Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185070
Published : 15/1/2017 16:31

ظہور کی ابھی کتنی اور علامات باقی ہیں؟

ائمہ معصومین علیہم السلام کی روایات کی بنا پرامام عصرعلیہ السلام کے ظہورکےلیے کچھ علامات ہیں۔ بطورکلی ظہورکی علامات دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں: حتمی علامات اورغیرحتمی علامات


ولایت پورٹل:
اسلامک سائنسز اینڈ کلچرل ریسرچ سنٹر کے رکن حجۃ الاسلام والمسلمین رحیم کارگر نے اپنے ٹیلیگرام پرلکھا ہےکہ کلی طورپرظہور کی علامت دوحصوں میں تقسیم ہوتی ہیں: حتمی علامات اورغیرحتمی علامات
الف: غیرحتمی علامات
ایسی علامات ہیں کہ جن کا وقوع پذیر ہونا حتمی اوریقینی نہیں ہے، یعنی یہ دنیا کے حالات سے مربوط ہے، اگرضروری ہو تو رونما ہوں گی اوراگر ان کے حالات فراہم نہ ہوئے تو رونما نہیں ہوں گی،لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ظہورتک کتنی علامات باقی ہیں،کیونکہ حقیقت میں معلوم نہیں ہے کہ غیرحتمی علامات میں سےکتنی علامات متحقق ہوں گی،دوسری جانب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس وقت دنیا میں جو واقعات رونما ہورہے ہیں یہ وہی علامات ہیں کہ جو روایات میں آئی ہیں؟ کیونکہ اس مطلب کو مستحکم دلیلوں کی ضرورت ہےکہ جن کو عام طورپرحاصل کرنا آسان نہیں ہے بلکہ ممکن نہیں ہے،لہذا نہیں کہا جاسکتا کہ مذکورہ علامت کس واقعہ کی طرح اشارہ کررہی ہے،چنانچہ  ہر واقعہ کو آسانی کے ساتھ اس علامت پرمنطبق نہیں کیا جاسکتا ہےکہ جن کا روایات میں تذکرہ آیا ہے۔
ب: حتمی علامات
ایسی علامات ہیں کہ جن کے بارے میں ائمہ معصومین علیہم السلام نےفرمایا ہےکہ یہ یقینا اور ظہورسے تھوڑاعرصہ پہلے متحقق ہوں گی اوران کا وقوع نہ ہونا ممکن نہیں ہے اوروہ پانچ علامات ہیں اوریہ سب ظہورکے نزدیک متحقق ہوں گی اورابھی تک ان میں سے ایک بھی متحقق نہیں ہوئی ہے۔
غیرحتمی علامات کے بارے میں کہنا چاہیےکہ ہرواقعہ کو ظہورکی علامت قرارنہیں دینا چاہئے اور اس بات کو آسانی سےقبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔
شبستان


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23