Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185359
Published : 30/1/2017 19:25

حضرت زینب(س) کی عظمت رہبر انقلاب کی نظر میں:

کربلا کے بعد زینب(س) نے حسین(ع) بن کر تحریک کو آگے بڑھایا:رہبر انقلاب

حقیقت یہ ہے کہ زینب(س) کے بغیر کربلا، کربلا نہ ہوتی، زینب(س) کے بغیر عاشور کا تاریخی واقعہ یادگار نہ ہوتا،اس حادثہ میں علی(ع) کی بیٹی کی شخصیت کا کردار اتنا واضح اورآشکار ہے کہ انسان جناب زینبؑ کو علیؑ کی بیٹی کے لباس میں دوسرا حسین(ع) سمجھتا ہے۔


ولایت پورٹل:
حقیقت یہ ہے کہ زینب(س) کے بغیر کربلا، کربلا نہ ہوتی، زینب(س) کے بغیر عاشور کا تاریخی واقعہ یادگار نہ ہوتا،اس حادثہ میں علی(ع) کی بیٹی کی شخصیت کا کردار اتنا واضح اورآشکار ہے کہ انسان جناب زینبؑ کو علیؑ کی بیٹی کے لباس میں دوسرا حسین(ع) سمجھتا ہے،اس کے علاوہ اگر عاشورا کے بعد زینب(س) نہ ہوتیں تو کیا ہوتا، شاید امام زین العابدین(ع) بھی شہید ہوجاتے اور شاید امام حسین(ع) کا پیغام کسی تک نہ پہنچ پاتا،حسین ابن علی(ع)کی شہادت سے پہلے بھی زینب(س)، ایک سچے غمگسار کی مانند تھیں کہ جن کے ساتھ ہونے سے امام حسین(ع) تنہائی نہیں محسوس کرتے تھے، تھکن کا احساس نہیں کرتے تھے، انسان ایسا نقش و عکس جناب زینب(س) کے چہرہ اور آپ کے کلمات و کردار ہی میں دیکھ سکتا ہے۔
جناب زینب(س) نے دومرتبہ بیتابی و اضطرابی کا احساس کیا ہے اور اس کا ذکر امام حسین(ع) سے بھی کیا ہے،ایک مرتبہ اس وقت جب کسی منزل پر جناب مسلم(ع) کی شہادت کی خبر سنی اس کے علاوہ بھی مختلف قسم کی خبریں آرہی تھیں،جناب زینب(س) آخر ایک خاتون ہیں ،زنانہ جذبات اور لطیف احساسات رکھتی ہیں اور پرجوش جذبات کا مظہر ہیں، آل رسول(ص) کی صلابت کا پیکر، طاقت و شجاعت کامرقع، مصائب میں مقاومت و استقامت کا نمونہ ہونے کے ساتھ انسانی لطف و رحم اور رحم دلی کا مظہر بھی یہی ہیں میں اس سلسلہ میں حسین(ع) بن علی(ع) کے کردار کی ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ حضرت(ع) بے شمار مخالفوں اور بھوکے درندوں سے بھرے ہوئے صحراء کے مقابلہ میں تنہا کھڑے ہوئے ہیں، آپ(ع) کا بدن نہیں کانپ رہا ہے،لیکن ایک چھوٹی سی بات پر آپ منقلب ہوجاتے ہیں، لرز اٹھتے ہیں، مثلاً جب ایک سیاہ حبشی غلام زمین پر گرتا ہے تو آپ اس غلام کے سرہانے پہنچتے ہیں، ٹھیک ہے ایک سیاہ غلام ہے لیکن مخلصین میں سے ہے،شیدائیوں میں سے ہے، شاید یہ حضرت ابوذر کے غلام جناب جون ہیں جو اس زمانہ کے حالات اور سماجی تہذیب کے لحاظ سے اگرچہ مسلمانوں کے درمیان کوئی اونچا مرتبہ نہیں رکھتے تھے بلند مقام نہیں رکھتے تھے لیکن کربلا میں جام شہادت نوش کرتے ہیں،یوں توبہت سے اصحاب باوفا شہید ہوئے ہیں کوفہ کے شرفاء، مشہور و سربرآوردہ لوگ مثلاً حبیب بن مظاہر اور زہیر بن قین وغیرہ۔
جاری ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17