Thursday - 2018 مئی 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185252
Published : 25/1/2017 19:38

غزوہ بدر موعد

رسول خدا نے اس جماعت کے مقابل جو ذرا ہچکچاہٹ کا اظہار کر رہی تھی فرمایا اگر کوئی میرے ساتھ نہیں جائے گا تو میں تنہا جاؤں گا،پھر رسول خدا(ص) نے پرچم اسلام علی(ع) کے سپرد کیا اور پندرہ سو افراد کے ساتھ مدینہ سے ۱۶۰ کلومیٹر بدر کی طرف روانہ ہو گئے،اس حالت میں کہ آپ کے ساتھ صرف دس گھوڑے تھے۔

ولایت پورٹل:
یکم ذیقعدہ سنہ ۴ ہجری قمری کو جنگ احد ختم ہو جانے کے بعد ابوسفیان نے جو کامیابی میں  مست تھا، مسلمانوں کو دھمکایا کہ وہ آئندہ سال بدر میں ان سے مقابلہ کرے گا،ایک سال گزر چکا تھا اور مسلمان مختلف جنگوں میں کچھ نئی کامیابیاں حاصل کرچکے تھے اور ابو سفیان جو ڈر رہا تھا کہ کہیں کوئی جنگ نہ چھڑ جائے اور کہیں اسے شکست سے دوچار نہ ہونا پڑے،بدر تک پہنچنے کے لیے وہ ایک بہانہ تلاش کر رہا تھا اور چاہتا تھا کہ مسلمانوں کو آپس میں بانٹ دے،ابو سفیان نے اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ایک سیاسی چال چلی،نعیم نامی ایک شخص کو اس بات پر مامور کیا کہ وہ مدینہ جائے اور افواہیں پھیلائے تاکہ لشکر اسلام کے حوصلے پست ہو جائیں، ابو سفیان کے فرستادہ نے مدینہ پہنچنے کے بعد اپنی نفسیاتی جنگ کا آغاز کر دیا، موقع کی تلاش میں رہنے والے منافقین نے اس کی افواہوں کو پھیلانے میں مدد کی اور لشکر ابوسفیان کے عظیم حملہ کی جھوٹی خبر نہایت آب و تاب کے ساتھ لوگوں کے سامنے بار بار بیان کرنے لگے،لیکن اس نفسیاتی جنگ نے رسول خدا(ص) اور ان کے باوفا اصحاب کے دل پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں کیا۔
رسول خدا نے اس جماعت کے مقابل جو ذرا ہچکچاہٹ کا اظہار کر رہی تھی فرمایا اگر کوئی میرے ساتھ نہیں جائے گا تو میں تنہا جاؤں گا،پھر رسول خدا(ص) نے پرچم اسلام علی(ع) کے سپرد کیا اور پندرہ سو افراد کے ساتھ مدینہ سے ۱۶۰ کلومیٹر بدر کی طرف روانہ ہو گئے،اس حالت میں کہ آپ کے ساتھ صرف دس گھوڑے تھے۔
اپنی سازش کی ناکامی اور مسلمانوں کی آمادگی کی خبر سن کر ابوسفیان بھی دو ہزار افراد کے ساتھ بدر کی طرف روانہ ہوا لیکن مقام «عسفان» میں خشک سالی اور قحط کو بہانہ بنا کر خوف و وحشت کے ساتھ مکہ لوٹ گیا۔
مسلمان جو بدر میں ابوسفیان کے انتظار میں وقت گزار رہے تھے، مقام بدر میں سیزن کے زمانہ میں انہوں نے اپنا تجارتی سامان فروخت کر دیا اور ہر دینار پر ان کو ایک دینار نفع ملا اور یہ لوگ سولہ دنوں کے بعد مدینہ پلٹ آئے۔
اس طرح سے کفار قریش کے دل میں خوف و وحشت کی لہر دوڑ گئی اور بدر کی شکست کے آثار محو ہوگئے،اس لیے کہ قریش کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہوچکی تھی کہ اسلام کا لشکر اب شکست کھانے والا نہیں ہے۔ (سیرت ابن ہشام ج۳ ص ۲۲۰)
تبیان


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 مئی 24