Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185116
Published : 17/1/2017 19:31

بداء کا صحیح تصور اور عقیدہ

عالم تکوین وخلقت میں بداء کی وہی حیثیت ہے جو شریعت میں «نسخ »کی ہے،جو حکم منسوخ ہوتا ہے خدا کو اس کے بارے میں پہلے سے علم ہوتاہے در حقیقت ایسا حکم محدود مدت کے لئے ہی جعل کیا جاتا ہے لیکن اس کا اعلان مطلق انداز میں ہوتا ہے،مطلق اعلان سے انسان یہ سمجھتاہے کہ حکم ابدی اور دائمی ہے لیکن ناسخ کے آنے سے اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے۔


ولایت پورٹل:
اہل بیت (ع)کی روایات میں بداء کا عقیدہ دین کے اہم عقائد کا جزء بتایا گیا ہے۔
چنانچہ امام جعفر صادق(ع)کا ارشاد گرامی ہے:«ماعظّم اللّٰه عزوجل بمثل البداء»۔(۱)
ترجمہ:بداء کے عقیدہ سے بڑھ کر کسی چیز کے ذریعہ خدا کی تعظیم وعبادت نہیں ہوئی۔
«ماعبد اللّٰه بشیئٍ مثل البداء»۔(۲)
دیگر روایات میں منقول ہے کہ:بداء کے اقرار کے بغیر خدا وند عالم نے کسی بھی نبی کو نبوت عطا نہیں کی۔(۳)
لغت کے اعتبار سے بداء کے معنی:«مخفی اور پنہاں ہونے کے بعد ظاہر ہونا»ہیں اور جب انسان کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتی ہے تو اس سے مراد یہ ہوتاہے کہ پہلے کوئی چیز پوشیدہ اور مخفی تھی اور بعد میں اسے معلوم ہوئی یا اس کے لئے ظاہر ہوئی ہے۔
واضح طور پر ایسے معنی کا لازمہ جہالت اور رائے میں تبدیلی ہے اور یہ چیز خداوندعالم کے لئے محال ہے،خدا اپنے ازلی اور ناقابل تغییر علم کے ذریعہ ہر چیزکو جانتا ہے اس کے ارادہ میں تبدل و تغیرکا امکان نہیں ہے،اہل بیت(ع)کی روایات میں خداکے لئے اس معنی میں بداء کا انکار کیا گیا ہے اورتاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ خدا کے لئے ایسا بداء ممکن نہیں ہے چنانچہ امام جعفر صادق(ع)ارشاد فرماتے ہیں:«من زعم ان اللّٰه عزوجل یبدو له فی شیء لم یعلمه امس فابرأوا منه»۔(۴)
ترجمہ:اگر کسی شخص  کا یہ عقیدہ ہو کہ جو چیزکل خداکے علم میں نہیں تھی آج اسے معلوم ہو گئی ہے تو ایسے شخص سے اظہار برائت کرو۔
ایک حدیث میں آپ(ع)ارشاد فرماتے ہیں:خدا کسی بھی چیز کا ارادہ کرنے اور انجام دینے سے پہلے اس چیزکو جانتا ہے جو بھی چیز ظاہر ہوتی ہے خدا پہلے سے اس کے بارے میں علم رکھتاہے،جہالت کے باعث بداء کا خدا کے یہاں امکان نہیں ہے۔(۵)
مذکورہ روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے لئے بداء در حقیقت «ابداء»اور«اظہار»کے معنی میں ہے یعنی خدا کسی چیز کو پہلے سے جانتا تھا لیکن بندہ کو معلوم نہیں تھا پھر خدا نے اس چیز کو انسانوں کے لئے ظاہر کر دیا ہے اور اسے اس عنوان سے بداء کہا جاتا ہے کہ فعل الٰہی کے مرحلہ میں ظاہر ہوا ہے ورنہ خدا کی ذات میں جہل یا تغیر کا امکان نہیں ہے۔
انبیاء(ع) ،وحی الٰہی کے ابلاغ اور پہنچانے میں خطا سے محفوظ ہیں اور خدا غیبی طور پر اس سلسلہ میں ان کی نگرانی کرتا ہے اس سلسلہ میں اعلان ہوتاہے:«لِیَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ»۔(۶)
ترجمہ:تاکہ خدا کو علم ہو جائے کہ انھوں نے الٰہی پیغام پہونچا دیا ہے۔
