Tuesday - 2018 مئی 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185382
Published : 31/1/2017 18:10

مولانا سید علی شاہ رضوی حیات اور کارنامے

عراق میں بڑے بڑے جید علماء سے کسب فیض کیا جن میں شیخ جعفر کاشف الغطا، سید مہدی طباطبائی،شیخ المشائخ صاحب جواہر آپ کے خصوصی اساتید تھے ،صفدر شاہ صاحب نے واپسی کے لئے خط لکھا تو صاحب جواہر نے روک لیا کہ پہلے تصنیف و تالیف کا کام کرلو،چنانچہ آپ نے متعدد کتابیں تحریر فرمائیں اور صاحب جواہر اور سید مہدی طباطبائی جیسے اکابر نے انتہائی عظمت و احترام و جلالت کا ذکر فرماتے ہوئے اجازہ ہائے اجتہاد عطا فرمائے۔

ولایت پورٹل:
مولانا سید علی شاہ رضوی ۱۲۱۷ ہجری لکھنؤ میں پیدا ہوئے،آپ صفدر شاہ جیسے جلیل القدر بزرگ کے فرزند اور معقول و منقول میں انہی کے شاگرد تھے،۱۲۳۹ ہجری میں زیارت عتبات عالیات کے لئے تشریف لے گئے مگر ۱۲۴۰ ہجری میں واپس آکرفرخ آباد میں قیام فرمایا،چند دنوں کے بعد والد بزرگوار سے دوبارہ سفر کی اجازت لے کر عراق تشریف لے گئے ،ذی الحجہ ۱۲۴۰ ہجری میں کربلائے معلے پہونچے۔
عراق میں بڑے بڑے جید علماء سے کسب فیض کیا جن میں شیخ جعفر کاشف الغطا، سید مہدی طباطبائی،شیخ المشائخ صاحب جواہر آپ کے خصوصی اساتید تھے ،صفدر شاہ صاحب نے واپسی کے لئے خط لکھا تو صاحب جواہر نے روک لیا کہ پہلے تصنیف و تالیف کا کام کرلو،چنانچہ آپ نے متعدد کتابیں تحریر فرمائیں اور صاحب جواہر اور سید مہدی طباطبائی جیسے اکابر نے انتہائی عظمت و احترام و جلالت کا ذکر فرماتے ہوئے اجازہ ہائے اجتہاد عطا فرمائے۔
بارہ برس کے بعد فرخ آباد آئے اور ۱۲۵۲ ہجری میں نواب منتظم الدولہ حکیم مہدی علی خان وزیر نواب سعادت علی خان کے ہمراہ لکھنؤ تشریف لائے۔
فقہ و اصول میں یکتا،زہد و ورع میں یگانہ،عبادت و ادائے حقوق ناس میں بے مثل زمانہ تھے،تقویٰ اور گوشہ نشینی شعار،سخاوت و قناعت فطرت تھی،رات بھر نماز پڑھتے اور وقت سحر اس مسجد میں تشریف لے جاتے جس کے قریب ان کے والدین کی قبریں تھیں۔
قلمی آثار
۱۔معیار الاحکام شرح شرایع الاسلام
۲۔کفایة المستفید فی مباحث الاجتھاد و التقلید
۳۔ازالة الشبھات فی بیان دلالة النھی علی الفساد فی العبادات و المعاملات
۴۔تحقیق الصواب فی مباحث الاستصحاب
۵۔ تداخل الاسباب
۶۔کاشف القناع عن حجیة الاجماع
۷۔کاشف الغمة فی اصالة برأۃ الذمة
۸۔الفوائد العلویة فی المسائل الفقھیة
۹۔ حجیة المراسیل و عدمھا
یہ ان کتابوں کے اسامی ہیں جو اس وقت مختلف لائبریریز میں موجود ہیں اور اس کے علاوہ بہت سے دیگر آثار بھی ہیں جن کے بارے میں صرف اجمالی معلومات ہے۔
وفات
۲۵ ربیع الاول سن ۱۲۶۹ ہجری کو رحلت فرمائی اور حکیم مہدی علی خان کے مقبرے میں دفن ہوئے، جنازے کی مشایعت میں تمام شہزادے،اکابر و اعیان علمائے اعلام،سلطان العلماء ، سید العلماء کے ساتھ مؤمنین شہر کا جم غفیر تھا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 مئی 22