظیم دلیل ہے۔
..............................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔مستدرک الوسائل، ج ۲ ، ص  ۲۹۸ ۔
۲۔مصباح الشریعۃ باب ۱۰۰ ۔
۳۔ سورہ طٰہ ، ۱۰۵ ۔
۴۔ سفینۃ البحار، ج ۲ ،ص ۳۷۶ ۔
۵۔ بحار الانوار، ج ۱۰۲ ،ص ۲۶۶ ۔
۶۔بحار الانوار، ج۱۰۲ ،ص ۲۶۵ ۔
۷۔ سابق حوالہ۔
۸۔ بحار الانوار، ج  ۱۰۲ ،ص ۲۶۶ ۔
۹۔ بحار الانوار، ج  ۱۰۲ ،ص ۲۶۷ ۔
mahdimission 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15