Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185349
Published : 30/1/2017 17:12

حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک مثالی کردار(۱)

وہ کس قدر مبارک و مسعود گھڑی تھی، پورے مدینہ میں خوشی و سرور کی لہر دوڑ رہی تھی، رسول اسلام (ص) کے گھر میں ان کی عزیز بیٹی حضرت فاطمہ زہرا کی آغوش میں ایک چاند کا ٹکڑا اتر آیا تھا۔


ولایت پورٹل:
وہ کس قدر مبارک و مسعود گھڑی تھی، پورے مدینہ میں خوشی و سرور کی لہر دوڑ رہی تھی، رسول اسلام (ص) کے گھر میں ان کی عزیز بیٹی حضرت فاطمہ زہرا کی آغوش میں ایک چاند کا ٹکڑا اتر آیا تھا، خود نبی اکرم (ص) سفر میں تھے علی ابن ابی طالب نے بیٹی کو آغوش میں لیا ایک کان میں اذان اور ایک میں اقامت کہی اور دیر تک سینےسے لگائے ٹہلتے رہے، سب رسول اسلام (ص) کی آمد کے منتظر تھے کہ دیکھیں حضور اکرم (ص) اپنی نواسی کے لئے کیا نام منتخب کرتے ہیں۔ رسول اسلام (ص) جن کا ہمیشہ سے یہ معمول تھا کہ جب بھی کہیں جاتے تو اپنی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا کے دروازے پر سلام کرکے رخصت ہوتے اور جب بھی کہیں سے واپس آتے تو سب سے پہلے در سیدہ پر آکر سلام کرتے اور بیٹی سے ملاقات کے بعد کہیں اور جاتے تھے۔
آج جیسے ہی  حضرت(ص) سفر سے پلٹے سب سے پہلے فاطمہ سلام اللہ کے گھر میں داخل ہوئے اہل خانہ کو سلام اور نو مولود کی مبارک باد پیش کی ، رسول اسلام (ص) کو دیکھ کر سب تعظیم کے لئے کھڑے ہوگئے اور حضرت علی (ع) نے بیٹی کو ماں کی آغوش سے لے کر نانا کی آغوش میں دے دیا،روایت میں ہے کہ نبی اکرم (ص) نے پیار کیا اور کچھ دیر تامل کے بعد فرمایا:خدا نے اس بچی کا نام «زینب» منتخب کیاہے،قارئین کرام ! ہم ثانی زہرا (س) ، شریکۃ الحسین (ع) حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت کی مناسبت سے اپنے تمام سامعین کی خدمت میں تہنیت مبارک باد پیش کرتے ہیں، فضیلتوں اور کرامتوں سے معمور گھر میں رسول اسلام (ص) اور علی (ع) و فاطمہ (س) کی مانند عظیم ہستیوں کے دامن میں زندگي بسر کرنے والی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا وجود تاریخ بشریت کا ایک ‏غیرمعمولی کردار بن گياہے کیونکہ امام معصوم کے الفاظ میں اس عالمۂ ‏غیر معلمہ اور فہیمہ غیر مفہمہ نے اپنے بے مثل ہوش و ذکاوت سے کام لیکر ،عصمتی ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور الہی علوم و معارف کے آفتاب و ماہتاب سے علم و معرفت کی کرنیں سمیٹ کر خود اخلاق و کمالات کی درخشاں قندیل بن گئیں۔
جب بھی ہم جناب زینب سلام اللہ علیہا کی تاریخ حیات کا مطالعہ کرتے ہیں ان کے معنوی کمالات کی تجلیاں،جو زندگی کے مختلف حصوں پر محیط نظر آتی ہیں، آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہیں چاہے وہ اپنی ماں کی آغوش میں ہمکتی اور مسکراتی تین چار مہینہ  کی ایک معصوم بچی ہو چاہے وہ کوفہ میں خلیفۂ وقت کی بیٹی کی حیثیت سے خواتین اسلام کے درمیان اپنے علمی دروس کے ذریعہ علم و معرفت کے موتی نچھاور کرنے والی«عقیلۂ قریش» ہو یا کربلا کے خون آشام معرکہ میں اپنے بھائی حسین غریب کی شریک و پشت پناہ فاتح کوفہ و شام ہو ،ہرجگہ اور ہر منزل پر اپنے وجود اور اپنے کردار و عمل کے لحاظ سے منفرد اور لاثانی نظر آتی ہیں۔
جاری ہے

الحسنین



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20