Thursday - 2018 مئی 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185299
Published : 28/1/2017 16:57

حضرت زینب(س) کی شہنشاہ کربلا سے محبت

حضرت زینب(س) طفولت کے ایام سے ہی امام حسین(ع) سے شدید محبت کرتی تھیں،جب کبھی حسین(ع) آپ کی آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے تو آپ بےچین ہوجاتی تھیں اور جب آپ کی نظریں بھائی کے جمال سے منور ہوتیں تو آپ کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح روشن ہوجاتا تھا۔

ولایت پورٹل:
حضرت زینب(ع) نے طفولت کے ایام میں ایک دن اپنے والد علی(ع) سے پوچھا: بابا جان! کیا آپ ہم سے محبت کرتے ہیں؟ امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا: میں تم سے محبت کیوں نہ کروں گا، تم تو میرے دل کا ٹکڑا ہو؛ حضرت زینب(س) نے عرض کیا:«لایجتمع حبّان فی قلب مؤمن حبّ الله وحب الاولاد وان کان ولابد فالحب لله تعالی و الشفقة للاولاد»۔
ترجمہ: دو محبتیں مؤمن کے دل میں جمع نہيں ہوتیں: خدا کی محبت اور اولاد کی محبت؛پس اگر کوئی چارہ نہ ہو تو محبت (حُبّ) خدا کے لئے مخصوص ہے اور شفقت اور مہربانی اولاد کے لئے امیرالمؤمنین(ع) نے بیٹی کا یہ جواب سنا تو ان سے حضرت کی محبت میں مزید اضافہ ہوگیا۔
بھائی حسین(ع) سے محبت
حضرت زینب(س) طفولت کے ایام سے ہی امام حسین(ع) سے شدید محبت کرتی تھیں،جب کبھی حسین(ع) آپ کی آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے تو آپ بےچین ہوجاتی تھیں اور جب آپ کی نظریں بھائی کے جمال سے منور ہوتیں تو آپ کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح روشن ہوجاتا تھا۔
اگر گہوارے میں رو پڑتیں تو بھائی حسین(ع) کا دیدار کرکے یا آپ کی صدا سن کر پرسکون ہوجاتی تھیں،بالفاظ دیگر حسین(ع) کا دیدار یا آپ کی صدا بہن زینب(س) کے لئے سرمایۂ سکون تھی۔
اسی عجیب محبت کے پیش نظر، ایک دن حضرت زہرا(س) نے ماجرا رسول اکرم(ص) کو کہہ سنایا تو آپ(ص) نے فرمایا:«اے نور چشم! یہ بچی حسین(ع) کے ساتھ کربلا جائے گی اور بھائی کے مصائب اور رنج و تکلیف میں شریک ہوگی»۔
روز عاشورا  آپ اپنے دو کم عمر لڑکوں محمد اور عون کو امام(ع) کے پاس لائیں اور عرض کیا:«میرے جدّ ابراہیم خلیل (ع) کی قربانی بارگاہ  پروردگار میں  قبول ہوگئی،آپ بھی میری یہ حقیر سی قربانی قبول کرکے مجھے شرف بخشیئے!اگر عورتوں سے جہاد  ساقط نہ ہوتا تو میں خود اپنی جان آپ پر قربان کردیتی۔
tvshia



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 مئی 24