Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185140
Published : 19/1/2017 16:57

جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام کی دشمن کو نصیحتیں(۱)

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے جنگ جمل سے پہلے کئی افراد کو نصیحت کی جیسے کلیب جرمی، طلحہ، زبیر اور جناب عائشہ، بعض نے نصیحت کا اثر لیا اور بعض نے اثر نہ لیا، اس مضمون میں ان نصیحتوں میں سے بعض کو بیان کیا جارہا ہے۔


ولایت پورٹل:
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں کی ہدایت کرنے کا عہدہ اور منصب کیونکہ حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ذمہ تھا تو آپ (علیہ السلام) کو جب بھی موقع ملا، آپ (علیہ السلام) نے لوگوں کی ہدایت کے لئے مکمل طور پر کوشش کی،مختلف جنگوں کے بارے میں منقول ہے کہ حضرت علی علیہ السلام دشمن سے جنگ کرنے سے پہلے، اسے نصیحت کرتے اور حق کے راستے پر آجانے کی ہدایت کیا کرتے تھے،ان جنگوں میں سے ایک جنگ، جنگ جمل ہے،اس جنگ کےسلسلہ میں آپ (علیہ السلام) کی چند نصیحتوں کو ہم یہاں پر نقل کرتے ہیں۔
کلیب جرمی: جب امیرالموٴمنین(ع)بصرہ کے قریب پہنچے تو وہاں کی ایک جماعت نے ایک شخص کو اس مقصد سے آپ کی خدمت میں بھیجا کہ وہ ان کے لیے اہل جمل کے متعلق حضرت کے موقف کو دریافت کرے تاکہ ان کے دلوں سے شکوک مٹ جائیں، چنانچہ حضرت نے اس کے سامنے جمل والوں کے ساتھ اپنے رویہ کی وضاحت فرمائی جس سے اسے معلوم ہو گیا کہ حضرت حق پر ہیں تو آپ نے اس سے فرمایا کہ (جب حق تم پر واضح ہو گیا ہے تو اب) بیعت کرو۔،اس نے کہا کہ میں ایک قوم کا قاصد ہوں اور جب تک ان کے پاس پلٹ کر نہ جاؤں کوئی نیا قدم نہیں اٹھا سکتا تو حضرت نے فرمایا کہ (دیکھو) اگر وہی لوگ جو تمہارے پیچھے ہیں اس مقصد سے تمہیں کہیں پیشرو بنا کر بھیجیں کہ تم ان کے لیے ایسی جگہ تلاش کرو، جہاں بارش ہوئی ہو اور تم (تلاش کے بعد) ان کے پاس پلٹ کر جاؤ، اور انہیں خبر دو کہ سبزہ بھی ہے اور پانی بھی ہے اور وہ تمہاری مخالفت کرتے ہوئے خشک اور ویران جگہ کا رخ کریں تو تم اس موقعہ پر کیا کرو گے،اس نے کہا کہ میں ان کا ساتھ چھوڑ دوں گا اور ان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہریالی اور پانی کی طرف چل دُوں گا، تو حضرت نے فرمایا کہ (جب ایسا ہی کرنا ہے) تو پھر (بیعت کے لیے ہاتھ بڑھاؤ! وہ شخص کہتا ہے کہ خدا کی قسم حجت کے قائم ہوجانے کے بعد میرے بس میں نہ تھا کہ میں بیعت سے انکار کر دیتا، چنانچہ میں نے بیعت کر لی۔(یہ شخص کلیب جرمی کے نام سے موسوم ہے)۔(۱)
زبیر کو نصیحت:جنگ جمل شروع ہونے سے پہلے حضرت نے ابن عباس کو زبیر کے پاس اس مقصد سے بھیجا کہ وہ اسے اطاعت کی طرف پلٹائے، تو اس موقعہ پر اس سے فرمایا:«اس سے یہ کہنا کہ تمہارے ماموں زاد بھائی نے کہا ہے کہ تم حجاز میں تو مجھ سے جان پہنچان رکھتے تھے اور یہاں عراق میں آکر بالکل اجنبی بن گئے، آخر اس تبدیلی کا کیا سبب ہے»۔(۲)
حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے بصرہ میں پہنچتے ہی، عہد شکن لوگوں کو نصیحت فرمائی تاکہ جنگ کے واقع ہونے کی روک تھام کرلیں، لیکن نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور انہوں نے آپ (علیہ السلام) کے ایک صحابی کو شہید کرنے کے ذریعہ جنگ کا آغاز کردیا، البتہ زبیر، کو جنگ کے آغاز سے پہلے، حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جس حدیث کی یاد دہانی کرائی ، کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن تم سے فرمایا تھا:کہ زبیر  تم علی سے جنگ کے لئے کھڑے ہوجاؤگے۔ وہ لشکر سے کنارہ کش ہوگئے اور انہیں  بصرہ سے باہر عمرو ابن جرموز نے قتل کردیا۔(۳)
حارث ابن حوط: اس شخص نے حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) سے کہا:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ طلحہ، زبیر اور عائشہ باطل پر ہیں؟ حضرت (علیہ السلام) نے فرمایا:«اعرف الحق تعرف اهله، و اعرف الباطل تعرف اهله»۔(۴)
حق کو پہنچان لو تو تم حق والوں کو خود بخود پہچان جاؤگے اور اسی طرح اگر باطل کو پہچان لو گے تو باطل والے خود بخود سمجھ میں آجائیں گے۔
.......................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔نہج البلاغہ، خطبہ 168، ترجمہ علامہ مفتی جعفر حسین (اعلی اللہ مقامہ)۔
۲۔نہج البلاغہ، خطبہ 31، ترجمہ علامہ مفتی جعفر حسین (اعلی اللہ مقامہ)۔
۳۔طبری، ج 4، ص 511؛ شهیدی، علی از زبان علی، ص 104۔
۴۔الجمل، ص 330۔
پیروان ولایت


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20