Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185269
Published : 26/1/2017 16:37

بیوی پر شوہر کےحقوق(۸)

پیغمبر اکرم (ص) ارشاد فرماتے ہیں:جو عورت اپنے شوہر کے موافق حال رفتار نہ کرے اور اسے ایسی چیزیں خریدنے پر مجبور کرے جو اس کی توانائی اور وسعت سے باہر ہو تو ایسی عورت کے اعمال کو خداوندعالم قبول نہیں کرتا نیز وہ قیامت میں اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار ہوگی۔


ولایت پورٹل:
ہم نے گذشتہ گفتگو میں یہ عرض کیا تھا کہ جو خواتین اپنے شوہروں سے بے جا اور فضول توقعات کرتیں ہیں در واقع وہ شادی کے مقدس اور عظیم مقاصد سے ناواقف ہیں،آج اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ان فضول خرچیوں اور نئے نئے سامان کی خریداری نے ہمارے گھروں سے وہ سکون اور آرام چھین لیا ہے جس کے لئے اللہ نے گھر جیسی عظیم نعمت انسان کو عطا کی تھی اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس پر کلک کیجئے
بیوی پر شوہر کےحقوق(۶)
بیوی پر شوہر کےحقوق(۷)
مردوں کا  دیوالیہ نکالنے والے اسباب میں سے ایک یہی عورتوں کی فضول توقعات اور ہوا وہوس  اور غیر ضروری سامان کی جمع آوری میں ایک دوسرے کا تقابل کرنا اور ایک دوسرے کے سامنے شیخی بگھارنا ہے کہ جو مردوں کو ناجائز امور کے انجام دینے پر  اکساتے ہیں  لہذا خود غرض اور متکبر  خواتین، عورت  کے نام پر ننگ و عار ہیں اگر فرض کرلیا جائے کے تم نے بے جا  توقعات اور اعتراضات کو بہانا بناکر  طلاق بھی لے لی تو کیا  اس کے بعد تمہارا کام درست ہوجائے گا ؟ نہیں ،مطمئن رہو کہ تمہاری تمنائیں پوری نہیں ہونگی بلکہ تمہیں زندگی کے آخری لمحات تک اپنے  والدین کے سر کا بوجھ بن کر رہنا پڑے گا اور انس و محبت اور اولاد کی پرورش جیسی عظیم  نعمت سے  محروم رہنا پڑے گا ، شاید تمہارا گمان ہے کہ دوسرے  مرد تم سے شادی کرنے کے واسطہ صف بستہ کھڑے ہیں، نہیں! یہ تمہاری خام خیالی ہے،  جو  عورت طلاق  لیتی ہےاس کے ساتھ کوئی مشکل ہی سے شادی کرنے کو تیار ہوتا ہے  اور اگر یہ مان بھی لیاجائے کہ تمہاری دوسری شادی ہوجائے گی تو تمہیں کہاں سے معلوم کہ تمہارا دوسرا شوہر پہلے والے سے بہتر ہو؟
کیاتمہارے لئے یہ بہتر نہیں ہے کہ تم دوراندیشی سے کام لو ؟ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ تم اپنی درآمد  اور  اخراجات کا صحیح طریقہ سے  حساب و کتاب کرو اور اپنی آمدنی کے اعتبار ہی سے خرچ کرو ؟ کیا تمہیں  صرف کپڑوں ، جوتوں ، ٹیلویزن اور فریج سے ہی خوشی اور مسرت  حاصل ہوتی ہے؟ اب خام خیالیوں اور الٹی سیدھی خواہشات کو ترک کرکے زندگی ،گھریلو فرائض اور شوہر کی خدمت کرنے  کی کوشش کرو ،گھر کے ماحول کوعشق و محبت کی ساتھ  نورانی اور پاکیزہ بناؤ،دوسروں کے سامان کو دیکھ کر اپنے دل میں  حسرت پیدا نہ کرو اپنی درآمد کے  مطابق خرچ کو چلانے کی تدبیر  کرو، اپنے  شوہر اور اولاد کے ساتھ خوشی سے رہو ،ان کی زندگی کو بہتر بنانے کی تدبیر کرو، روزمرہ  کے اخراجات  میں  احتیاط کرو تاکہ تمہاری مالی  حالت حالات بہتر ہوسکے اورتمہاری زندگی چین و سکون سے بسر ہوسکے  شاید  تم مستقبل میں اپنی  آرزؤں تک پہونچ جاؤ  اور  اگر تمہارا شوہر فضول خرچی کرتا ہے اور اپنی توانائی سے زیادہ خرچ کرتا ہے  توتم  اسے روک سکتی ہو ، اور اسے غیر ضروری اشیاء  کو قسطوں یا قرض پر خرید نے سے منع کرسکتی ہو چونکہ تمہاری زندگی مشترکہ ہے اور  جو بھی اس کے پاس ہے درواقع وہ تمہارا ہی ہے، تم اس بات سے خائف مت ہونا کہ وہ تمہاری دولت  کو کسی اور کو دیدے  گا  یا کسی اور گھر میں خرچ کرڈالے گا، تم زینت اور آرائش  کی چیزیں اور غیر ضروری سامان خریدنے کے بجائے  گھر کا ضروری  سامان مہیا کرو اور باقی پیسہ غیر متوقع حادثات کیلئے (جو نہ چاہتے ہوئے بھی ہر ایک کی زندگی میں پیش آتے ہیں )بچا کر رکھو  تاکہ بوقت ضرورت تمہارے کام آسکے
پیغمبر اکرم (ص) ارشاد فرماتے ہیں:«جو  عورت اپنے  شوہر کے موافق حال رفتار نہ کرے اور اسے ایسی چیزیں خریدنے پر  مجبور کرے  جو اس کی توانائی اور وسعت  سے باہر ہو تو ایسی عورت کے اعمال کو خداوندعالم  قبول نہیں کرتا ہےنیز وہ  قیامت میں اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار ہوگی»۔(۱)
ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ (ص)فرماتے ہیں:«جو عورت  اپنے شوہر کے موافق حال رفتار نہ کرے،جو کچھ خدا کی طرف سے  ملا ہے اس پر قناعت نہ کرے،اپنے شوہر کی وسعت  و توانائی سے زیادہ تقاضہ کرے  تو اس کے اعمال قبول نہیں کئے جائیں گے اور اس پر خدا کا غضب نازل ہوگا»۔(۲)
نیز آنحضرت (ص)کا فرمان ہے:«خدا پر ایمان  لانے کے بعد  شوہر کے حال کے مطابق رفتار کرنے سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہے»۔(۳)
........................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ بحار الانوار، ج  103 ، ص 244۔
۲۔ بحار الانوار ،ج 76، ص 367۔
۳۔ مستدرک، ج 2 ، ص 532۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17