Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185097
Published : 16/1/2017 19:44

اہلبیت(ع) سے ہمارے رابطہ کی کیفیت کیا ہے؟

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :خداوند عالم نے ہمیں اعلیٰ علیین (سب سے بلند مرتبہ) سے خلق کیا ہے اور ہمارے شیعوں کے دلوں کو اس سے بنایا ہے جس سے ہمیں خلق کیا ہے اور ان کے جسموں کو اس سے کمتر درجہ سے بنایا ہے اس لئے ہمارے شیعوں کے دل ہماری طرف مائل ہوتے ہیں کیونکہ وہ (دل) اسی خمیر سے پیدا ہوئے ہیں جس سے ہم پیدا ہوئے ہیں۔


ولایت پورٹل:
جیسا کہ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ معصومین(ع) کی شناخت کے بغیر نہ ہم دنیا کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی آخرت کی سعادت،نیز ہمیں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ وہی ہماری اصل اور حقیقت ہیں،ہمارے اور ان کے درمیان گہرا رابطہ ہے،یہ حضرات وہی روح خدا ہیں جس کا سایہ اور تجلی تمام انسانوں کے اندر موجود ہے۔
ہم سب کا وجود در اصل ان ہی کے وجود کا صدقہ ہے اور ان کے نور کی تجلی ہے جیسا کہ زیارت جامعۂ کبیرہ میں ہے:«ارواحکم فی الارواح وانفسکم فی النّفوس»۔روحوں میں آپ کی ارواح اور نفوس میں آپ کا نفس ہے۔
اہلبیت(ع) طاہرین سے ہمارا وجودی و تخلیقی رابطہ وتعلق  ہے اس کے لئے مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیں،امام محمد باقر(ع) ارشاد فرماتے ہیں:«انّ اللّٰہ خلقنا من اعلیٰ علّیین وخلق قلوب شیعتنا ممّا خلقنا وخلق ابدانھم من دون ذالک، فقلوبھم تھوی الینا لانّھا خلقت ممّا خُلقنا»۔(۱) خداوند عالم نے ہمیں اعلیٰ علیین (سب سے بلند مرتبہ) سے خلق کیا ہے اور ہمارے شیعوں کے دلوں کو اس سے بنایا ہے جس سے ہمیں خلق کیا ہے اور ان کے جسموں کو اس سے کمتر درجہ سے بنایا ہے اس لئے ہمارے شیعوں کے دل ہماری طرف مائل ہوتے ہیں کیونکہ وہ (دل) اسی خمیر سے پیدا ہوئے ہیں جس سے ہم پیدا ہوئے ہیں۔
امام جعفر صادق(ع) کا ارشاد گرامی ہے:ہمارے پاس خدا کے رازوں میں سے ایک راز اور علم خدا میں سے ایک علم ہے جس کی تبلیغ کے لئے اس نے ہمیں مامور کیا ہے اور ہم نے خدا کی جانب سے اس کی تبلیغ کی ہے لیکن ہمیں اس کا کوئی حامل، اہل اور قبول کرنے والا نہیں مل سکا یہاں تک کہ خداوند عالم نے اسے قبول کرنے کے لئے اسی نور اور خمیر سے کچھ لوگوں کو پیدا کیاجس سے محمد وآل محمد(ص) کوپیدا کیا تھا اور انہیں اپنے فضل ورحمت سے بنایا جس طرح محمد وآل محمد(ص) کو بنایا تھا چنانچہ خدا کی جانب سے ہمیں جس چیز کی تبلیغ کا حکم دیا گیا تھا جب ہم نے انہیں تبلیغ کی تو انہوں نے اسے قبول کرلیا اور اس کے حامل بن گئے اور ہماری یاد ان تک پہونچ گئی تو ان کے دل ہم سے واقف ہو کرہماری حدیث کی جانب متوجہ ہو گئے۔ اگر وہ ہمارے خمیر اور نور سے پیدا نہ ہوئے ہوتے تو ایسانہ ہوتا۔ خدا کی قسم وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ (۲)
بیت(ع) سے بندگان خدا کے رابطہ کے بارے میں نیز یہ کہ وہ ہی تمام لوگوں کا سر چشمہ ہیں امام زمانہ(عج) عجل ارشاد فرما تے ہیں:«نحن صنائع ربّنا والخلق بعد صنائعنا»۔(۳)ہم خدا کی صنعت ہیں اور دیگر مخلوقات ہماری صنعت ہیں۔
.....................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ اصول کافی،ج ۱ ،ص ۳۹۰۔    
۲۔ اصول کافی، ج ۱ ،ص ۴۰۲۔
۳۔ بحار الانوار، ۵۳،ص،۱۷۸۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21