Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185229
Published : 24/1/2017 20:6

شیعہ اور عقیدہ نبوت؟

انسان کی عاقلانہ زندگی سے نبوت کا گہرا رابطہ ہے اور حیات انسانی کے جتنے پہلو ہیں،چاہے انفرادی ہوں یا سماجی ،مادی ہوں یا معنوی، نبوت ان تمام پہلوؤں کو اپنے احاطہ میں لئے ہے اور ہدایت، نبوت کے ہر پہلو سے تعلق رکھنے کے باوجود انسانی ہدایت میں حواس یا عقل کے کردار اور ان کی اہمیت کم نہیں ہونے دیتی، در حقیقت جیسے انسان کو علم وعقل کے ذریعہ ہدایت کی ضرورت ہے اسی طرح انسان وحی کے ذریعہ ہدایت کا بھی محتاج ہے۔


ولایت پورٹل:
عقیدہ نبوت دین اسلام کے ضروریات بلکہ تمام آسمانی ادیان کے مسلمات میں ہے،پوری تاریخ بشریت میں انسانوں کی ہدایت کے لئے خدا نے مسلسل انبیاء بھیجے جن میں سب سے پہلے حضرت آدم(ع) اور آخری نبی حضرت محمد مصطفی(ص) تھے اس سلسلہ میں اسلامی مذاہب کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے،البتہ نبوت سے متعلق بعض جزئیات مثلاً حقیقت وارکان معجزہ ،حدود ومراتب عصمت ،حقیقت وبنیاد عصمت ،وجوہ اعجاز قرآن جیسے مسائل میں اسلامی متکلمین کے نظریات میں اختلاف پایا جاتاہے،اس فصل میں ہم نبوت کے کلی مسائل شیعی نقطۂ نظر سے اختصار کے ساتھ بیان کریں گے۔
فلسفۂ نبوت
امیر المؤمنین حضرت علی(ع) نے فلسفۂ نبوت کے سلسلہ میں مندرجۂ ذیل نکات بیان فرمائیں ہیں۔
۱۔ خدا اور انسان کے درمیان فطری میثاق کی تجدید«لیستأدوھم میثاق فطرته»۔
۲۔نعمات الٰہیہ کی یاد دہانی«ویذکر وھم منسی نعمته»۔
۳۔خدائی پیغام بندوں تک پہنچانا اور اس کی تبلیغ کے ذریعہ ان پردلیل قائم کرنا«ویحتجوا علیھم بالتبلیغ»۔
۴۔ انسان کو عقل وخرد کے استفادہ کے لئے آمادہ کرنا«ویثیروالھم دفائن العقول»۔
۵۔قدرت وحکمت الٰہی کی نشانیاں بندوں کو دکھانا«ویروھم الآیات المقدرۃ من سقف فوقھم مرفوع ومھاد تحتھم موضوع»۔(۱)
۶۔ ہدایت انبیاء سے استفادہ کی استعداد رکھنے والوں پر اتمام حجت«وجعلھم حجة له علیٰ خلقه لئلا تجب لحجة لھم بترک الاعذار الیھم»۔(۲)
ایک شخص نے امام جعفرصادق(ع) سے دریافت کیا:آپ کس دلیل سے بعثت انبیاء کی ضرورت ثابت کر سکتے ہیں؟امام نے اس کے جواب میں مندرجۂ ذیل مطالب بیان فرمائے۔
۱۔ہم خدائے حکیم کے وجود کا عقیدہ رکھتے ہیں۔
۲۔خدا کا جسم نہیں کہ لوگ اسے دیکھ سکیں اور عام اورمتعارف راہوں سے اس کا کلام سن سکیں(دوسری جانب وحی کے ذریعہ خدا کے ساتھ رابطہ کے لئے حد درجہ لیاقت کی ضرورت ہے جو ہر ایک میں نہیں پائی جاتی)۔
۳۔اس لئے ضروری ہے کہ خدا اپنے سفیروں اور نمائندوں کو بھیجے تاکہ وہ انسان کو مصالح ومفاسد سے آگاہ کر سکیں۔
۴۔ایسے سفیر ہی انبیاء الٰہی ہیں جو خلقت کے لحاظ سے تو عام انسانوں کے مانند ہیں لیکن اپنے صفات وکمالات کے باعث تمام انسانوں سے افضل وبرتراورممتاز ہیں۔(۳)
مذکورہ روایات اور ائمہ معصومین (ع) سے منقول دیگر روایات نیز ضرورت نبوت سے متعلق اسلامی  متکلمین کی کتب میں انسانوں کے آسمانی ہدایت کا محتاج ہونا مسلم تسلیم کیا گیا ہے۔
اس احتیاج کے دو رخ ہیں:
۱۔علم ومعرفت کی ضرورت
۲۔ تربیت واخلاق کی ضرورت
ایک جانب انسانی علم ومعرفت کے ذرائع عقل ،مشاہدہ ،حواس وغیرہ میں محدودیت پائی جاتی ہے،یہ ذرائع ہدایت ونجات کے لئے ضروری علم ومعرفت کی تمام ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتے،دوسری جانب فطری غریزہ اورخواہشات انسان کے عادلانہ قوانین تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتے ہیں،یہ بھی امکان ہے کہ انسان معاملات زندگی کا شکار ہو کر مقصد خلقت اوراعلیٰ انسانی اقدار سے غافل ہو جائے ان تمام باتوں سے انسان کے لئے وحی کے ذریعہ ہدایت اور آسمانی رہبروں کی ضرورت واضح ہو جاتی ہے،حکمت الٰہی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسانوں کی ایسی بنیادی اور اہم ضرورت کو پورا کرے اور اگر ایسا نہ ہو تو انسان کے سامنے عذر کا راستہ کھلا رہے گا اور انسان کو احتجاج واعتذار کا حق ہوگا چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے:
