Sunday - 2018 july 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185331
Published : 29/1/2017 19:40

قرآن مجید کی نگاہ میں تقویٰ کے فوائد(۲)

انسان کے لیے گناہ اس قدر خطرناک نہیں ہے جس قدر گناہ کی ہولناکی اور نقصانات سے غفلت خطرناک ہے، کیوں کہ اس طرح انسان گناہوں میں ڈوبتا چلاجاتا ہے اور اس کے دل میں ان کے نقصانات کا وسوسہ تک نہیں آتا اور یوں وہ توبہ اور استغفار سے یکسر غافل ہوجاتا ہے اور اس طرح ایسا انسان نافرمانیوں کا بوجھ لیے اس دنیا سے چلاجاتا ہے اورتوبہ کے بغیر مر جاتا ہے اور یہ کسی انسان کے لیے بڑی بدبختی ہے کہ وہ توبہ اور استغفار سے محروم رہ کر اس دنیا سے گیا ہو۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! ہم نے گذشتہ مضمون میں یہ عرض کیا تھا کہ تقوی اس باطنی طہارت کا نام ہے جس کے سبب انسان اللہ کی بارگاہ میں بندہ مقبول بن جاتا ہے اور اسے قرب پروردگار نصیب ہوجاتا ہے ،رحمت خدا اس کے شامل حال رہتی ہے،لہذا گذشتہ مضمون کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!

قرآن مجید کی نگاہ میں تقویٰ کے فوائد(۱)

نوربصیرت اور تقویٰ
مؤمن کو اللہ ایسا نور بصیرت عطا کرتا ہے جس سے وہ اپنے نفع ونقصان کو اچھی طرح پہچان لیتا ہے اور پھر اسے نفع بخش امور کی توفیق مرحمت کر دی جاتی ہے اوراس کے دل میں نقصان دہ امور کی نفرت ڈال دی جاتی ہے،یہ نورِ بصیرت خاص اہل ایمان کو نصیب ہوتا ہے اور یہ خاص اہل ایمان وہ ہیں جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں،قرآن مجید کا یہ بیان ملاحظہ کریں:« يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ»۔(۱)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پرایمان لاوٴ، تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دوحصے عطا فرمائے اور تمہارے لیے وہ نور پیدا کرے جس کے ذریعے تم چل سکو اور تمہاری بخشش ہوجائے،اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔
اس آیت میں جس نور کے ملنے کاتذکرہ ہے اس سے دو قسم کانور مراد ہے: 1۔دنیا میں نور،یعنی ایمان اور اعمال صالحہ اور بصیرت قرآنی کا نور، جو انسان کو حق پر قائم رکھتا ہے، خواہ ایسا شخص دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے، یہ نور اس کے ساتھ رہتا ہے۔
2۔ آخرت میں نور، یعنی جب انسان پل صراط سے گزرنے لگے گا تو یہ نور اس کے لیے روشنی پیدا کرے گا تاکہ اس کے لیے چلنا آسان ہوجائے۔(۲)
تقویٰ اور گناہوں کو سمجھنے کا شعور
انسان کے لیے گناہ اس قدر خطرناک نہیں ہے جس قدر گناہ کی ہولناکی اور نقصانات سے غفلت خطرناک ہے، کیوں کہ اس طرح انسان گناہوں میں ڈوبتا چلاجاتا ہے اور اس کے دل میں ان کے نقصانات کا وسوسہ تک نہیں آتا اور یوں وہ توبہ اور استغفار سے یکسر غافل ہوجاتا ہے اور اس طرح ایسا انسان نافرمانیوں کا بوجھ لیے اس دنیا سے چلاجاتا ہے اورتوبہ کے بغیر مر جاتا ہے اور یہ کسی انسان کے لیے بڑی بدبختی ہے کہ وہ توبہ اور استغفار سے محروم رہ کر اس دنیا سے گیا ہو۔
ہاں! جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں وہ بے شک معصوم تو نہیں بن جاتے لیکن اس تقوے کی برکت سے انہیں گناہوں کے خطرے اور نقصان کا ادراک ہوجاتا ہے اور یہ احساس ہوتے ہی وہ فوراً توبہ اور استغفار کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں، جس کے سبب  اللہ کی رحمت ان پر سایہ فگن ہوجاتی ہے اور وہ اللہ کی ناراضی سے بچ جاتے ہیں، لہذا قرآن کریم نے اس حقیقت کو اس طرح اجاگر کیا ہے:«إِنَّ الَّذينَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُونَ»۔(۳)
جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے انہیں جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال آکر چھوتا بھی ہے تو (اللہ کو) یاد کرلیتے ہیں، چنانچہ اچانک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
گناہوں کی بخشش اور اجرعظیم کاحصول
سورہ طلاق میں خداوند عالم کا ارشاد ہے:«وَ مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئاتِهِ وَ يُعْظِمْ لَهُ أَجْرا»۔(۴)
ترجمہ:اور جوکوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا اور اس کوزبردست ثواب دے گا۔

................................................................................................................................................................................

حوالہ جات:
۱۔سورہ الحدید:آیت28۔
۲۔ترجمہ المیزان، ج19، ص306، سيد محمد حسين‏ طباطبايى، مترجم سید محمد باقر موسوی ہمدانی،  دفتر انتشارات اسلامى جامعه‏ى مدرسين حوزه علميه قم، قم، 1374 ش‏۔
۳۔سورہ الاعراف:آیت201۔
۴۔سورہ الطلاق:آیت5۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 july 22