Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185091
Published : 16/1/2017 17:28

عدل الہی کی روشنی میں تخلیق کائنات کا مقصد

دل وحکمت الٰہی کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے افعال میں مختار ہو اس لئے کہ جس کام کے کرنے یا نہ کرنے کی طاقت وقدرت کسی انسان کے پاس نہ ہو اسے اس کام کا حکم دینا بے کار اور عبث ہے اسی طرح اگرکام کو ترک کرنے کی قدرت نہیں ہے تواس پر سزا دینا بھی عدل الٰہی کے خلاف ہے۔


ولایت پورٹل:
حکمت خدا کا تقاضا ہے کہ کائنات کی خلقت کسی ہدف اور مقصد کے لئے ہو اس لئے کہ بلا وجہ اور بے مقصد فعل ایک صاحب حکمت کے لئے صحیح نہیں ہے،قرآنی آیات سے یہ بات بھی بخوبی واضح ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:«وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا لَاعِبِینَ»۔(۱)
ترجمہ: اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو کھیل تماشے کے لئے نہیں بنایا ہے۔
«وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا بَاطِلاً »۔(۲)
ترجمہ: اور ہم نے آسمان اور زمین اور اس کے درمیان کی مخلوقات کو بیکار نہیں پیدا کیا۔
مذکورہ اور ان سے مشابہ آیات کا مطلب یہ ہے کہ خداوند عالم نے عالم طبیعت کو بلا وجہ اور تفریح طبع کے لئے خلق نہیں کیا ہے بلکہ کائنات کی خلقت بر حق اور حکیمانہ ہے،دوسری آیات میں صراحت کے ساتھ اعلان ہوا ہے کہ کائنات کی خلقت کا مقصد حیات انسانی ہے چنانچہ ارشاد ہوتاہے:«هوَ الَّذِی خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعًا»۔(۳)
ترجمہ: وہ خدا وہ ہے جس نے زمین کے تمام ذخیروں کو تم ہی لوگوں کے لئے پیدا کیا ہے۔
اور انسانی خلقت کا مقصد عالم آخرت میں پورا ہوگا:«أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَأَنَّکُمْ إِلَیْنَا لاَتُرْجَعُونَ»۔(۴)
ترجمہ: کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹا کر نہیں لائے جاؤ گے۔
حیات انسانی کے ہدف ومقصد تک پہنچنے کا راستہ خدا کی عبادت ہے:«وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُونِ»۔(۵)
ترجمہ: اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔
انسان اور اختیار
عدل وحکمت الٰہی کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے افعال میں مختار ہو اس لئے کہ جس کام کے کرنے یا نہ کرنے کی طاقت وقدرت کسی انسان کے پاس نہ ہو اسے اس کام کا حکم دینا بے کار اور عبث ہے اسی طرح اگرکام کو ترک کرنے کی قدرت نہیں ہے تواس پر سزا دینا بھی عدل الٰہی کے خلاف ہے،قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:«إِنَّا هَدَیْنَاہُ السَّبِیلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُوراً»۔(۶)انسان شکر گذاربھی ہو سکتا ہے اور یا کفران نعمت کرنے والا بھی یہ اعلان واضح دلیل ہے کہ انسان صاحب اختیار ہے۔
ایک شخص کے جواب میں مولائے کائنات فرماتے ہیں:«ولو کان کذالک لبطل الثواب والعقاب والامر والنھی ویسقط معنی الوعد والوعید»۔(۷)
ایک شخص نے امام جعفر صادق(ع)سے دریافت کیا:کیا خدا نے انسانوں کو کام انجام دینے پر مجبور کیا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:خدا اس سے بڑھ کر عادل ہے کہ کسی کو کسی کام پر مجبور کرے اور پھر اسے سزا بھی دے۔(۸)
اپنے اختیار کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ اپنے نفسانی حالات اور کاموں کی انجام دہی کے فیصلہ کے بارے میں غور وخوض ہے انسان اگر خود اپنے اندر غور کرے گاتو اسے یہ روشن حقیقت خوداپنے اندر محسوس ہو گی کہ اسے فیصلہ اور انتخاب کا اختیار حاصل ہے۔
