Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185179
Published : 22/1/2017 18:58

قاعدہ لطف اور شیعہ عقیدہ؟

لطف سے مراد وہ افعال ہیں جو خدا وند عالم بندوں کی بھلائی کے لئے انجام دیتا ہے تاکہ ہدایت کے حالات واسباب ان کے لئے مکمل طور پر محقق ہو جائیں،اس سے قبل بیان کیا گیا تھا کہ اخروی سعادت انسان کا مقصد خلقت ہے اور اس مقصد تک رسائی عبادت اور نیک اعمال کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔


ولایت پورٹل:«لطف»حکمت الٰہی کا لازمہ اور خدا کے صفات فعلیہ میں سے ہے،لطف سے مراد وہ افعال ہیں جو خدا وند عالم بندوں کی بھلائی کے لئے انجام دیتا ہے تاکہ ہدایت کے حالات واسباب ان کے لئے مکمل طور پر محقق ہو جائیں،اس سے قبل بیان کیا گیا تھا کہ اخروی سعادت انسان کا مقصد خلقت ہے اور اس مقصد تک رسائی عبادت اور نیک اعمال کے ذریعہ ہی ممکن ہے:«إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِی خُسْرٍ إِلاَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ»۔
بعثت انبیاء اور آسمانی کتابوں کا نزول انسان کے اس ہدف و مقصد تک پہنچنے کے اہم ترین اسباب ہیں اس طرح نبوت و شریعت، لطف خدا اور حکمت الٰہی کے واضح ترین مصادیق میں سے ہیں لہٰذا یہ کام خدا پر واجب ہیں۔
وعد و وعید،بشارت وانذار ،توحید و خداپرستی کی مختلف ذرائع سے دعوت ،امر بالمعروف، نہی عن المنکر،نبوت کا امامت کے ذریعہ تسلسل اور ایسے افراد کے ذریعہ انسانوں کی رہنمائی جو اپنے علمی وعملی صفات وکمالات کے ذریعہ وجود پیغمبر (ص) کے خلا کو پر کر سکیں یہ سب لطف خد ا کے مصادیق ہیں اور حکمت الٰہی کے بموجب ان کا انجام دینا خدا پر واجب ولازم ہے،قرآن کریم خدا کے لئے ہدایت کو واجب قرار دیتے ہوئے اعلان کرتا ہے:«وَعَلَی الله قَصْدُ السَّبِیلِ»۔(۱)
ترجمہ: اور درمیانی راستہ کی ہدایت خدا کی اپنی ذمہ داری ہے۔
دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے:«إِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدَیٰ»۔(۲)
ترجمہ: بےشک ہدایت کی ذمہ داری ہم پر ہے۔
جیسے کہ ربوبیت کی بنیاد پر موجودات کو روزی عطا کرنا بھی اس نے اپنے اوپر واجب ولازم قرار دیاہے:«وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْأَرْضِ إِلاَّ عَلَی الله رِزْقُهَا»۔(۳)
طاہر سی بات ہے کہ خدا پر ہدایت کے واجب ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کام کسی نے خدا پر واجب کیا ہے اس لئے کہ کوئی خدا سے بلند وبرتر نہیں ہے جو خدا کے لئے کسی کام کو واجب ولازم کرے بلکہ مقصود یہ ہے کہ رحمت وحکمت الٰہی ہدایت کا تقاضا کرتی ہے اور خدا قطعی طور پر اسے انجام دیتا ہے،اور اس سلسلہ میں عقل کا کردار صرف اس قطعی وبدیہی اصل کی معرفت ہے۔
لہذا یہ اعتراض۔(۴) کہ«لطف کو خداپر واجب سمجھنے کا مطلب تو اس کی قدرت وسلطنت کو محدود کرنا ہے»۔در اصل قاعدہ  لطف کو صحیح طرح سے نہ سمجھ پانے اور متکلمین عدلیہ کی اصطلاح  «وجوب علیٰ اللّٰه»سے ناواقفیت کی بنا پر ہی ہو سکتا ہے۔
اس اشتباہ کی حقیقت سے باخبر افراد میں شیخ محمد عبدہ بھی ہیں،اشاعرہ کا کلام نقل کرنے کے بعد کہ جس میں اشاعرہ نے معتزلہ کی طرف نسبت دی ہے کہ معتزلہ خدا کو مکلف اور مسئول سمجھتے ہیں شیخ عبدہ کہتے ہیں:معتزلہ کا ایسا عقیدہ ہرگزنہیں ہے ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو چیز خدا اپنے صفات کمالیہ کے باعث اپنے اوپر واجب قرار دیتا ہے اس کے علاوہ خدا پر کچھ واجب نہیں ہے اور یہی عقیدہ سلف صالحین کا بھی تھا۔(۵)
...................................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔سورہ نحل:آیت۹    ۔
۲۔سورہ لیل:آیت۱۲ ۔
۳۔سورہ ھود:آیت۶۔
۴۔اشاعرہ نے یہ اعتراض معتزلہ اور امامیہ پر کیا ہے جو حسن وقبح عقلی ،قاعدۂ لطف اور وجوب علی اللہ کے قایل ہیں،متکلمین عدلیہ اس کا جواب یوں دیتے ہیں کہ:وجوب علی اللہ میں وجوب سے مراد«فقہی وجوب»نہیں ہے بلکہ وجوب عقلی یعنی خدا کے کمال ذاتی اور کمال فعلی کے درمیان ملازمہ مراد ہے یعنی چونکہ اس کی ذات میں کسی طرح کا نقص وعیب ممکن نہیں ہے اسی طرح اس کے فعل میں بھی نقص و عیب کا امکان نہیں ہے لہٰذا خدا کبھی بھی حکمت ورحمت کے برخلاف عمل انجام نہیں د ے گا۔
۵۔القواعد الکلامیہ، ص۷۴تا ۷۷ ملاحظہ فرمائیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23