Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185249
Published : 25/1/2017 19:8

اسلام میں پہلی نماز جمعہ کب پڑھی گئی؟

نمازِ جمعہ کے وقت آپ محلّہ«بنی سالم »میں پہنچے ،وہاں نمازِ جمعہ ادا فر مائی اور یہ اسلام میں پہلاجمعہ تھاجو حضرت رسُول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ادا کیا،جمعہ کی اس نمازمیں آپ نے خطبہ بھی پڑھا ،جومدینہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کاپہلا خطبہ تھا۔


ولایت پورٹل:
بعض اسلامی روایات میں آ یا ہے کہ مدینہ کے مسلمانوں نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ہجرت سے پہلے باہم مل کربات کی اورکہا کہ یہودی ہفتہ مین ایک دن (بروزہفتہ)اجتماع کرتے ہیں اور عیسائی بھی اجتماع کے لیے (اتوارکا)ایک دن رکھتے ہیں .لہٰذا ہم بھی ایک دن مُقررّ کرلیتے ہیں تاکہ اس میں جمع ہوکرذکر خدا کریں اوراس کا شکر بجا لائیں،انہوں نے ہفتہ سے پہلے کادن کہ جسے اُس زمانہ میں «یوم العرربہ»کہتے تھے ،اِس مقصد کے لیے منتخب کیا اور (بزرگانِ مدینہ میں سے ایک شخص)اسعد بن زرارہ کے پاس گئے،اس نے ان کے ساتھ مل کر جماعت کی صُورت میں نماز اداکی اورانہیں وعظ ونصیحت کی، پس وہی دن «روزِ جمعہ »کے نام سے موسوم ہوگیا کیونکہ وہ مُسلمانوں کے اجتماع کادن تھا۔
«اسعد»کے حکم پر ایک گوسفند ذبح کی گئی اور سب نے دوپہراور شام کاکھانا ایک ساتھ تناول کیا،کیونکہ اس وقت مُسلمانوں کوتعداد بہت تھوڑی تھی۔
یہ پہلا جمعہ  تھا جو اسلام میں ایک اجتماع کے طور پر متعارف ہے،لیکن وہ پہلی نماز جمعہ جو حضرت رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اپنے اصحاب کے ساتھ پڑھی وہ اس وقت تھی کہ جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی، جب آپ مدینہ میں وارد ہوئے تو اس دن پیر کا دن ب ارہ ربیع الاوّل اور ظہر کاوقت تھا ،حضرت چار دن تک «قبا»میں رہے اور مسجد قباکی بُنیاد رکھّی،پھر جمعہ کے دن مدینہ کی طرف روانہ ہُوئے)قبا اور مدینہ کے درمیان فاصلہ بہت ہی کم ہے اور مو جودہ وقت میں قبا مدینہ کا ایک داخلی محلّہ ہے ،اور نمازِ جمعہ کے وقت آپ محلّہ«بنی سالم »میں پہنچے ،وہاں نمازِ جمعہ ادا فر مائی اور یہ اسلام میں پہلاجمعہ تھاجو حضرت رسُول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ادا کیا،جمعہ کی اس نمازمیں آپ نے خطبہ بھی پڑھا ،جومدینہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کاپہلا خطبہ تھا۔( ۱)
ایک محدّث نے«عبدالرحمن بن کعب»سے نقل کیاہے کہ میرا باپ جب جمعہ کی اذان کی آواز سنتا ،تواسعد بن زرارہ کے لیے رحمت کی دُعا کیاکرتاتھا، جب میں نے اس کی وجہ پُوچھی تواُس نے کہا:اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلاشخص تھاجس نے ہمارے ساتھ نمازجمعہ اداکی ، میں نے کہا :اُس وقت کتنے افراد حاضر تھے ؟اس نے کہا:صرف چالیس افراد۔(۲)
..........................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔مجمع البیان،جلد١٠،صفحہ ٢٨٦۔
۲۔وسائل الشیعہ، جلد٥،صفحہ٧ ،باب وجوب صلوٰة الجمعة، حدیث: ٢٨۔
makarem.ir



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19