Friday - 2018 مئی 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185387
Published : 31/1/2017 20:4

حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک مثالی کردار(۲)

ایک روایت کے مطابق ابھی آپ چار سال کی بھی نہیں ہوئی تھیں کہ علی ابن ابی طالب ایک ضرورتمند کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے اپنے مہمان کے لئے کھانے کی فرمائش کی، معصومہ عالم نے عرض کی یا ابا الحسن! اس وقت گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے صرف مختصر سی غذا ہے جو میں نے زینب کے لئے چھوڑی ہے یہ سن کر علی و فاطمہ کی عقیلہ و فہیمہ بیٹی دوڑتی ہوئی ماں کے پاس گئی اور مسکراتے ہوئے کہا:مادر گرامی، میرا کھانا بابا کے مہمان کو کھلا دیجئے۔

ولایت پورٹل:
ہم نے پچھلے مضمون میں حضرت زینب(س) کی زندگی کے مختلف گوشوں کی طرف اشارہ کیا تھا اور آج کی گفتگو میں ہم شہزادی کی تعلیم نسواں اور والدین کے ساتھ تعاون کے متعلق گفتگو ہوگی لہذا اس کا پہلا حصہ پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک مثالی کردار(۱)
ایک روایت کے مطابق ابھی آپ  چار سال کی بھی نہیں ہوئی تھیں کہ علی ابن ابی طالب ایک ضرورتمند کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے اپنے مہمان کے لئے کھانے کی فرمائش کی، معصومہ عالم نے عرض کی یا ابا الحسن! اس وقت گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے صرف مختصر سی غذا ہے جو میں نے زینب کے لئے چھوڑی ہے یہ سن کر علی و فاطمہ کی عقیلہ و فہیمہ بیٹی دوڑتی ہوئی ماں کے پاس گئی اور مسکراتے ہوئے کہا:مادر گرامی، میرا کھانا بابا کے مہمان کو کھلا دیجئے،میں بعد میں کھالوں گی اور ماں نے بیٹی کو سینے سے لگالیا اور باپ کی آنکھوں میں مسرت و فرحت کی کرنیں بکھر گئیں:«تم واقعًا زینب ہو»سچ ہے کہ حادثے کسی سے کہکر نہیں آتے مگر بعض افراد حادثوں سے متاثر ہوکر اپنا وجود کھو دیتے ہیں مگر محمد عربی کا گھرانہ،حادثوں کے ہجوم میں بھی اپنے فرائض اور اپنے نورانی وجود کو حالات کی نذر ہونے نہیں دیتا۔
جناب زینب کو بھی بچپن میں ہی نانا محمد عربی کے سایۂ رحمت اور پھر چند ہی ماہ بعد اپنی درد و مصا‏ئب میں مبتلا مظلوم ماں کی مادرانہ شفقت سے محروم ہونا پڑا لیکن زمانے کے ان حادثوں نے مستقبل کے عظیم فرائض کی ادائیگی کے لئے پانچ سالہ زینب کے حوصلوں کو اور زیادہ قوی و مستحکم کردیا،اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد علی ابن ابی طالب کے تمام خانگی امور کے علاوہ خواتین اسلام کی تہذیب و تربیت کی ذمہ داریوں کو اس طرح اپنے کاندھوں پر سنبھال لیا کہ تاریخ آپ کو «ثانی زہرا» اور «عقیلۂ بنی ہاشم» جیسے خطاب عطاکرنے پر مجبور ہوگئی،حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے نبوت و امامت کے بوستان علم و دانش سے معرفت و حکمت  کے پھول اس طرح اپنے دامن میں سمیٹ لئے تھے کہ آپ نے احادیث کی روایت اور تفسیر قرآن کے لئے مدینہ اور اس کے بعد علی ابن ابی طالب (ع) کے دور خلافت میں کوفہ کے اندر،با قاعدہ مدرسہ کھول رکھاتھا جہاں خواتین کی ایک بڑی تعداد اسلامی علوم و معارف کی تعلیم حاصل کرتی تھی۔
جناب زینب(س) نے اپنے زمانے کی عورتوں کے لئے تعلیم و تربیت کا ایک وسیع دسترخوان بچھا رکھا تھا جہاں بہت سی خواتین آئیں اور اعلی علمی و معنوی مراتب پر فائز ہوئیں، حضرت علی (ع) نے اپنی بیٹی جناب زینب کبری کی شادی اپنے بتھیجے جناب عبداللہ ابن جعفر سےکی تھی ، جن کی کفالت و تربیت، جناب جعفر طیار کی شہادت کے بعد خود نبی اکرم (ص) نے اپنے ذمے لے لی تھی اور رسول اسلام (ص) کی رحلت کے بعد علی بن ابی طالب (ع) نے ہی ان کی بھی پرورش کی تھی اس کے باوجود روایت میں ہے کہ حضرت علی (ع) نے عبداللہ ابن جعفر سے شادی سے قبل یہ وعدہ لے لیا تھا کہ وہ شادی کے بعد جناب زینب کبری(س) کے اعلی مقاصد کی راہ میں کبھی حائل نہیں ہوں گے اگر وہ اپنے بھائی امام حسین (ع) کے ساتھ سفر کریں تو وہ اپنے اس فعل میں مختار ہوں گی۔
جاری ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 مئی 25