Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185172
Published : 22/1/2017 16:36

جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام کی دشمن کو نصیحتیں(۲)

حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام ) نے جیسے جنگ خندق میں عمرو ابن عبدود کو نصیحت کی اور اس کو تین تجویزیں دیں، مگر اس نے بہتر راستہ کو چھوڑ کر اپنے باطل خیال کی بنیاد پر اپنی ہلاکت کا راستہ اختیار کرلیا، حضرت نے اپنے اسی طریقہ کے مطابق جنگ جمل کے سلسلہ میں بھی مختلف افراد کو نصیحت کی مگر بعض نصیحت سے متاثر ہوگئے اور بعض نے مخالفت کی تو انہوں نے امام وقت کی نصیحت قبول نہ کرنے کا نتیجہ پا لیا۔


ولایت پورٹل: ہم نے گذشتہ مضمون  میں جنگ جمل میں حضرت امیر علیہ السلام کی دشمن کو نصیحتیں شروع کی جس میں ہم نے بیان کیا تھا کہ حضرت نے ان نصیحت و وعظ کے ذریعہ مقابل پر اپنی حجت تمام کی تاکہ مسلمان حق کے راستہ پر پلٹ آئیں اور بیکار میں ان کا خون نہ بہایا جائے آج اسی سلسلہ کی دوسری کڑی قارئین کرام کی خدمت میں حاضر ہے،لہذا تکمیل معلومات کے لئے ذیل میں دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے!

جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام کی دشمن کو نصیحتیں(۱) 
صعصعۃ ابن صوحان اور ابن عباس کو نصیحت کرنے کے لئے بھیجا: امام (علیہ السلام) نے صعصعۃ ابن صوحان کو خط دے کر بصرہ بھیجا، انہوں نے طلحہ اور زبیر سے بات چیت کی، جب عائشہ سے بات کی تو محسوس کیا کہ وہ ان دو افراد سے زیادہ جنگ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، لہذا صعصعۃ واپس پلٹ آئے،پھر آپ (علیہ السلام) نے عبداللہ ابن عباس کو بصرہ بھیجا،انہوں نے طلحہ سے کہا: کیا تم نے بیعت نہیں کی تھی؟ طلحہ نے کہا: تلوار میرے سر پر تھی،ابن عباس نے کہا: میں خود دیکھ رہا تھا کہ تم نے اختیار سے بیعت کی،طلحہ نے عثمان کے خون کی بات کی، ابن عباس نے کہا: کیا ایسا نہیں تھا کہ عثمان دس دن اپنے گھر کے کنویں سے پانی پیتا رہا اور تم نے اسے میٹھا پانی نہ پینے دیا، تب علی (علیہ السلام) تمہارے پاس آئے اور تم سے فرمایا کہ اسے پانی پینے دو،اس کے بعد ابن عباس نے عائشہ سے بات کی،عائشہ کو اپنی فتح کا اتنا اطمینان تھا کہ اس نے کسی بات پر نرمی نہ دکھائی، ابن عباس نے مضبوط دلیلوں سے کوشش کی کہ ان کو اس خطرہ سے بچائیں جس سے ان کا سامنا ہونے والا ہے، لیکن اس نے نہ مانا۔(۱)
حضرت نے عائشہ کو خط لکھ کر نصیحت فرمائی: «وأنت يا عائشة فإنّك خرجت من بيتك عاصية للّه ولرسوله تطلبين أمراً كان عنك موضوعا، ثم تزعمين انك تريدين‏الاصلاح بين المسلمين، فخبريني ما للنساء وقود الجيوش والبروز للرجال، والوقوع بين اهل القبلة وسفك‏الدماء المحرمة؟ ثم انك طلبت على زعمك دم عثمان، وما انت وذاك؟ عثمان رجل من بني امية وانت من تيم،ثم بالامس تقولين في ملا من اصحاب رسول اللّه (ص): اقتلوا نعثلا قتله اللّه فقد كفر، ثم تطلبين اليوم‏بدمه؟ فاتقي اللّه وارجعي الى بيتك، واسبلي عليك سترك، والسلام۔(۲)
ترجمہ:حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے عائشہ کو خط تحریر فرمایا: اور تم اے عائشہ، بیشک تم اپنے گھر سے اس حال میں نکل پڑی کہ  تم نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی،تم ایسے کام (عثمان کے خون) کی خواہاں ہو جو تمہاری ذمہ داری نہیں ہے، پھر تم جنگ کرکے یہ  سمجھتی ہو کہ تم مسلمانوں کے درمیان اصلاح کرا دو گی، مجھے بتاؤ کہ عورتوں کا فوجوں کی سربراہی اور مردوں کے سامنے خودنمائی اور اہل قبلہ کے درمیان واقع ہونے اور محترم خونوں کو بہانے سے کیا تعلق؟ پھر تم اپنے گمان کے مطابق عثمان کی خونخواہی کرتی ہو، تمہارا عثمان کے خون سے کیا تعلق؟ عثمان بنی امیہ کا ایک مرد اور تم  قبیلہ بنی تیم سے ہو،کل تک تم رسول اللہ (ص) کے بڑے اصحاب میں کہتی تھی: نعثل کو قتل کردو!اللہ اسے قتل کرے، بیشک وہ کافر ہے، پھر آج تو اس کا خون طلب کررہی ہے؟ اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر پلٹ جاؤ اور اپنے کو پردہ میں چھپا لو،والسلام۔
نتیجہ: حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام ) نے جیسے جنگ خندق میں عمرو ابن عبدود کو نصیحت کی اور اس کو تین تجویزیں دیں، مگر اس نے بہتر راستہ کو چھوڑ کر اپنے باطل خیال کی بنیاد پر اپنی ہلاکت کا راستہ اختیار کرلیا، حضرت نے اپنے اسی طریقہ کے مطابق جنگ جمل کے سلسلہ میں بھی مختلف افراد کو نصیحت کی مگر بعض نصیحت سے متاثر ہوگئے اور بعض نے مخالفت کی تو انہوں نے امام وقت کی نصیحت قبول نہ کرنے کا نتیجہ پا لیا۔

...................................................................................................................................................................................................................................

حوالہ جات:
۱۔ اخبار الطوال، ص 147۔
۲۔تذكرة الخواص، سبط بن الجوزي الحنفي، ص‏69۔

پیروان ولایت


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21