«رُسُلًا مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ لِأَلاَّ یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی الله حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ»۔(۴)
انسانوں پر اتمام حجت کے علاوہ بھی قرآن کریم نے فلسفۂ نبوت کے ساتھ بعثت انبیاء کے مندرجہ ذیل اہداف بیان کئے ہیں۔
۱۔توحید کی دعوت اور طاغوت سے دوری:«وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنْ اُعْبُدُوا الله وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ»۔(۵)
۲۔انسانی معاشرہ میں عدل وانصاف کا قیام:«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمْ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْط»۔(۶)
۳۔ تعلیم وتربیت:«هُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّینَ رَسُولًا مِنْهمْ یَتْلُو عَلَیْهِمْ آیَاتِهِ وَیُزَکّیهِمْ وَیُعَلِّمُهُمْ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَة»۔(۷)
۴۔اختلافات کا فیصلہ:«کَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَۃً فَبَعَثَ الله النَّبِیِّینَ مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ وَأَنزَلَ مَعَهُمْ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیمَا اخْتَلَفُوا فِیه»۔(۸)
مذکورہ باتوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ انسان کی عاقلانہ زندگی سے نبوت کا گہرا رابطہ ہے اور حیات انسانی کے جتنے پہلو ہیں،چاہے انفرادی ہوں یا سماجی ،مادی ہوں یا معنوی، نبوت ان تمام پہلوؤں کو اپنے احاطہ میں لئے ہے اور ہدایت، نبوت کے ہر پہلو سے تعلق رکھنے کے باوجود انسانی ہدایت میں حواس یا عقل کے کردار اور ان کی اہمیت کم نہیں ہونے دیتی، در حقیقت جیسے انسان کو علم وعقل کے ذریعہ ہدایت کی ضرورت ہے اسی طرح انسان وحی کے ذریعہ ہدایت کا بھی محتاج ہے اور ان دونوں طرح کی ہدایتوں کا سرچشمہ خدا ہے اور یہ دونوں خدا کی حجت سمجھی جاتی ہیں چنانچہ امام موسیٰ کاظم(ع)نے انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کو خدا کی حجت ظاہری اور عقل کو خدا کی حجت باطنی بتایا ہے۔(۹)
خواجہ نصیر الدین طوسی فلسفۂ بعثت انبیاء کے بارے میں فرماتے ہیں۔
«انبیاء کی ضرورت اس لئے ہے تاکہ عقائد حقہ ،اخلاق حسنہ اور نیک اعمال جن میںدنیا وآخرت کی بھلائی مضمر ہے کی جانب انسانوں کی راہنمائی کرکے انہیں منزل کمال تک پہنچایا جائے اسی طرح خیر وفضیلت اور دینی امور میں تعاون اور راہ خیر وصلاح کے راستہ سے منحرف ہونے والوں کے ساتھ مناسب طریقہ سے پیش آکر انسانی معاشرہ کو کمال وترقی کا راستہ دکھا یا جائے»۔(۱۰)

..................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔نہج البلاغہ، خطبہ ۱۔
۲۔نہج البلاغہ، خطبہ ۱۴۴۔
۳۔اصول کافی،ج۱،کتاب الحجۃ، باب۱،حدیث ۱۔
۴۔سورہ نساء:آیت۱۶۵۔
۵۔سورہ نحل:آیت۳۶۔
۶۔سورہ حدید:آیت ۲۵ ۔
۷۔سورہ جمعہ:آیت۲۔
۸۔سورہ بقرہ:آیت۲۱۳۔
۹۔اصول کافی، ج ۱ ،کتاب العقل والجھل ،حدیث:۱۲۔
۱۰۔تلخیص المحصل ،ص ۳۶۷۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22