Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185083
Published : 15/1/2017 19:49

معصومین (ع) کا سینہ قرآن کا حقیقی مرکز

ائمہ معصومین(ع) کی علمی شان ومنزلت کے بارے میں امام محمد باقر(ع)ارشاد فرما تے ہیں:خدا کا اسم اعظم ۷۳ حروف پر مشتمل ہے ان میں سے صرف ایک حرف جناب آصف ابن برخیا کے پاس تھا،آصف نے وہ اسم اعظم زبان سے کہا ہی تھا کہ ان کے اور تخت بلقیس کے درمیان زمین سمٹ گئی ،تخت ان کے ہاتھوں میں پہونچ گیا اور زمین اپنی پہلی حالت پر واپس چلی گئی،اور یہ عمل پلک جھپکنے سے بھی کم مدت میں رونما ہو گیا،اور ہمارے پاس اسمائے اعظم کے ۷۲ حروف کا علم ہے اور ایک حرف اسم اعظم خدا کے پاس موجود ہے جسے اس نے اپنے خزانۂ علم غیب میں اپنے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔


ولایت پورٹل:
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:«وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَهُ إِلاَّ اﷲُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ»۔(۱)
ترجمہ:اس کتاب کی تاویل کا علم صرف اللہ کو ہے اور ان کو ہے جو علم میں رسوخ رکھنے والے ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس آیت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:«نحن الرّاسخون فی العلم ونحن نعلم تأویله»۔(۲)
ترجمہ:ہم علم میں رسوخ رکھنے والے ہیں اور ہم ہی قرآن کی تاویل کے عالم ہیں۔
معصومین(ع) کا سینہ قرآن کا حقیقی مرکز     
«بَلْ ھُوَ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ فِی صُدُورِ الَّذِینَ اُوتُوالْعِلْمَ»۔(۳)
ترجمہ:درحقیقت یہ قرآن چند کھلی ہوئی آیتوں کا نام ہے جو ان کے سینوں میں محفوظ ہیں جنھیں علم دیا گیا ہے۔
امام محمد باقر (ع) نے اس آ یہ  کریمہ کی تلاوت کی اور اپنے ہاتھ سے اپنے سینہ مبارک کی جانب اشارہ فرمایا۔(۴) 
جن لوگوں کو علم عطا کیا گیا ہے اس آیت میں ان سے کون لوگ مراد ہیں؟
اس بارے میں امام جعفر صادق(ع) نے یہ ارشاد فرمایا:«هم الائمّة خاصّة»
وہ صرف ائمہ ہیں۔(۵)
ائمہ معصومین(ع) کی علمی شان ومنزلت کے بارے میں امام محمد باقر(ع)ارشاد فرما تے ہیں:خدا کا اسم اعظم ۷۳ حروف پر مشتمل ہے ان میں سے صرف ایک حرف جناب آصف ابن برخیا کے پاس تھا،آصف نے وہ اسم اعظم زبان سے کہا ہی تھا کہ ان کے اور تخت بلقیس کے درمیان زمین سمٹ گئی ،تخت ان کے ہاتھوں میں پہونچ گیا اور زمین اپنی پہلی حالت پر واپس چلی گئی،اور یہ عمل پلک جھپکنے سے بھی کم مدت میں رونما ہو گیا،اور ہمارے پاس اسمائے اعظم کے ۷۲ حروف کا علم ہے اور ایک حرف اسم اعظم خدا کے پاس موجود ہے جسے اس نے اپنے خزانۂ علم غیب میں اپنے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔(۶)
......................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ سورۂ آل عمران: آیت ۷۔      
۲۔ اصول کافی، ج ۱ ،ص ۲۱۳۔
۳۔ سورۂ عنکبوت:آیت ۴۹۔    
۴۔ اصول کافی، ج ۱ ،ص ۲۱۳۔
۵۔ وسائل الشیعہ،ج ۲۷،ص ۱۸۰ ۔  
۶۔ اصول کافی، ج ا،ص ۲۳۰۔   


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19