Thursday - 2018 مئی 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185330
Published : 29/1/2017 19:19

عصمت انبیاء(ع)

ایسا نہیں ہے کہ انبیاء پہلے درجۂ نبوت پر فائز ہوئے اس کے بعد خدا کی عنایت خاص کا مرکز قرار پائے اور مخصوص ہدایت انہیں نصیب ہوئی بلکہ پہلے سے ہی خصوصی عنایت وہدایت ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی کے ذریعہ وہ نبوت و رسالت کے عظیم المرتبت درجہ پر فائز ہوتے ہیں اس طرح انبیاء کرام شروع سے ہی خدا کے مخلص اور منتخب بندے ہوتے ہیں۔


ولایت پورٹل:نبوت کی ایک شرط «عصمت» یعنی خطا اور لغزش سے محفوظ ہونا ہے اس لئے کہ عصمت کے بغیر نبوت کا مقصد «ہدایت بشر» حاصل نہیں ہو سکتا، اسی لئے اسلامی فرقوں بلکہ تمام آسمانی ادیان ومذاہب کے درمیان «عصمت» متفق علیہ مسئلہ ہے لیکن عصمت کے حدود و مراتب کے سلسلہ میں مذاہب اور اسلامی متکلمین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
ان تمام اقوال ونظریات کے درمیان صرف شیعہ امامیہ انبیاء الٰہی کے لئے کامل اور جامع ترین عصمت کا قائل ہیں اور شیعی عقیدہ یہ ہے کہ انبیاء شریعت کے حصول ،حفاظت ،لوگوں تک ابلاغ و ترسیل و تبیین میں ہر طرح کی عمداً وسہواً غلطی سے محفوظ اور معصوم ہیں اسی کے ساتھ ساتھ ہر طرح عمدی سہوی گناہ صغیرہ وکبیرہ سے بھی محفوظ ہیں چنانچہ سید مرتضیٰ فرماتے ہیں:
«قالت الشیعة الامامیة لا یجوز علیھم شیء من المعاصی و الذنوب کبیراً کان او صغیراً لا قبل النبوۃ ولا بعدھا»(۱)
اس سلسلہ میں علامہ حلی فرماتے ہیں:
«ذھبت الامامیة الی ان الانبیاء معصومون قبل البعثة وبعدھا عن الصغائر عمداً وسہواً و عن الکبائر کذالک»۔(۲)
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اہل سنت کے بعض محققین بھی اس سلسلہ میں شیعوں کے ہم عقیدہ ہیں چنانچہ ملا علی قاری کہتے ہیں:«انبیاء کے لئے گناہان صغیرہ وکبیرہ سے عصمت قبل بعثت بھی ثابت ہے اور بعد بعثت بھی»۔(۳)
«النبراس»کے مؤلف کا قول ہے:«علماء کے ایک گروہ کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء سلسلہ وحی کے قبل اور بعد صغائر وکبائر سے معصوم ہوتے ہیں»۔(۴)
معاصر علماء میں معروف ترین عالم شیخ احمد خلیلی بھی تحریر کرتے ہیں:
«ذھب اصحابنا الیٰ انھم معصومون عن الکبائر والصغائر فی حال النبوۃ وقبلھا»اس کے بعد وہ شیعی نقطۂ نظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:«شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ انبیاء روز ولادت سے ہی عصمت کے مالک ہوتے ہیں»۔
پھر کہتے ہیں:«یہ نظریہ انہیں کے لئے شائستہ ہے جو نگاہ پروردگار میں منتخب اور عنایت خاص کے مستحق ہیں اس لئے کہ ہر عاقل اس بات کو درک کرتا ہے کہ خداوندعالم اتنی اہم ذمہ داری کے لئے صرف ایسے افراد کاہی انتخاب کرے گا جو پاکیزہ ترین ،عقل کے اعتبار سب سے برتر اور بہترین سیرت وکردار کے مالک ہوں۔ (۵)
عصمت انبیاء کی عقلی دلیل یہ ہے کہ عصمت کے بغیر ان کی نبوت کا مقصد مکمل طریقہ سے پورا نہیں ہوسکتا اس لئے کہ اگر ان کے بارے میں خطا اور گناہ کا احتمال پایا جائے گا تو ان پر مکمل طور سے اعتماد نہیں کیا جا سکتا،انبیاء پر مکمل اعتماد اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جب انبیاء شریعت کے حصول و ابلاغ اور بیان نیز احکام الٰہی پر عمل کے سلسلہ میں ہر طرح کی خطا و معصیت سے معصوم و محفوظ ہوں۔    
