Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185310
Published : 28/1/2017 19:54

قرآن مجید کی نگاہ میں تقویٰ کے فوائد(۱)

ہمارے سماج میں بہت سے ایسے افراد ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو دنیا میں اس قدر منہمک کر لیا، گویا انھیں آخرت سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے ایسے لوگ ہمیشہ اپنے فائدے کی تلاش میں رہتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل فائدہ اسلام کے حیاتی قوانین پر عمل کرنے میں ہے ،جس نے اپنا مقصد اسلام پر عمل کرنا بنایا ہے وہ ہمیشہ فائدے میں رہا ہے۔


ولایت پورٹل:
پاکیزگی اور طہارت ایک ایسی صفت ہے جو ہر مہذب اور شائستہ قوم کے یہاں پسندیدہ خصائل میں شمار کی جاتی ہے اور اس کے برعکس ناپاکی، گندگی اور نجاست وخباثت ایسی بری خصلتیں ہیں جنہیں ہر قوم وملت کے یہاں ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے،طہارت اور پاکیزگی کا ایک تعلق انسان کے ظاہر کے ساتھ ہے اور ایک تعلق انسان کے باطن کے ساتھ ہے،یہ دو ایسے تعلق ہیں جو دوقوموں کو الگ الگ کردیتے ہیں: وہ قوم جو نورِوحی سے محروم ہوئی،اس کے یہاں ظاہری صفائی کااہتمام تو ملتا ہے لیکن باطنی پاکیزگی کا اس کے یہاں کوئی تصور نہیں پایاجاتا،جب کہ وہ قوم جو نورِالٰہی کی روشن کرنوں سے مستفید ہوئی اس کے یہاں جس طرح ظاہری پاکیزگی اہم ہے، اس سے کہیں بڑھ کر ان کے یہاں باطنی پاکیزگی کی اہمیت ہے،انسان ظاہری نجاست سے بچنے کا اہتمام کرے تو یہ «طہارت» ہے اور اگر باطنی نجاستوں اور خباثتوں سے خود کو بچائے تو یہ «تقویٰ» ہے۔
قرآن کریم نے تقویٰ کے موضوع کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، تقویٰ کی حقیقت اور ضرورت کو بھی اجاگر کیا ہے اور تقوی پرملنے والے عظیم انعامات بھی کافی تفصیل کے ساتھ گنوائے ہیں۔
تقوی اختیار کرنےکے بہت سے فائدے ہیں مگر ہم بعض فوائد کو مختصر طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے۔
تقویٰ اور محبت الٰہی
قرآن مجید نے تقوی کے فوائد  میں سے ایک فائدہ یہ بیان کیا ہے کہ اس سے انسان کو اللہ تعالی کی محبت نصیب ہوتی ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:«بَلى‏ مَنْ أَوْفى‏ بِعَهْدِهِ وَ اتَّقى‏ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقين»۔(۱)
ترجمہ:ہاں! جوشخص (اللہ تعالی کے ساتھ کیے ہوئے) اپنے عہد کو پورا کرے اوراللہ تعالیٰ سے ڈرے تو بے شک اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
رحمت خدا کے شمول کا سبب
انسان قدم قدم پر اپنے رب کی رحمت کامحتاج ہے اور وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں جنہیں اپنے رب کی رحمت سے کچھ حصہ نصیب ہو جائے۔  البتہ یہ بات قابل غور ہے  کہ ایک رحمت تو وہ ہے جو دنیا میں ہر انسان کو حاصل ہے، خواہ کافر ہو یامسلمان اور اسی رحمت کا اثر ہے کہ جس طرح مسلمانوں کو دنیا میں دنیوی نعمتیں ملتی ہیں، اسی طرح کافروں کو بھی دنیوی نعمتیں ملتی رہتی ہیں ،مگر آخرت میں انعامات اور رحمت صرف اہل ایمان کو ملے گی اور کافر اس دن سوائے افسوس کچھ نہ کر پائیں گے۔ یہ دنیوی اور اخروی رحمت جن خوش نصیبوں کو ملتی ہے ان کی ایک صفت تقویٰ ہے ۔ قرآن بیان کرتا ہے:« وَ رَحْمَتي‏ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ‏ءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذينَ يَتَّقُونَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ الَّذينَ هُمْ بِآياتِنا يُؤْمِنُون»۔(۲)
ترجمہ:اورمیری رحمت ہرچیز پر چھائی ہوئی ہے،چنانچہ میں یہ رحمت(مکمل طورپر) اُن لوگوں کے لیے لکھوں گا جو تقوی اختیار کریں اور زکات ادا کریں اور جو ہماری آیتوں پرایمان رکھیں۔
خدا سے تقرب کا سبب
تقوی اختیار کرنے سے ایک اہم فائدہ یہ ملتا ہے کہ اہل ایمان کو شیطان، نفس اور دیگر دشمن، مثلاً کفار و منافقین کے مقابلے میں خدا کی معیت ، نصرت اور تائید حاصل ہوجاتی ہے، جس سے وہ ان دشمنوں کی کارستانیوں اور ریشہ دوانیوں سے محفوظ ہوجاتا ہے،ارشاد خداوندی ہے:«إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذينَ اتَّقَوْا وَ الَّذينَ هُمْ مُحْسِنُونَ »۔(۳)
ترجمہ:یقین رکھو کہ اللہ ان کا ساتھی ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو احسان پر عمل پیرا ہیں۔
ناگاھانی خطرات سے بچنے  کاسبب
دنیا میں کتنے شریر و فتنہ پرور انسان اور جنات ہیں جو اہل ایمان کے جان ومال اور ایمان و اعمال صالحہ کو تباہ کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں، اس صورت میں ضرورت ہے کہ کوئی ایسا محفوظ قلعہ ہو جہاں انسان کو ان خطرات سے پناہ ملے اور آخرت میں ناکامی سے حفاظت ہوجائے تو ایسا محفوظ قلعہ تقویٰ ہے،قرآن کریم ہمیں بتلاتا ہے:«وَ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذينَ اتَّقَوْا بِمَفازَتِهِمْ لا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَ لا هُمْ يَحْزَنُون»۔(۴)
ترجمہ:اور جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے، اللہ ان کو نجات دے کر ان کی مراد کو پہنچا دے گا، انہیں کوئی تکلیف چھوئے گی بھی نہیں اور نہ انہیں کسی بات کا غم ہوگا۔
جاری ہے۔
...........................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔سورہ آل عمران:آیت76۔
۲۔سورہ الاعراف:آیت156۔
۳۔سورہ النحل:آیت128۔
۴۔سورہ الزمر:آیت61۔
پیروان ولایت


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17