Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185065
Published : 15/1/2017 10:5

سعودی بادشاہ کو خدمت اسلام کا ایوارڈ: امت مسلمہ کے ساتھ ایک گھناؤنا مذاق

یہ بات ابھی تک سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایوارڈ دینے والے ادارے کو یمن میں بے گناہ مسلمان بھائیوں کا بہتاخون دکھائی کیوں نہیں دیا؟شام میں معصوم بچوں کی کٹی گردنیں اور عورتوں کی چیخیں کیوں سنائی نہ دیں،انہیں یہ کیوں نظر نہیں آیا کہ سعودی بادشاہ نہتے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے نتین یاہو کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔


ولایت پورٹل:
رواں سال شاہ فیصل ایوارڈ برائے خدمتِ اسلام سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو دیا گیا ہے،شاہ سلمان کو یہ اعزاز حرمین شریفین اور ان کے زائرین کی دیکھ بھال اور خدمت ، سیرت نبوی پر توجہ ، سیرت نبوی کے تاریخی اطلس کے منصوبے کے لیے سپورٹ اور اسلامی اور عرب دنیا کو درپیش مشکل حالات کے مقابلے کے لیے اُن کی کوششوں کے پیشِ نظر عطا کیا گیا ہے۔
یہ اعلان خادم حرمین شریفین کے مشیر ، مکہ مکرمہ کے گورنر اور شاہ فیصل عالمی ایوارڈ کی کمیٹی کے سربراہ شہزادہ خالد الفیصل نے 1438ہجری / 2017ء کے لیے پانچ شعبوں میں ایوارڈ جیتنے والوں کے ناموں کو بیان کرتے ہوئے کیا،مجموعی طور پر یہ 39 واں شاہ فیصل ایوارڈ ہے،چوں کہ یہ ایوارڈ سعودیہ کے ایک ادارے نے ہی عطا کرنا تھا لہٰذا اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں کہ یہ ایوارڈ سعودی بادشاہ کے نام ہی جاتا حالانکہ اسلام کی جو خدمت سعودی بادشاہ نے کی وہ سب کے سامنے ہے۔
تاہم یہ بات ابھی تک سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایوارڈ دینے والے ادارے کو یمن میں بے گناہ مسلمان بھائیوں کا بہتاخون دکھائی کیوں نہیں دیا؟شام میں معصوم بچوں کی کٹی گردنیں اور عورتوں کی چیخیں کیوں سنائی نہ دیں،انہیں یہ کیوں نظر نہیں آیا کہ سعودی بادشاہ نہتے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے نتین یاہو کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہیں اور انہیں برما  میں مسلمانوں .کے بہتے خون پر خاموش تماشائی بننے والے بادشاہ کا دوغلا پن کیوں نظر نہیں آیا،یہ امن ایوارڈ نہ صرف خود اسلام بلکہ تمام امت مسلمہ کے ساتھ گھناؤنا مذاق ہے۔
ابلاغ



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23