طے شدہ ہے کہ خدا پہلے سے جانتا ہے کہ انبیاء اپنی رسالت اور الٰہی پیغام لوگوں تک پہنچائیں گے لہٰذا یہاں «لیعلم ،تاکہ جان لے»سے مراد ہے کہ یہ حقیقت مقام فعل میں محقق ہو اور انسان اس سے آگاہ ہو جائے،اسی کے مانند وہ آیات بھی ہیں جن میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ خدا بندوں کا امتحان لیتا ہے تاکہ اسے صادقین ،کاذبین ،مجاہدین اور غیر مجاہدین کا«علم»ہو جائے۔ (۷)
جس طرح ان آیات میں علم(جاننا)«اعلام»(بتانا ،آگاہ کرنا)اور«اعلان»کے معنی ہے اسی طرح مذکورہ روایات میں «بداء»(ظاہر ہونا)«ابداء» (اظہار کرنا)کے معنی میں ہے،یہی چیز صحیح بخاری کی ایک روایت میں پائی جاتی ہے،صحیح بخاری کی حدیث ہے«ان ثلاثة فی بنی اسرائیل ابرص ،اقرع واعمی،بدا اللہ ان یبتلیھم فبعث الیھم ملکا۔۔۔۔۔»(۸)ابن اثیر نے اس حدیث میںبدا ء کے معنی فیصلہ اور حکم مراد لئے ہیں اس لئے کہ بداء کے حقیقی معنی «خفا کے بعد ظہور»خد اکے لئے محال ہیں۔
لہٰذا روایات اہل بیت(ع) میں لفظ بدا سے اس کے حقیقی معنی مراد نہیں لینا چاہئے لہٰذا غلط معنی کے سہارا لے کر شیعی عقائد پراعتراض کرنا صحیح نہیں ہے اس لئے کہ جب روایات میں شدت کے ساتھ ان معنی کا انکار کیا گیا ہے اور علماء شیعہ نے بھی اسے غلط قرار دیا ہے تو شیعوں کی طرف ایسی نسبت افتراء وبہتان کے علاوہ کچھ نہ ہوگی۔(۹)
عالم تکوین وخلقت میں بداء کی وہی حیثیت ہے جو شریعت میں «نسخ »کی ہے،جو حکم منسوخ ہوتا ہے خدا کو اس کے بارے میں پہلے سے علم ہوتاہے در حقیقت ایسا حکم محدود مدت کے لئے ہی جعل کیا جاتا ہے لیکن اس کا اعلان مطلق انداز میں ہوتا ہے،مطلق اعلان سے انسان یہ سمجھتاہے کہ حکم ابدی اور دائمی ہے لیکن ناسخ کے آنے سے اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے،اس سلسلہ میں شیخ طوسی(رح) فرماتے ہیں:بداء سے متعلق روایات کے معنی «نسخ»ہیں اگر بداء کا تعلق ان امور سے ہو جن میں نسخ کا امکان ہے اور اگر بداء تکوینی اور خلقت کے امور سے متعلق ہو تو اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ اس فعل کے شرائط تبدیل ہو گئے اس لئے کہ ممکن ہے کہ بعض الٰہی کام انسان کے لئے اس طرح ظاہر ہوں جب کہ انسان اس وقت کو تصور کسی اور طرح کر رہاتھا،یا یہ کہ انسان اس فعل کو تو جانتا تھا لیکن اس کی شرط سے واقف نہیں تھا،لیکن بداء کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ خدا کے لئے کوئی چیز(جسے وہ نہیں جانتا تھا)ظاہر ہوتی ہے،ہم ایسے بداء کے ہرگز قائل نہیں ہیں۔(۱۰)
................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔اصول کافی، ج ۱،باب بداء،حدیث۱۔
۲۔اصول کافی،ج ۱،باب بداء، حدیث۱۔
۳۔اصول کافی، ج ۱،باب بداء، حدیث۱۳۔۱۴۔
۴۔بحار الانوار، ج ۴،ص۱۱۔
۵۔بحارالانوار، ج ۴،ص۱۲۱    ۔
۶۔سورہ جن:آیت۲۸۔
۷۔سورہ عنکبوت:آیت۳،سورہ محمد:آیت۳۱۔
۸۔صحیح بخاری، ج ۳،ص۲۵۸ ،کتاب بدء الخلقة۔
۹۔النہایة فی غریب الحدیث والاثر، ج۱،ص۱۰۹۔
۱۰۔کتاب الغیبة، ص۲۶۴۔۲۶۵۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23