Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185153
Published : 19/1/2017 20:17

کیا بداء کا عقیدہ خدا کے قادر المطلق ہونے کے منافی ہے؟

بداء کے متعلق پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:راہ خدا میں صدقہ دینا ، والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرنا اور اچھے کام انجام دینا شقاوت کو سعادت میں تبدیل کر دیتے ہیں،عمر میں اضافہ کرتے ہیں اور برے حوادث کو دور کر دیتے ہیں۔


ولایت پورٹل:
آئمہ اطہار (ع) کی روایات میں بداء کا عقیدہ یہودیوں کے عقیدہ کے ابطال کی خاطر پیش کیا گیا ہے کہ یہودی قدرت خدا کو محدود سمجھتے تھے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:«وَقَالَتْ الْیَهُودُ یَدُ اﷲِ مَغْلُولَةٌ»۔(۱)کی تفسیر کے سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ یہودیوں کا مقصود یہ ہے کہ خدا خلقت کا ئنات سے فارغ ہو چکا ہے اور اب کائنات میں کمی یا زیادتی ہونے والی نہیں ہے خداوند ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرماتا ہے:«غلت ایدیھم لعنوا بما قالوا بل یداہ مبسوطتان ینفق کیف یشاء»۔(۲)
پھر آپ نے آیۂ محو واثبات سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا:الم تسمع اللہ عز وجل یقول:«یَمْحُوا اﷲُ مَا یَشَاُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہُ أُمُّ الْکِتَابِ»۔(۳)
سلیمان مردزی بداء کا منکر تھا اس سے مناظرہ کرتے ہوئے امام رضا(ع) نے ارشاد فرمایا:ایسامحسوس ہوتا ہے کہ تم یہودیوں کا عقیدہ بیان کر رہے ہو،سلیمان نے پوچھا یہودیوں کا نظریہ کیا ہے؟امام رضا(ع)نے فرمایا: یہودی کہتے ہیں:«ید اللّٰه مغلولة» اور اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ خداوند عالم خلقت کائنات کے کام سے فارغ ہو چکا ہے اور اب کسی چیز کو وجود عطاکرنے والا نہیں ہے۔(۴)
ایسی روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بداء کے عقیدہ کو رب العالمین کی سب سے بڑی تعظیم اور حقیقی عبادت کیوں کہا گیا ہے۔
عقیدہ بداء اور تاثیر اعمال
بداء کے سلسلہ میں جومعروضات پیش کئے گئے ان کا تعلق خدا سے تھا یعنی بداء سے متعلق قدرت الٰہی کے غلبہ اور احاطہ کو بیان کرنا مقصود تھا،بداء کے عقیدہ کا ایک رخ اور بھی ہے جس کا تعلق انسان کے نیک اور برے اعمال سے ہے کہ جن کا اثر مستقیم یا غیر مستقیم طور پر اس کی عاقبت اور انجام پر پڑتا ہے۔
انسان کی حیات اور عاقبت میں جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں وہ انسان کے نیک وبد اعمال سے متاثر ہوتی ہیں مثلاً صلہ رحم عمر میں اضافہ اور قطع رحم عمر میں کمی کا سبب ہوتاہے،صدقہ بہت سے ناخوشگوار حوادث حتی کہ موت کو بھی ٹال دیتا ہے،والدین کے عاق کردینے سے موت نزدیک ہو جاتی ہے جب کہ ان کے ساتھ نیک برتاؤ اور حسن سلوک انسان کی زندگی میں خیر وبرکت کا موجب ہوتا ہے۔
 یہ تمام باتیں مسلمانوں کے مسلمات میں ہیں اور آیات قر آنی اور روایات معصومین(ع)صراحت وتاکیدکے ساتھ ان چیزوں کو بیان کرتی ہیں۔
صحیح مسلم میں انس ابن مالک سے روایت ہے کہ میں نے پیغمبر اکرم(ص) کو فرماتے سنا ہے کہ:«جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں اضافہ ہو اور اسے  دیر سے  موت آئے اسے صلۂ رحم کرنا چاہئے»۔(۵)
