Sunday - 2018 مئی 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185219
Published : 24/1/2017 18:50

بیوی پر شوہر کےحقوق(۶)

اکثر اوقات یہ فضول خرچیاں ،نادان اور خودغرض خواتین میں پائی جاتی ہیں جب بھی کسی خوبصورت چیز کو دیکھ لیتی ہیں تو فوراً ہی انہیں وہ چیز گھر میں لانے کی ہوس ہوجاتی ہے اور بے چارے شوہر کی ناک میں دم کردیتی ہیں اور اس طرح اس کے سامنے بڑبڑاتی ہے کہ شوہر مجبور ہوکر کسی سے قرض لیتا ہے یا قسطوں پر وہ چیز خرید کر گھر لاتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی اکثر زندگی قرض کے سنگین بوجھ تلے دبی رہتی ہے۔


ولایت پورٹل:آج ہمارے معاشرے میں خواتین کے درمیان گھر میں ہر روز نت نئی چیزیں خرید کر لانے کی ہوڑ ہے ،اسی لئے شوہر کے سامنے نئی نئی ضدیں اور فرمائیشیں پیش ہوتی ہیں جن سے تنگ آکر بسا اوقات شوہر بدظن ہوکر گھر چھوڑنے تک کو تیار ہوجاتے ہیں لہذا شوہر سے صرف واجب ضرورتوں ہی کی فرمائیش کرنا چاہیئے ، ہماری اس سریز کے دوسرے کالم پڑھنے کے لئے ان لنکس پر کلک کیجئے!
بیوی پر شوہر کےحقوق(۳)
بیوی پر شوہر کےحقوق(۴)
بیوی پر شوہر کےحقوق(۵)  
شوہر سے فضول توقعات نہ رکھیں
تمام افراد کے مالی امکانات اور درآمد ایک جیسی نہیں ہوتی ،سب کا معیار زندگی برابر نہیں ہوتا، پس ہرخاندان کو اپنی درآمد اور  اخراجات کا اچھی طرح  حساب و کتاب کرنا چاہیئے  اور اپنی درآمد کے  مطابق  ہی خرچ کرنا چاہیئے، انسان کسی بھی  طریقہ(مہنگے یا سستے) پر  زندگی گذار سکتا ہے،پس  یہ کوئی عاقلانہ کام نہیں ہے کہ غیر ضروری امور کی فراہمی کی خاطر قرض اور ادھار کی طرف ہاتھ بڑھایا جائے ۔
اےمحترم خاتون !تم گھر کی مالکہ ہو ، عقلمندی اور ہوشیاری سے کام لو  ،اپنی درآمد اور  اخراجات  کا حساب کرو اور یہ دیکھو کہ تم اپنے اخراجات منظم کرسکتی ہو کہ تمہاری عزت بھی محفوظ رہے اور تم کسی کی محتاج بھی نہ رہو ، دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے کسی کی ضد میں اضافی سامان مت خریدو اگر  فلاں ڈیزائن کا لباس کسی عورت کو پہنے دیکھو اور تمہارے شوہر کی جیب اجازت نہ دے تو تم اسے ویسا ہی لباس خریدنے پر مجبور نہ کرو ، اگر اپنے پڑوسی کے گھر میں کوئی خوبصورت چیز دیکھو تو اپنے شوہر سے اسے خریدنے کی ضد مت کرو ، اگر تمہارے فلاں  رشتہ دارنے اپنے گھر کو خوبصورت اور مہنگی قالین سے مزین کیا ہوا ہے تو ضروری نہیں ہے کہ تم اپنے آپ کو سختی میں ڈالو اور اس کی پیروی  کرو ، غرض ! جب تم اپنے شوہر کی  اقتصادی حالت سے واقف ہوتو کیوں اسے قرض اور ادھار لینے یا  قسطوں پر  چیزیں  خرید نے کے لئے مجبور کرتی ہو ؟
کیا یہ درست ہے  کہ دوسروں  کا مقابلہ کرنے کے لئے بینک سے  قرض  یا لون اٹھاؤ اور ایک خوبصورت مگر غیر ضروری  چیز کو خریدکر گھر میں رکھو ،کیا یہ درست ہے کہ تمہاری زندگی قرض،ادھار اور قسطوں پر  استوار ہو ؟
کیا یہ بہتر نہیں کہ تم ذرہ  صبر سے کام لو یہاں تک کہ تمہاری مالی حالت بہتر ہوجائے ؟ہر مہینے  اپنی درآمد میں سے کچھ پیسوں  کو بچاؤ اور  جب تمہاری اقتصادی حالت بہتر ہوجائے  تو اپنی ضرورت کی چیزوں کو  نقد قیمت پر خرید لو، اکثر اوقات یہ فضول خرچیاں ،نادان اور خودغرض خواتین میں پائی جاتی ہیں جب بھی کسی خوبصورت چیز کو دیکھ لیتی ہیں تو  فوراً ہی انہیں وہ چیز گھر میں لانے کی ہوس ہوجاتی ہے اور بے  چارے شوہر  کی ناک میں دم کردیتی ہیں  اور اس طرح اس کے سامنے بڑبڑاتی ہے کہ شوہر مجبور ہوکر کسی سے قرض لیتا ہے یا قسطوں پر وہ چیز خرید کر گھر لاتا ہے  جس کے نتیجہ میں اس کی اکثر زندگی قرض کے سنگین بوجھ تلے دبی رہتی ہے۔
اور کبھی تو نوبت یہاں تک پہونچتی ہے کہ بے چارہ شوہر، ازدواجی زندگی سے دست بردار ہونے کو ترجیح دیتا ہے تاکہ وہ اپنی خود غرض بیوی کو طلاق  دے کر اس کی بے جا اور فضول فرمائشوں سے دامن بچاسکے یا  خود کشی کو اس زندگی پر ترجیح دیتا ہے تاکہ اسے اس پر آشوب زندگی اور اور بے جا  بہانوں سے  نجات حاصل ہو جائے۔
جاری ہے



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 مئی 20