اسی کے ساتھ انسان وجدانی طور پر اس حقیقت کو بھی محسوس کرتا ہے کہ اس کا وجود دوسرے کا مرہون منت ہے وہ خودکسی مستقل وجود کا مالک نہیں ہے،ان دو باتوں (افعال کی انجام دہی میں مختار ہونا اور دوسرے کے سہارے وجود)کا ماحصل وہی ہے جسے روایات اہل بیت(ع) میں «الامر بین الامرین»سے تعبیر کیا گیا ہے،امر ین سے مراد «جبر»اور «تفویض» ہے یعنی افعال کے سلسلہ میں جبر کا عقیدہ بھی غلط ہے اور تفویض کا بھی۔صحیح نظریہ اور عقیدہ «امر بین الامرین»ہے«لا جبر ولا تفویض بل امر بین الامرین»۔(۹)
قضاء وقدر الٰہی کا عقیدہ اسلام کے مسلم عقائد میں سے ہے کیونکہ کثیر تعداد میں آیات وروایات میں اس کی صراحت موجود ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:«إِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنَاہُ بِقَدَرٍ»(۱۰)
ترجمہ: بیشک ہم نے ہر شے کو ایک اندازہ کے مطابق پیدا کیا ہے۔
کبھی یہ تصور ہوتا کہ قضا وقدر کے عقیدہ کے ساتھ انسان کو مختار تسلیم نہیں کیا جا سکتا لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قضا وقدر کا عقیدہ نہ صرف یہ کہ انسان کے مجبور ہونے کا مستلزم نہیں ہے بلکہ انسان کا مختار ہونا خودبھی قضا وقدر الٰہی کا مظہر ہے،اس لئے کہ قدر الٰہی کا مطلب اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ ہر چیز اپنی مخصوص خصوصیات کے ساتھ خلق ہو اور انسانی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے افعال کے فیصلہ میں آزاد ہے اور اسے فعل کے انجام دینے یا ترک کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:«وَالَّذِی قَدَّرَ فَهَدَیٰ»۔(۱۱)
ترجمہ: جس نے تقدیر معین کی ہے اور پھر ہدایت دی ہے۔
یعنی ہدایت تقدیر الٰہی کا لازمہ ہے،اور انسان کو تکوینی ہدایت کے علاوہ تشریعی ہدایت بھی حاصل ہے اور تشریع وشریعت کے سہارے ہدایت اختیار کے سہارے ہی ہوسکتے ہے ۔«إِنَّا هَدَیْنَاہُ السَّبِیلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُوراً»۔
قضاء الٰہی کا مطلب ہے کہ نظام خلقت پر حتمی قوانین اور ناقابل تغیروتبدیل سنت الٰہی حکم فرما ہے، چنانچہ حیات انسانی کے لئے بھی ناقابل تبدیل ،حتمی نظام یہ ہے کہ انسان اپنے افعال علم وارادہ کے ساتھ انجام دے۔
طے شدہ ہے کہ اگر انسان کسی کام کو انجام دینے کا قطعی ارادہ کرے اور کوئی مانع بھی نہ پایا جائے تو وہ کام حتمی طور پر وقوع پذیر ہوگا اور قطعی وحتمی طور پر یہ وقوع انسان کے ارادہ اور اختیار کے باعث ہی ہوا ہے اور اس میں ارادہ واختیار سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔
گذشتہ باتوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ خدا کا ازلی علم و ارادہ،قدرت ،خالقیت کی عمومیت وغیرہ کسی بھی اعتبار سے انسان کے اختیار کے منافی نہیں ہے اس لئے کہ یہ چیزیں حقیقت کو تبدیل نہیں کرتیں،خدا کا ازلی علم وارادہ اس چیز سے متعلق ہے کہ انسان اختیار و ارادہ سے فعل انجام دے گا دوسری جانب خدا کی خالقیت و قدرت بھی عادلانہ ،حکیمانہ ہے عدل و حکمت پرمبنی قدرت وخالقیت ہرگز انسانی اختیار کے نظام کوتبدیل نہیں کرتی۔
.............................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔سورہ انبیاء:آیت۱۶ ۔
۲۔سورہ ص:آیت۲۷  ۔
۳۔سورہ بقرہ:آیت۲۹۔
۴۔سورہ مؤمنون:آیت۱۱۵۔
۵۔سورہ ذاریات:آیت۵۶۔
۶۔سورہ انسان:آیت۳۔
۷۔توحید شیخ صدوق، باب قضا وقدر ،حدیث: ۲۸۔
۸۔توحید شیخ صدوق ،باب نفی جبر و تفویض،حدیث:۶۔
۹۔بحارالانوار، ج۵ ،ص۵۷۔
۱۰۔سورہ قمر:آیت۴۹۔
۱۱۔سورہ اعلٰی:آیت۳۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23