Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185303
Published : 28/1/2017 17:29

بحرالعلوم مولانا سید حسین نونہروی

فخر العلماء سید محمد صاحب کہتے تھے کہ عرب و عجم میں مولانا سید حسین جیسا ذہین و کامل حکیم و فلسفی نہیں دیکھا،آپ عابد شب زندہ دار،طہارت کے پابند اور کمال تقوی پر فائز تھے ،طلبہ سے محبت اور مطالعے سے عشق تھا۔


ولایت پورٹل:
بحرالعلوم سید حسین بن عارف کامل مولانا سید رمضان علی نونہروی تیرہویں صدی کے ان حیرت انگیز شخصیتوں میں تھے جو خدا سے خاص قوتیں لے کر آئے ہیں مہینہ بھر میں نصف قرآن حفظ کرلیا،ایک مرتبہ کسی مسئلے کو دیکھ لیا تو اس کے کلیات و جزئیات ازبر ہوگئے،فلسفہ و منطق ،ریاضی و اقلیدس، غرض تمام علوم عقلیہ پر حکیمانہ قدرت تھی،انگریز بھی لوہا مانتے تھے«جامع بہادر خانی»پر ایسے اہم اعتراض کئے کہ مولانا غلام حسین گرویدہ ہوگئے،اتنی ذہانت و ذکاوت ،حافظے اور قابلیت کے باوجود شوق مطالعہ کا یہ عالم کہ کہنیوں میں گٹے پڑگئے تھے،شرح لمعہ اول سے آخر تک سات مرتبہ دیکھی اور کہا کرتے تھے کہ یہ کتاب علم فقہ کا سمندر ہے۔
نواب صاحب مرشد آباد نے با اصرار تمام، ریاست کے مدرسے کی صدارت پر راضی کیا تھا وہیں چھتیس سال کی عمر میں ۱۱ صفر ۱۲۷۱ ہجری کو وفات پائی۔
لکھنؤ میں علماء فرنگی محل سے معقولات اور دیگر علماء سے علوم ہندسہ ،ریاضی و ادب و تفسیر و حدیث پڑھی،جناب سید العلماء سے فقہ و اصول کا درس لیا،فخر العلماء سید محمد صاحب کہتے تھے کہ عرب و عجم میں مولانا سید حسین جیسا ذہین و کامل حکیم و فلسفی نہیں دیکھا۔
آپ عابد شب زندہ دار،طہارت کے پابند اور کمال تقوی پر فائز تھے ،طلبہ سے محبت اور مطالعے سے عشق تھا۔
مولانا حسین صاحب کے بعد ان کے جانشین سید مرتضی نونہروی ہوئے ،مولانا نے بے توجہی کی وجہ سے اپنے حواشی و تعلیقات و رسائل کو محفوظ نہ رکھا۔
مطلع انوار



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12