Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185407
Published : 1/2/2017 16:46

بیوی پر شوہر کےحقوق(۹)

انسان کو ان حساس مواقع پر کسی ایسے ہمدرد اور مہربان کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو اسے تسلی دے کر اس کی روح کو تسکین دے سکے اور اس کے بگڑے ہوئے توازن کو بحال کرسکے۔


ولایت پورٹل:ہم نے گذشتہ مضمون میں قارئین کی خدمت میں یہ عرض کیا تھا کہ خواتین کا اپنے شوہروں سے بے جا توقعات بسا اوقات پورے گھر کو تباہ کردیتا ہے اور ہم نے دلیل کے طور پر چند واقعات قلمبند کئے تھے آج ہم جس حق کے متعلق گفتگو کریں گے اس کا موضوع ہے برے وقت میں شوہر کو تسلی دینا اور اس کی ڈھارس بندھانا،لہذا اس سے پہلے والے کالم کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
بیوی پر شوہر کےحقوق(۸)
اپنے شوہر کو تسلّی دو
زندگی کی  تمام دشواریاں  مرد کے کاندھوں پر ہوتی ہیں، گھر کے اخراجات  کو کسی نہ کسی  طرح  اسے ہی پورا کرنا ہوتا ہے گھر سے باہر سینکڑوں طرح کی مشکلات اس کے سامنے ہوتی ہیں ، ممکن ہے کہ وہ اپنے سرکردہ یا رئیس کی طعن و تشنع کے زد میں آگیا ہو یا اپنے شریک کار  کی وعدہ خلافی اور دھوکہ کی زد میں آگیا ہو نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے مطالبات پورے نہ ہوئے ہوں ، ممکن ہے  چیک بک یا اسٹانمپ کے لئے کوئی مناسب شخص دستیاب نہ ہوا ہو ، ممکن ہے بازار کی بے رونقی اور عدم درآمد کا اسے  سامنا کرنا پڑا ہو،ممکن ہے  اسے  کوئی مناسب کام نہ مل پایا ہو  غرض !  مردکی پریشانیان ایک یا  دونہیں ہیں  بلکہ ہر  روز اسی طرح کی سینکڑوں مشکلیں اور  حادثات  اس کے تاک میں بیٹھے رہتے ہیں ،بہت ہی کم ایسا دن اسے دیکھنے  کو ملتا ہے  جس دن اس کے سامنے   کوئی پریشانی اور مشکل  نہ ہو، اور مردوں کی عمروں کا عورتوں سے معمولاً کم ہونا بغیر کسی سبب اور حکمت کے ہی نہیں ہے ! بھلا ایک آدمی کس حد تک حادثات اور پریشانیوں کو برداشت کرسکتا ہے!
انسان کو ان حساس مواقع پر کسی ایسے ہمدرد اور مہربان کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو اسے تسلی دے کر اس کی روح کو تسکین دے سکے اور اس کے بگڑے ہوئے توازن کو بحال کرسکے۔
اے محترم خاتون!تمہارے  شوہر کاکوئی ہمدم نہیں ہے  وہ غربت اور تنہائی کا احساس کرتا ہے ، وہ مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لئے گھر اور تمہاری طرف پناہ  لینے کے لئے آتا ہے، اسے تمہاری ڈھارس اور  تسلی کی ضرورت ہے، اور اگر وہ کسی دن ناراضگی اور پریشانی کے عالم میں گھر میں داخل ہو تو تم معمول سے زیادہ اور بڑے جوش و خروش میں اسے  سلام کرو اور نہایت خوشی کے ساتھ اس کے حال و احوال پوچھو اور ہر دن سے جلدی اس کے لئے چائے اور دوسرے آرام کے سامان مہیا کرو  اور کسی بھی موضوع پر اس سے بلکل بات  مت کرو،کوئی اعتراض نہ کرو، اس سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کرو،اس کے سامنے اپنی پریشانیوں کا تذکرہ مت کرو ،اسے اچھی طرح  آرام کرلینے  دو،اگروہ بھوکا ہو  تو اسے  سیر ہولینے  دو،اگر اسے سردی لگ گئی ہو تو گرم ہولینے دو ،اگر گرمی سے پریشان ہے تو اسے سکون کی سانس لے لینے دو  ، اور جب اس کی تھکاوٹ دور ہوجائے  اور اس کے ذہن کا توازن بحال ہوجائے تب تم نرم لہجہ میں اس سے اسکی پریشانی اور ناراضگی کا سبب  دریافت کرو ۔

جاری ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22