Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185112
Published : 17/1/2017 18:31

کیوں امیر المؤمنین علی (ع) کو قسيم النار و الجنّۃ کہا جاتا ہے ؟

مفضل ابن عمر سے نقل ہوا ہے کہ: میں نے امام صادق (ع) سے عرض کیا کہ امير المؤمنين علی بن ابی طالب (ع) کو کیوں قسيم الجنّۃ و النار کہا جاتا ہے ؟ امام نے فرمایا کیونکہ علی (ع) سے محبت کرنا، ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض و نفاق رکھنا، کفر کی علامت ہے، اور جنت کو اہل ایمان کے لیے خلق کیا گیا ہے اور جہنم کو اہل کفر کے لیے خلق کیا گیا ہے۔ پس علی (ع) کو اس علت کی وجہ سے قسیم الجنۃ و النار کہا گیا ہے۔ پس جنت میں کوئی داخل نہیں ہو گا، مگر جو ان سے محبت کرتا ہو گا اور جہنم میں داخل نہیں ہو گا، مگر جو ان سے بغض و دشمنی رکھتا ہو گا۔


ولایت پورٹل:
سب سے بڑی شرافت و بزرگی جس کا تاج رسول اسلام نے باب مدینۃ العلم کے سر پر رکھا وہ یہ ہے کہ امام جنت و جہنم کی تقسیم کر نے والے ہے کیونکہ جنت و جہنم برحق ہیں اور علی (ع) امام بر حق ہیں، اس لیے جب رسول اکرم (ص) نے حجۃ الوداع سے فارغ  ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا کہ خدا وحدہ لا شریک ہے اور محمد اس کے بندہ اور رسول ہیں ؟ اور جنت و جہنم برحق ہیں اور موت بھی برحق ہے اور موت کے بعد کی زندگی بھی برحق ہے اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اور خدا لوگوں کو قبروں سے نکالنے والا ہے؟ سب نے عرض کیا کہ بیشک ہم گواہی دیتے ہیں  ! فرمایا خدایا تو بھی گواہ رہنا۔
یہ روایت رسول خدا (ص) سے حضرت علی (ع) کی شان میں نقل ہوئی ہے۔
عن عبد الله بن عباس قال:«قال رسول الله (ص): معاشر الناس، إن عليا قسيم النار ، لا يدخل النار ولی له ، و لا ينجو منها عدو له، إنه قسيم الجنة، لا يدخلها عدو له ، و لا يزحزح عنها ولی له»۔(۱)
ترجمہ:عبد اللہ ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا کہ: رسول خدا (ص) نے فرمایا کہ: اے لوگو ! بے شک علی (ع) جہنم کو تقسیم کرنے والے ہیں، جو علی (ع) کا دوست و مدد کرنے والا ہو گا، وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا اور جو انکا دشمن ہو گا، جہنم سے اسکو نجات نہیں ملے گی، کیونکہ وہ جنت کو تقسیم کرنے والے ہیں، جو ان کا دشمن ہو گا، وہ اس میں داخل نہیں ہو گا اور جو بھی انکا دوست و چاہنے والا ہوگا، وہ جنت سے محروم نہیں ہو گا۔
تفسير آيہ و القيا فی جہنم میں بھی یہ مطلب بیان ہوا ہے کہ:
قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْفَحَّامُ: وَ فِی هَذَا الْمَعْنَى حَدَّثَنِی أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرْحَانِ الدُّورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ فُرَاتٍ الدَّهَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ ابْنِ الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِي، عَنْ أَبِی سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ): يَقُولُ اللَّهُ (تَعَالَى) يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِی وَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَدْخِلَا الْجَنَّةَ مَنْ أَحَبَّكُمَا، وَ أَدْخِلَا النَّارَ مَنْ أَبْغَضَكُما، وَ ذَلِكَ قَوْلُهُ (تَعَالَى): «أَلْقِيا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ»۔(۲)
سورہ ق آیت 24 کی تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ:
