Tuesday - 2018 Sep 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185176
Published : 22/1/2017 17:32

معاشرہ کی تربیت کا نبوی (ص) طریقہ کار

قرآن کی بعض آیتوں میں «یزکیهم» کا جملہ «یعلمھم» سے پہلے یا اس کے بعد آنے کا فلسفہ بھی یہی ہے اور «تزکیه»سے مراد لوگوں کو پاک و طاہر بنانا ہے؛ ٹھیک اس طبیب کی طرح جو اپنے مریض کو صرف کسی کام کے انجام دینے یا ترک کرنے کی ہی ہدایت نہیں دیتا بلکہ اس کے علاوہ اسے ایک خاص مقام پر رکھ کر اس کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور جو چیزیں اس کے لئے مضر ہیں انہیں اس سے دور رکھتا ہے۔


ولایت پورٹل:
ایک طریقہ تو یہ ہے کہ کوئی حکم دے یا نصیحت کرے کہ لوگ نیک اخلاق کے حامل بنیں، راہ خدا میں ایثار و صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں، ظلم نہ کریں اور عدل و انصاف کے قیام میں معاون ہوں،یہ حکم دینا، نصیحت کرنا اور تعلیم دینا ہوا،یہ بڑا اچھا کام ہے اور خود رسول اکرم (ص)بھی تعلیم دیتے تھے، چنانچہ «یعلمھم» سے واضح ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کو معرفت و زندگی کا درس دیتے تھے لیکن دوسرا طریقہ اس سے بھی بالاتر ہے یعنی خود معلم اپنے عمل اور کردار کے ذریعہ معاشرہ میں اسلامی فرائض و اخلاق کا رنگ پیدا کردیتا ہے، لوگوں کے غلط عقیدوں کا مقابلہ کرتا ہے، جاہلانہ احساسات اور غیر اسلامی اخلاق و صفات کے خلاف قیام کرتا ہے اور زینہ بزینہ مناسب طریقوں کے ذریعہ وہ کارنامہ انجام دیتا ہے کہ معاشرہ کی فضا اور زندگی ان اخلاق و صفات کے ساتھ ممزوج ہوجاتی ہے،معاشرہ کی ترقی اور صحیح اسلامی اخلاق کے نفاذ کے لئے یہی طریقہ درکار ہے،شاید قرآن کی بعض آیتوں میں «یزکیهم» کا جملہ «یعلمھم» سے پہلے یا اس کے بعد آنے کا فلسفہ بھی یہی ہے اور «تزکیه»سے مراد لوگوں کو پاک و طاہر بنانا ہے؛ ٹھیک اس طبیب کی طرح جو اپنے مریض کو صرف کسی کام کے انجام دینے یا ترک کرنے کی ہی ہدایت نہیں دیتا بلکہ اس کے علاوہ اسے ایک خاص مقام پر رکھ کر اس کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور جو چیزیں اس کے لئے مضر ہیں انہیں اس سے دور رکھتا ہے۔
حضور اکرم (ص) نے 23 برس پر مشتمل اپنے زمانہ نبوت میں اور بالخصوص اس دور میں یہی طریقہ اختیار کیا  جو مدینہ کی زندگی، اسلامی حاکمیت اور اسلامی حکومت کی تشکیل کا دور تھا۔
 tebyan


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 18