خواجہ نصیر الدین طوسی نے اس دلیل کوان الفاظ میں بیان کیا ہے:
«یجب فی النبی العصمة لیحصل الوثوق فیحصل الغرض»۔(۶)
گناہوں سے انبیاء کی عصمت کو ادلۂ نقلیہ کے ذریعہ بھی ثابت کیا جا سکتا ہے، اس لئے کہ جب انبیاء کی نبوت ثابت ہوگئی یعنی یہ ثابت ہو گیا کہ انبیاء وحی کے ذریعہ خدا سے شریعت حاصل کرتے ہیں اور اس شریعت کو محفوظ رکھنا اور لوگوں تک پہنچانا ان کی ذمہ داری ہے اتنی بات تو سب کے نزدیک متفق علیہ ہے اور اس بارے میں قطعا کوئی تردید نہیں ہے لہٰذا نبوت وشریعت ثابت ہو جانے کے بعد آیات قرآنی کے ذریعہ انبیاء کی عصمت ثابت کی جاسکتی ہے،قرآن کریم میں  انبیاء کا شمار ان بندوں میں ہے جنہیں خدا کی مخصوص ہدایت حاصل ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:«وَاجْتَبَیْنَاهُمْ وَهَدَیْنَاهُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ذَلِکَ هُدَی اللَّهِ یَهْدِی بِهِ مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ»اور ہم  نے انھیں منتخب کیا اور سب کو سیدھے راستہ کی ہدایت کردی یہی خدا کی ہدایت ہے جسے جس بندے کو چاہتا ہے عطاکر دیتا ہے ۔(۷)
ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ خداوند عالم صرف انہیں افراد کو منصب نبوت و رسالت عطا کرتا ہے جو  پہلے سے خصوصی عنایت الٰہی کے حقدار تھے اور انہیں خصوصی ہدایت حاصل تھی چنانچہ دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے:«ﷲُ أَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهُ»۔(۸)
لہذا ایسا نہیں ہے کہ انبیاء پہلے درجۂ نبوت پر فائز ہوئے اس کے بعد خدا کی عنایت خاص کا مرکز قرار پائے اور مخصوص ہدایت انہیں نصیب ہوئی بلکہ پہلے سے ہی خصوصی عنایت وہدایت ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی کے ذریعہ وہ نبوت و رسالت کے عظیم المرتبت درجہ پر فائز ہوتے ہیں اس طرح انبیاء کرام شروع سے ہی خدا کے مخلص اور منتخب بندے ہوتے ہیں دوسری جانب قرآن کا واضح اعلان ہے کہ جو ایسی خصوصی ہدایت سے فیضاب ہوگا ہرگز گمراہ نہیں ہو سکتا اور شیطان کبھی بھی اسے بہکا نہیں سکتا چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:«وَمَنْ یَّھْدِی اَللّٰهُ فَمَالَهُ مِنْ مُضِلٍّ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّهُمْ أَجْمَعِینَ  إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْهُمْ الْمُخْلَصِینَ»۔(۹)

..................................................................................................................................................................................................................................

حوالہ جات:
۱۔تنزیہہ الانبیاء، ص ۲۔
۲۔انوار الملکوت فی شرح الیاقوت، ص ۱۹۶۔
۳۔شرح الفقہ الاکبر ،ص۶۷،۶۹«ھذہ العصمة ثابتة للانبیاء قبل النبوۃ وبعدھا علیٰ الاصح» انھوں نے یہ جملہ ابو حنیفہ کے کلام کی شرح کے ذیل میں تحریر کیا ہے ابوحنیفہ کا کلام یہ ہے «والانبیاء کلھم منزھون عن الصغائر والکبائر»۔
۴۔النبراس،ص۴۵۴۔
۵۔جواہر التفسیر، ج۳، ص۱۲۷۔۱۲۹۔
۶۔تجرید الاعقتاد،بحث نبوت۔
۷۔سورہ انعام:آیت۸۷۔۸۸۔
۸۔سورہ انعام :آیت۱۲۴۔
۹۔سورہ ص :آیت۸۲۔۸۳۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 مئی 24