Sunday - 2018 july 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185326
Published : 29/1/2017 17:25

مولانا سعد اللہ سلونی کا مختصر تعارف

مولانا سعد اللہ سلونی صاحب آخر عمر میں سورت میں سکونت گزیں تھے،عالم گیر اورنگ زیب آپ کا بہت ادب کرتا تھا،ایک مکان اور دو گاؤں جاگیر میں دیئے جن کی آمدنی آٹھ ہزار ماہانہ تھی،اپنے ہاتھ سے خط میں «سیدی و سندی» جیسے القاب لکھتا اور آپ کی سفارشوں کی عزت کرتا تھا۔

ولایت پورٹل:
سلون ضلع رائے بریلی ہندوستان کا ایک شاداب قصبہ ہے،مغلوں کے دور میں جہاں افاضل و رؤسا رہتے تھے ،انھیں بزرگوں میں پیر محمد سلون کے نواسے مولانا سعد اللہ تھے سعد اللہ صاحب نے اپنے نانا سے ۲۵ برس تک علوم و فیوض حاصل کرنے اور اپنے والد سے خرقہ لینے کے بعد حرمین شرفین و عتبات عالیات کا سفر کیا۔
حج و زیارات کے گئے تو چودہ برس وہاں قیام کیا ،اس مدت میں شیخ عبد اللہ بن سالم بصری اور شیخ احمد نخلی سے درس حدیث لیا اور خود بھی پڑھاتے رہے،شریف مکہ آپ کی عزت کرتا تھا۔
آخر عمر میں سورت میں سکونت گزیں ہوگئے تھے،عالم گیر اورنگ زیب آپ کا بہت ادب کرتا تھا،ایک مکان اور دو گاؤں جاگیر میں دیئے جن کی آمدنی آٹھ ہزار ماہانہ تھی،اپنے ہاتھ سے خط میں «سیدی  و سندی» جیسے القاب لکھتا اور آپ کی سفارشوں کی عزت کرتا تھا،ایک مرتبہ موصوف نے کسی حاکم کے لئے سفارش لکھی تو بادشاہ نے جواب لکھا:حضور عالم ہیں ،ظالم کی سفارش آپ کے لئے زیب نہیں دیتی،اس کے بعد بادشاہ نے جواب دینا چھوڑ دیا مگر مولانا مسلسل خط لکھتے اور محبت آئمہ اثنا عشر کی تلقین کرتے رہے ،ایک مرتبہ بادشاہ نے کہا محبت اہل بیت(ع) بلا شبہ واجب ہے مگر اہل سنت کے نزدیک امامت بارہ اماموں میں منحصر نہیں ہے۔
قلمی اثار
۱۔حاشیہ بر حکمت
۲۔رسالہ کشف الحق
۳۔رسالہ چہل بیت مثنوی
۴۔ثبوت مذہب شیعہ
۵۔تحفۃ الرسول
۶۔حاشیہ یمین الوصول
۷۔ادب البحث فی المنطق
۸۔حواشی بر حاشیہ قدیم و جدید
وفات
آپ کی تاریخ وفات سن ۱۱۳۸ ہجری مطابق ۱۷۲۶ ء میں ہوئی۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 july 22