Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185245
Published : 25/1/2017 17:17

بیوی پر شوہر کےحقوق(۷)

ایسی عورتوں نے شادی کے بلند مقصد اور معنی ہی کو نہیں سمجھا ہے بلکہ انہوں نے شادی کا مطلب یہ تصور کیا ہے گویا ان کو ایک غلام اور نوکر مل گیا ہے اور انہوں نے صرف اس لئے شادی کی ہے کہ وہ اپنی ان بچہ گانہ خواہشات اور ہوا وہوس کو عملی جامہ پہنا سکیں ، انہیں شوہر نہیں بلکہ ایک ایسا غلام اور اسیر چاہیئے کہ جو کسی اجرت کے بغیر ان کے واسطہ محنت و مشقت کرتا رہے اور اپنے ہاتھوں کی سب کمائی دست بستہ ان کی خدمت میں پیش کردے تاکہ وہ اپنی خوہشات اوربلند پرواز یوں میں جہاں چاہے اس دولت کو خرچ کرے۔

ولایت پورٹل:
آج ہمارے معاشرے میں خواتین کے درمیان گھر میں ہر روز نت نئی چیزیں خرید کر لانے کی ہوڑ ہے ،اسی لئے شوہر کے سامنے نئی نئی ضدیں اور فرمائیشیں پیش ہوتی ہیں جن سے تنگ آکر بسا اوقات شوہر بدظن ہوکر گھر چھوڑنے تک کو تیار ہوجاتے ہیں لہذا شوہر سے صرف واجب ضرورتوں ہی کی فرمائیش کرنا چاہیئے ، ہماری اس کالم کا پہلا حصہ پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے !
بیوی پر شوہر کےحقوق(۶)
مندرجہ  ذیل داستان کی طرف توجہ کیجیے :
«ایک شخص نے عدالت میں کہا :کچھ  مدّت سے میری بیوی ایک پڑوسی  عورت کے کہنے پر اس بات پر ضد کررہی ہے کہ یا تو میں اسے ٹیلویزن خرید کردوں یا اسے طلاق دے دوں، میری ماہانہ آمدنی صرف ۳۰۰  تومان ہے  اس میں سے  ۱۰۰  تومان  گھر کا  کرایہ ہے  اور باقی ۲۰۰ تومان  میں تین افراد کا پورا مہینے کے سارے اخراجات کو پورا  کرنا پڑتا ہے ، پس میں کیسے اور کہاں سے ٹیلویزن خیرد سکتا ہوں »۔(۱)
ایک شخص نے عدالت میں بیان دیا : میری بیوی کو کپڑوں کے نئے ماڈل چاہیئے ، وہ ہمشہ مالدار ک عورتوں کی طرح زندگی گذارنا پسند کرتی ہے  ، خدا کی قسم میری تمام آمدنی کل 900 تومان ہیں جس میں سے 300 تومان صرف گھر کا کیرایہ ادا کرنا پڑتا ہے اب آپ ہی بتائیں میں 600 تومان میں پورے مہینہ کا خرچ کیسے چلاؤں اور اپنی بیوی کے لئے ہر مہینہ نیا جوڑا ، جوتے اور ٹوپ خرید کر دوں ؟
ایسی عورتوں نے شادی کے بلند مقصد اور معنی ہی کو نہیں سمجھا ہے بلکہ انہوں نے شادی کا مطلب یہ تصور کیا ہے گویا ان کو ایک غلام اور نوکر مل گیا ہے اور انہوں نے صرف اس لئے  شادی  کی ہے کہ وہ اپنی  ان  بچہ گانہ خواہشات اور ہوا وہوس  کو عملی جامہ پہنا سکیں ، انہیں شوہر نہیں بلکہ ایک ایسا غلام اور اسیر چاہیئے کہ جو کسی اجرت کے بغیر ان کے واسطہ  محنت و مشقت کرتا رہے  اور اپنے ہاتھوں کی سب کمائی دست بستہ ان  کی خدمت میں  پیش کردے  تاکہ وہ  اپنی  خوہشات اوربلند پرواز یوں میں جہاں چاہے اس دولت کو  خرچ  کرے۔
کاش ایسی  خواتین تھوڑی  مقدار پر قناعت کرسکتیں  اور حد سے زیادہ توقعات  نہ رکھتیں ۔
ایسی عورتوں کی  توقعات اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ شوہر کی پوری درآمد بھی  کافی نہیں ہوتی ، اصولاً ان کو  شوہر کی درآمد سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا بلکہ انہوں نے  جس چیز کی  خواہش کی ہےوہ ضرور پوری ہونی چاہیئے جوکچھ بھی انہوں نے چاہا ہے اسے ہر حال میں فراہم ہونا  چاہیئے اگرچہ شوہر برباد ہوجائے  یااسے  ناجائز امور کی طرف ہاتھ بڑھانا پڑے چونکہ بیوی کی فرمائش ہے لہذا اسے ہر حال میں عملی جامہ پہنانا ہے۔
....................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ:
۱۔  اطلاعات  6 ،بہمن، 1350۔
جاری ہے


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21