Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185079
Published : 15/1/2017 18:29

مولانا سید اسماعیل بلگرامی کا تعارف اور خدمات

بلگرامی صاحب نے ملازمت چھوڑ کر بلگرام میں سکونت اختیار کرلی موصوف نے اپنے خاندان میں مذہب امامیہ کی تبلیغ کی اور تصوف و تفضیل کے خلاف کام کیا،اس عرصہ میں درس و تدریس ، تصنیف و تالیف مشغلہ رہا۔


ولایت پورٹل:
مولانا سید اسماعیل عرف چھما صاحب خلف سید قطب عالم بلگرامی اپنے عہد کے علماء اور معقولات کے ماہرین میں تھے۔
پہلے ملا عبد السلام سے درس لیا پھر ملا عبدالحکیم سیالکوٹی کے مدرسے میں حاضر ہوئے ،ملا عبدالحکیم نے آپ کی طرف خاص توجہ نہ کی اور کہا :کسی طالب علم کے ساتھ بیٹھ کر سبق سن لیا کرو،الگ پڑھانے کا وقت نہیں ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب نے تعمیل حکم کی اور ایک طالب علم کے ساتھ سبق میں شریک ہوگئے، ایک روز ملا صاحب نے کہا:تم اتنے عرصہ سے میری تقریر سن رہے ہوکبھی کوئی سوال نہ پوچھا کیا سبب ہے؟موصوف نے جواب دیا:مجھے سننے کا حکم ہے میں سنتا رہتا ہوں۔
ملا صاحب نے خوش ہوکر عصر و مغرب کے درمیان علیحدہ پڑھانے کا وعدہ کرلیا،چنانچہ پہلے ہی دن کسی بات پر بحث چھڑ گئی اور مغرب تک بحث رہی ،ملا صاحب نے نماز مغرب پڑھی اور پھر بحث شروع کردی،یہاں تک کہ عشاء کا وقت آگیا،غرض تین دن تک بحث چلتی رہی ملا عبد الحکیم صاحب نے مولوی اسماعیل صاحب کی قابلیت کی داد دی اور پوچھا اب تک کس سے پڑھتے رہے ہو،انھوں نے جواب دیا:کہ ملا عبد السلام کا شاگرد ہوں پھر اپنا ایک حاشیہ پیش کیا،تب ملا صاحب نے کہا:اچھا تم اسماعیل ہو؟ لہذا مولوی صاحب نے اپنا تعارف کرایا تو ملا صاحب بغل گیر ہوئے اور بہت احترام کیا۔
مولوی اسماعیل بلگرامی نجابت خاں صفوی کے احباب میں تھے انھوں نے دربار شاہ جہاں تک رسائی کرادی چنانچہ ایک روز مولوی صاحب دربار میں حاضر تھے حاضرین میں سے ایک خان صاحب اور ایک شیخ صاحب میں بحث شروع ہوگئی ،بادشاہ نے آپ کو ثالث بنادیا،بلگرامی صاحب نے فریقین کے دلائل سن کر مسترد کردیئے،افغانی عالم نے کج بحث شروع کردی اور لڑتے لڑتے تلوار سونت کر کھڑا ہوگیا،مولوی صاحب نے بھی بڑھ کر تلوار اٹھالی۔
نجابت خاں نے قصہ رفع دفع کردیا،اس وقت بادشاہ نے کہا: سید ما صاحب السیف و القلم است۔
بلگرامی صاحب نے ملازمت چھوڑ کر بلگرام میں سکونت اختیار کرلی موصوف نے اپنے خاندان میں مذہب امامیہ کی تبلیغ کی اور تصوف و تفضیل کے خلاف کام کیا،اس عرصہ میں  درس و تدریس ، تصنیف و تالیف مشغلہ رہا۔
شاگرد:سید عنایت اللہ ،حافظ قرآن و طبیب و حکیم سید محمد فیض
اولاد:نور محمد ، حسن عسکری، سید حسین
آثار
۱۔حاشیہ مبسوط بر تہذیب المنطق
۲۔حاشیہ بر حاشیہ ملا جلال
وفات
رحمٰن علی نے سید اسماعیل صاحب کا سن وفات ۱۱۶۴ ہجری لکھا ہے لیکن میر غلام علی آزاد نے روز سہ شنبہ ۴ شوال ۱۰۸۸ ہجری کو روز وفات تسلیم کیا ہے۔
بحوالہ مطلع انوار


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24