Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185175
Published : 22/1/2017 17:18

ٹرمپ کے آتے ہی صہیونیوں کی رالیں ٹپکنا شروع(ایک تبصرہ)

امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے ساتھ ہی، صیہونی حکومت نے جنوبی بیت لحم میں واقع " گوش عتصیون" نامی کمپلیکس میں ستائیس سو رہائشی مکانات بنانے کی منظوری دی ہے-


ولایت پورٹل:امریکی صدر ٹرمپ کے تقریب حلف برداری کے ساتھ ہی، جو جمعہ بیس جنوری کو ہوئی ، ٹرمپ پینتالیسویں صدر کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس میں داخل ہوگئے،در ایں اثنا ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے ساتھ ہی صییونی آبادکاروں کے انتہا پسند اراکین پارلیمنٹ کو یہ توقع ہے کہ ، مقبوضہ علاقوں میں نئی صیہونی کالونیوں کی تعمیرکے بارے میں امریکہ کے نئے صدر اپنے وعدے پورے کریں گے،صیہونی حکومت کے لئے امریکہ کی ہمہ جانبہ حمایت ، غرب اردن میں نئی کالونیوں کی تعمیر کی حمایت، امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس فوری منتقل کرنے کا اعلان ، تل ابیب میں امریکی سفیر کی حیثیت سے ایک یہودی کی تقرری اور اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مذاکرات میں امریکی نمائندے کی حیثیت سے ایک یہودی کا انتخاب، ٹرمپ کی جملہ پالیسیوں میں شامل ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کا صیہونی حکومت کے لئے حمایتی موقف اس امر کا غماز ہے کہ امریکہ کی نئی حکومت، صیہونی لابی کے زیر اثر اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے- امریکہ کے تمام صدور نے صیہونی لابی کی حمایت کے تحفظ کی غرض سے ، کہ جو ان صدور کی کامیابی میں موثر رہی ہے،  ہمیشہ صیہونی حکومت کی حمایت کے موقف پر تاکید کی ہے اور یہ مواقف فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیاں جاری رکھنے کے لئے امریکہ کے ہری جھنڈی دکھانے کے مترادف ہے،قابل ذکر ہے کہ قدس کی غاصب حکومت کی اساس ، توسیع پسندی پر استوار ہے اور صیہونی حکومت کے تمام گروہوں اور پارٹیوں کی سرگرمیوں کا محور بھی یہی ہے- صیہونی حکومت مختلف اقدامات منجملہ صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے ذریعے فلسطینی علاقوں کی آبادی کو اپنے حق میں تبدیل کرنے میں کوشاں ہے- صیہونی حکومت یہودی کالونیوں کی تعمیر کے ذریعے اس کوشش میں ہے کہ فلسطینی علاقوں کو دیگر علاقوں سے جدا کردے تاکہ فلسطینی علاقوں کو جدا کرنے کے ساتھ ہی دارالحکومت  بیت المقدس پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن جائے،اسرائیلی حکومت  بیت المقدس کو جغرافیائی اور آبادی کے اعتبار سے تبدیل کرنے میں کوشاں ہے جس کے خلاف اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اپنا شدید ردعمل ظاہر کیا ہے- اس عالمی ادارے نے گذشتہ برسوں میں متعدد قراردادوں منجملہ 478 کی منظوری کے ذریعے صیہونی حکومت کے تسلط پسندانہ موقف پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے- یہودی کالونیوں کی تعمیر جاری رکھنے کی پالیسی کی امریکہ کی جانب سے حمایت ، سلامتی کونسل کی آخری قرارداد یعنی 2334 کی کھلی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے،بہر صورت اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات کی امریکہ کی جانب سے حمایت اس امر کی غماز ہے کہ یہودی کالونیوں کی تعمیر روکے جانے کی ضرورت اور مذمت کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف، امریکہ ڈٹا ہوا ہے اور اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ صیہونی حکومت، امریکی حمایت کے سائے میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو مزید بڑھاوا دے گی- ان حالات نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی مشترکہ سازشوں کے مقابلے میں فلسطینیوں کے ہوشیار رہنے کو ماضی سے زیادہ ضروری کردیا ہے-
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21