رسول خدا نے فرمایا کہ: خداوند قیامت کے دن مجھ سے اور علی سے فرمائے گا کہ جو تم سے محبت کرتا ہے تم دونوں اسکو جنت میں داخل کرو اور جو تم سے بغض و دشمنی کرتا ہے تم دونوں اسکو جہنم میں داخل کرو......،
علی (ع) کو قسیم النار و الجنّۃ کہنے کی دلیل:
بعض روایات میں اس نام کی دلیل و علت کو بیان کیا گیا ہے کہ ہم ان میں سے دو روایت کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
«حدثنا أحمد بن الحسن القطان قال : حدثنا أحمد بن يحيی بن زكريا أبو العباس القطان قال : حدثنا محمد بن إسماعيل البرمكی قال : حدثنا عبد الله بن داهر قال : حدثنا أبی ، عن محمد بن سنان عن المفضل بن عمر قال : قلت لأبی عبد الله جعفر بن محمد الصادق " ع " لم صار أمير المؤمنين علی بن أبی طالب قسيم الجنة و النار ؟ قال : لان حبه إيمان و بغضه كفر ، و إنما خلقت الجنة لأهل الايمان، و خلقت النار لأهل الكفر ، فهو عليه السلام قسيم الجنة و النار لهذه العلة فالجنة لا يدخلها إلا أهل محبته، و النار لا يدخلها إلا أهل بغضه»۔(۳)
مفضل ابن عمر سے نقل ہوا ہے کہ: میں نے امام صادق (ع) سے عرض کیا کہ امير المومنين علی بن ابی طالب (ع) کو کیوں قسيم الجنّۃ و النار کہا جاتا ہے ؟ امام نے فرمایا کیونکہ علی (ع) سے محبت کرنا، ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض و نفاق رکھنا، کفر کی علامت ہے، اور جنت کو اہل ایمان کے لیے خلق کیا گیا ہے اور جہنم کو اہل کفر کے لیے خلق کیا گیا ہے۔ پس علی (ع) کو اس علت کی وجہ سے قسیم الجنۃ و النار کہا گیا ہے۔ پس جنت میں کوئی داخل نہیں ہو گا، مگر جو ان سے محبت کرتا ہو گا اور جہنم میں داخل نہیں ہو گا، مگر جو ان سے بغض و دشمنی رکھتا ہو گا۔
پس علی (ع) سے محبت اور ان سے نفرت کرنا، یہ قسیم الجنۃ و النار ہوگی، اور یہ بات اور عقیدہ کسی بھی طرح سے عقیدہ توحید اور خداوند کے قادر و مختار ہونے کے منافی نہیں ہے۔
اسی طرح ایک دوسری روایت ہے کہ جو امام رضا (ع) سے نقل ہوئی ہے کہ:
«حدثنا تميم بن عبد الله بن تميم القرشی قال : حدثنی أبی عن أحمد بن علی الأنصاری عن أبی الصلت الهروی قال : قال المأمون يوما للرضا عليه السلام يا أبا الحسن أخبرنی عن جدك أمير المؤمنين بأيّ وجه هو قسيم الجنة و النار و بأيّ معنی فقد كثر فكری فی ذلک ؟ فقال له الرضا عليه السلام : يا أمير المؤمنين أ لم ترو عن أبيک عن آبائه عن عبد الله بن عباس أنه قال : سمعت رسول الله ( ص ) يقول: حبّ علی إيمان و بغضه كفر ؟ فقال: بلی فقال الرضا عليه السلام : فقسمة الجنة و النار إذا كانت علی حبه و بغضه فهو قسيم الجنة و النار»۔(۴)
ابا صلت ہروی نے نقل کیا ہے کہ: ایک دن مامون نے امام رضا (ع) سے کہا کہ: اے ابو الحسن، ایک بات میرے ذہن میں کہ آپ ہمیں بتائیں کہ آپکے جدّ امیر المؤمنین علی (ع) کو کیوں قسیم الجنۃ و النار کہا جاتا ہے ؟
اس پر امام رضا (ع) نے اس سے فرمایا کہ: اے مامون کیا تم نے اپنے باپ اور اس نے اپنے آباء و اجداد سے اور انھوں نے ابن عباس سے اور اس نے رسول خدا (ع) سے نقل نہیں کیا کہ: رسول خدا نے فرمایا کہ: علی (ع) سے محبت کرنا، ایمان کی اور ان سے دشمنی کرنا، کفر کی علامت ہے ؟ مامون نے جواب دیا: ہاں، اس پر امام رضا (ع) نے فرمایا کہ: انکی محبت اور دشمنی، جنت اور جہنم کو تقسیم کرنے والی ہے، پس اسی وجہ سے علی (ع) کو قسیم الجنۃ و النار کہا جاتا ہے۔
............................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔امالی شيخ صدوق، ص 83،خصال ، شيخ صدوق ، ص 496۔
۲۔سورة ق آیت 24، أمالی للطوسی ،ص290۔
۳۔ علل الشرايع ج 1 ص 162۔
۴۔عيون اخبار الرضا ج 1 ص 92۔
valiasr


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23