Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185074
Published : 15/1/2017 17:1

مذہب اسلام میں عورتوں پر مظالم کا سد باب(۲)

مغربی تہذیب نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ ہمارے قانون کو منسوخ کرکے اپنے قوانین جاری کردیئے ،بلکہ اس نے ہر طرف سے ہمارے نظامِ زندگی پر حملہ اور ہر پہلو سے ہمارا گھیراؤ کیا،اس نے ہمارے نظام تعلیم کی جگہ اپنا نظام تعلیم رائج کرکے اس کورزق اور ترقی کا ذریعہ بنادیا اور نظامِ تعلیم سے اخلاق اور کردار کو جدا کردیا،جس کا آج یہ نتیجہ ہے کہ بے حیائی اور بے شرمی عام ہوگئی ہے۔


ولایت پورٹل:
قارئین ہم نے اس موضوع کے پہلے حصہ میں یہ بیان کیا تھا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے حقوق کی پایمالی تنہا قانون بناکر حل نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے لئے ہمیں ایک مکمل  اخلاقی نظام  کی ضرورت ہے جس میں ہر انسان اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض سے بھی آشنا ہو لہذا اس موضوع سے متعلق تکمیلی معلومات کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
مذہب اسلام میں عورتوں پر مظالم کا سد باب(۱)
اسلام ایک مکمل ترین ضابطۂ اخلاق (Code of Conduct) ہے۔اسلامی قانون کے نفاذ کا نام اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہے ،بلکہ زندگی کی اس پوری اسکیم کو نافذ کرنا ضروری ہے، جو اسلام نے ہمیں دی ہے اور قانون اس اسکیم کا اہم حصہ ہے جو مجموعے سے الگ کرکے نافذ کردیا جائے، تویہ اسلامی نظام کا نفاذ نہ ہوگا،اگر ہم زندگی کے اس پورے نظام کو اسی طرح جاہلیت کی راہ پر چلنے دیں، جس طرح وہ چل رہا ہے اور صرف اسلامی قانون کو عدالتوں کے ذریعہ نافذ کردیں، تو اس کے نتائج نہیں ہوسکتے ہیں جو اسلام کو مطلوب ہیں، اس کی مثال کچھ ایسی ہے جیسے چولہے میں آگ جل رہی ہو ، ہنڈیاں چولہے پر رکھی ہو اور ہم برف رکھ کر اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں۔ ٹھنڈی تو وہ تب ہو جب آگ اس کے نیچے سے نکال دی جائے۔ معاشرے میں برائیوں کے اسباب جوں کے توں رہیں اور ان سے قانون کے ذریعہ اصلاح کی کوشش کریں، تو آخر اصلاح کیسے ہوجائیگی۔ برصغیر ہند میں جب انگریز آئے تو یہاں اسلامی تعلیم رائج تھی ، مسلمانوں کی اپنی تہذیب قائم تھی، ان کا اپنا تمدن موجود تھا، ان کی اپنی روایات باقی تھیں، ان کی اخلاقی اقدارمحفوظ تھیں، اب دیکھئے انگریزی اقتدار نے اس صورت حال کو کس طرح بدلا؟
اس نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ ہمارے قانون کو منسوخ کرکے اپنے قوانین جاری کردیئے ،بلکہ اس نے ہر طرف سے ہمارے نظامِ زندگی پر حملہ اور ہر پہلو سے ہمارا گھیراؤ کیا،اس نے ہمارے نظام تعلیم کی جگہ اپنا نظام تعلیم رائج کرکے اس کورزق اور ترقی کا ذریعہ بنادیا اور نظامِ تعلیم سے اخلاق اور کردار کو جدا کردیا،جس کا آج یہ نتیجہ ہے کہ بے حیائی اور بے شرمی عام ہوگئی ہے،اسی بے حیائی اور بے شرمی کی گودوں میں یہ لوگ پلتے ہیں ،جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عورتوں یا لڑکیوں کا ان کے دلوں میں کوئی مقام اور مرتبہ نہیں ہوتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک طرف اسلام کے نظام کو سمجھا جائے اور عورتوں کی عصمت کا تحفظ کیا جائے اور مردوں کے مظالم سے ان کو بچایا جائے،اس کیلئے ضروری ہے کہ قانون کے ساتھ ساتھ نظامِ تعلیم میں اخلاقی تعلیم کو شامل کیا جائے، اخلاق کے بغیر انسان خواہ عورت ہو یا مرد، حیوان ہے اور ظاہر ہے اگر کسی مرد یا عورت پر حیوانیت طاری ہوجائے، تو اس کے اندر اخلاقی حس ختم ہوجاتی ہے اور وہ سب کچھ کرنے پر سب کے ساتھ آمادہ ہوجاتا ہے،عورتوں کو وہ چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے، جس سے ان کا مرتبہ اور مقام بڑھے اور مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کو اسلام سے کما حقہٗ واقف ہونے کی ضرورت ہے، تاکہ جو مرد اللہ اور اللہ کے رسول(ص) کے احکامات کو توڑے، ان کو لڑکیاں یا عورتیں بتاسکیں اوراس سے ان کو روک سکیں،آخری بات یہ کہنی ہے کہ اسلام میں چاہے بچہ ہو یا بچی، اس کی پرورش پیدائش سے پہلے شروع ہوجاتی ہے اور وہ اس طرح شروع ہوتی ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کے انتخاب کی نیت ایسی ہونی چاہئے کہ ان سے آگے چل کر اچھی اور نیک اولاد پیدا ہو اور ماؤں کے پیٹوں سے لے کر ہوش مندی تک ماں کی گود ایک ایسی درس گاہ ہو ،جہاں سے وہ ایسی تعلیم حاصل کرسکے کہ ان کو حلال و حرام کی تمیز ہو اور اچھے اور برے کاخیال ہو اور اس دنیا کے بعد دوسری دنیا کا احساس ہو کہ آج وہ جو کچھ کررہے ہیں ،انہیں دوسری دنیا میں ان سب چیزوں کا حساب دینا ہوگا اگر انہوں نے اچھا عمل کیا ہے تو انہیں جزا ملے گی اور اگر خراب عمل کیا تو سزا ملنا یقینی ہے،آخرت کا احساس برائیوں سے بچاتا ہے، مگر یہ احساس شدت کے ساتھ لڑکے اور لڑکیوں میں ہونا چاہئے، اس کے لئے دینی تعلیم یا اخلاقی تعلیم ضروری ہے۔
chauthiduniya



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21