Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185156
Published : 21/1/2017 16:7

آخرکاراقوام متحدہ کو بھی دکھائی دیے روہنگیا مسلمانوں پر ہورہے مظالم

اقوام متحدہ نے میانمار میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی تصدیق کر دی ہے

ولایت پورٹل:میانمار میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ محترمہ یانگ ھی لی نے میانمار کا بارہ روزہ دورہ کرنے اور روہنگیا مسلمانوں کی بحرانی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی ہے کہ صوبہ راخین میں نواکتوبر کے حملوں کے الزام میں چار سوپچاس سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،یانگ ھی لی،پانچ بار میانمار کا دورہ کر چکی ہیں تاہم انھوں نے پہلی بار صوبہ راخین کے ماؤنگداو علاقے کا دورہ کیا ہے جہاں انتہاپسند بدھشٹوں نے روہنگیا مسلمانوں کو بدترین جارحیت کا نشانہ بنایا ہے،نو اکتوبر کو صوبہ راخین کے شہر ماؤنگداؤ کے اطراف میں مسلح افراد کے ہاتھوں کچھ پولیس اسٹیشنوں پر حملوں کے بعد سے روہنگیا مسلمانوں پر انتہاپسند بدھشٹوں کے تشدد اور حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا،ان حملوں کے نتیجے میں اب تک تقریبا سو روہنگیا مسلمان اپنی جان سے ہاتھ دھوچکے ہیں جبکہ اس علاقے کے ساٹھ ہزار مسلمان ، دریائے ناف کو پار کر کے بنگلادیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں،میانمار میں دوہزار بارہ سے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں جن میں اب تک ہزاورں روہنگیا مسلمان مارے جاچکے ہیں،اسلامی تعاون تنظیم نے جمعرات کو کوالالامپور میں اپنے اجلاس میں میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے تشدد پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت میانمار سے امن و امان بحال کرنے، بین الاقوامی قانون کا پاس و لحاظ رکھنے اور انسانی حقوق کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سحر



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23