جلال الدین سیوطی حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اس آیۂ کریمہ :«یَمْحُوا اﷲُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہُ أُمُّ الْکِتَابِ»۔کی تفسیر کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) سے دریافت فرمایا؟ آنحضرت(ص) نے فرمایا:«اس آیت کی تفسیر سے تمہاری اور اپنی امت کی آنکھیں روشن کردوں گا پھر آپ نے فرمایا: راہ خدا میں صدقہ دینا ، والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرنا اور اچھے کام انجام دینا شقاوت کو سعادت میں تبدیل کر دیتے ہیں،عمر میں  اضافہ کرتے ہیں  اور برے حوادث کو دور کر دیتے ہیں»۔(۶)        
عیاشی امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ(ع) نے فرمایا:«پیغمبر اکرم (ص) کا ارشاد ہے کہ جو شخص قطع رحم کرتا ہے اور اس کی عمر ابھی تینتیس سال باقی ہے تو خدا اس کی عمر میں تین سال یا اس سے کم مدت کی کمی کر دیتا ہے» ۔پھر آپ نے آیۂ کریمہ:«یَمْحُوا اﷲُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہُ أُمُّ الْکِتَابِ»کی تلاوت فرمائی۔(۷)
ممکن ہے کوئی یہ اعتراض کرے کہ پہلے تو «قضا و قدر الٰہی»‘کا عقیدہ بیان کیا گیا اس عقیدہ کے ساتھ محو واثبات اور انسان کی عاقبت میں تغیر وتبدل کیسے صحیح ہو سکتا ہے دونوں عقیدے آپس میں متعارض ہیں؟
اس اعتراض کاجواب یہ ہے کہ محو واثبات اور انسانی عاقبت میں تغیر وتبدل بھی خاص حالات وشرائط کے ساتھ قضا و قدرالٰہی کے تابع اور قضا قدرالٰہی اس کو بھی شامل ہے،جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا گیا کہ خدا کے علم ازلی سے کوئی چیز پوشیدہ اور مخفی نہیں ہے لیکن کائنات کے حوادث مخصوص اسباب وشرائط کے  تابع ہیں اور تدریجاً وجود میں آتے ہیں،خدا کی حکیمانہ مشیت نے نظام کائنات کو اسی طرح مقدر فرمایاہے۔(۸)
گذشتہ بحثوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ بداء کا مسئلہ فقط لفظی نزاع ہے،بداء کے منکر جس چیزکا انکار کرتے ہیں بداء کے معتقد اس کے قائل ہی نہیں ہیں،منکرین اس بنا پر بداء کا انکار کرتے ہیں کہ اس سے علم الٰہی میں تغیر وتبدیلی لازم آتی ہے۔(۹)
لیکن بداء کا یہ لازمہ صرف انسان کے بارے میں صحیح ہے نہ کہ اس بداء کے سلسلہ میں جس کا تذکرہ ائمہ طاہرین(ع) کی روایات میں موجود ہے اور علماء امامیہ اسی کے قائل ہیں جیسا کہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا۔(۱۰)
........................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔سورہ مائدہ:آیت۶۴ ۔
۲۔توحید شیخ صدوق، ص۱۶۷ ،بحار الانوار،ج۴،ص۱۰۴۔
۳۔سورہ رعد:آیت۳۹۔
۴۔توحید شیخ صدوق، ص۴۴۴،بحار الانوار،ج۴،ص۹۶۔
۵۔«من سرّہ ان یسبط علیه رزقه او ینسأ فی اثرہ فلیصل رحمه»صحیح مسلم ،ج۴،ص۱۹۸۲۔
۶۔تفسیر الدر المنشور، ج ۴،ص۶۶۔
۷۔تفسیر عیاشی،ج۲،ص۲۲۰ ۔
۸۔تفسیر کبیر ،فخر الدین رازی،  ج۱۹،ص۶۵۔۶۶،القواعد والفوائد، شھید اول، ج۲ ،ص ۵۴ تا ۵۶ ملاحظہ فرمائیں۔
۹۔تفسیر کبیر ،فخر الدین رازی،  ج۱۹،ص۶۶ ۔
۱۰المیزان،ج۱۱،ص۳۸۱۔۳۸۲۔مسئلہ بداء سے متعلق مزید تفصیلات کے لئے حجۃ الاسلام علی ربانی گلپائگانی کی کتاب«الالهیات فی مدرسة اھل البیت (ع)» ملاحظہ فرمائیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23