Tuesday - 2018 مئی 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185409
Published : 1/2/2017 17:49

حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک مثالی کردار(۳)

جناب زینب(س) نے اپنے وقت کے ظالم و سفاک ترین افراد کے سامنے پوری دلیری کے ساتھ اسیری کی پروا کئے بغیر مظلوموں کے حقوق کا دفاع کیا ہے اور اسلام و قرآن کی حقانیت کا پرچم بلند کیاہے۔

ولایت پورتل:ہم نے گذشتہ دو مضامین میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی زندگی کے مختلف گوشوں کی طرف قارئین کی توجہات کو مبذول کرایا اور آج کی گفتگو سابقہ گفتگو کے نتیجے کے طور پر پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں لہذا ہماری پہلی گفتگو سے متصل ہونے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس پر کلک کیجئے!

حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک مثالی کردار(۱)
حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک مثالی کردار(۲)
جناب عبداللہ ابن جعفر نے بھی اپنے وعدے پر عمل کیا اور حضرت علی (ع) کے زمانے سے لے کر امام زین العابدین علیہ السلام کے زمانے تک ہمیشہ دین اسلام کی خدمت اور امام وقت کی پشتپناہی کے عمل میں جناب زینب سلام اللہ علیہا کی حمایت اور نصرت و مدد کی حضرت علی (ع) کی شہادت کے بعد جناب زینب(س) کو اپنےشوہر کے گھر میں بھی آرام و سکون کی زندگی میسر تھی، جناب عبداللہ اقتصادی اعتبار سے صاحب حیثیت شخص تھے انہوں نے ہر طرح کی مادی و معنوی سہولیات حضرت زینب (س) کے لئے مہیا کر رکھی تھیں، وہ جانتے تھے جناب زینب (س) اپنے بھائیوں امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) سے بہت زیادہ مانوس ہیں اور ان کے بغیر نہیں رہ سکتیں لہذا وہ اس راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں بنے، خاص طور پر جناب زینب امام حسین (ع) سے بہت زیادہ قریب تھیں اور یہ محبت و قربت بچپن سے ہی دونوں میں پرورش پارہی تھی۔
چنانچہ روایت میں ہے کہ جب آپ بہت چھوٹی تھیں ایک دن معصومۂ عالم نے پیغمبر اسلام (ص) سے عرض کی کہ بابا جان ! مجھے زینب اور حسین کی محبت دیکھ کر کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے یہ لڑکی اگر حسین کو ایک لمحے کے لئے نہیں دیکھتی تو بے چن ہوجاتی ہے، اس وقت رسول اسلام (ص) نے فرمایاتھا:بیٹی ! وہ مستقبل میں اپنے بھائی حسین کی مصیبتوں اور سختیوں میں شریک ہوگی۔
اسی لئے جناب زینب(س) نے عظیم مقاصد کے پیش نظر آرام و سکون بھری زندگی ترک کردی اور جب امام حسین (ع)نے اسلام کی حفاظت اور ملت اسلامیہ کی اصلاح کے لئے کربلا کا سفر اختیار کیا تو جناب زینب(س) بھی بھائی کے ساتھ ہوگئیں۔
جناب زینب(س) نے اپنی زندگی کے مختلف مرحلوں میں اسلامی معاشرہ میں رونما ہونے والے طرح طرح کے تغیرات بہت قریب سے دیکھے تھے خاص طور پر دیکھ کر کہ امویوں نے کس طرح دور جاہلیت کی قومی عصبیت اور نسلی افتخارات کو رواج دے رکھا ہے اور علی الاعلان اسلامی احکامات کو پامال کررہے ہیں، علی و فاطمہ کی بیٹی اپنے بھائی کے ساتھ اسلامی اصولوں کی برتری کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہوگئی ظاہر ہے جناب زینب ، بھائی کی محبت سے قطع نظر اسلامی اقدار کی حفاظت اور اموی انحراف سے اسلام کی نجات کے لئے امام حسین(ع) کے  ساتھ ہوئی تھیں کیونکہ آپ کاپورا وجود عشق حق اور عشق اسلام سے سرشار تھا، جناب زینب نے واقعۂ کربلا میں اپنی بے مثال شرکت کے ذریعے تاریخ بشریت میں حق کی سربلندی کے لڑے جانے والی سب سے عظیم جنگ اور جہاد و سرفروشی کے سب سے بڑے معرکہ، کربلا کے انقلاب کو رہتی دنیا کے لئےجاوداں بنادیا، جناب زینب سلام اللہ کی قربانی کا بڑا حصہ میدان کربلا میں نواسۂ رسول امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد اہلبیت رسول (ص)کی اسیری اور کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں تشہیر سے تعلق رکھتاہے۔
اس دوران جناب زینب کبری(س) کی شخصیت کے کچھ اہم اور ممتاز پہلو ، حسین ترین شکل میں جلوہ گر ہوئے ہیں،خدا کے فیصلے پر ہر طرح راضی رہنا اور اسلامی احکام کے سامنے سخت ترین حالات میں سر تسلیم و رضا خم رکھنا علی کی بیٹی کا سب سے بڑا امتیاز ہے صبر،شجاعت ، فصاحت و بلاغت اور نظم و تدبیر کے اوصاف سے صحیح اور پر وقار انداز میں استفادہ نے آپ کو عظیم انسانی ذمہ داریوں کی ادائگی میں بھرپور کامیابی عطا کی ہے جناب زینب(س) نے اپنے وقت کے ظالم و سفاک ترین افراد کے سامنے پوری دلیری کے ساتھ اسیری کی پروا کئے بغیر مظلوموں کے حقوق کا دفاع کیا ہے اور اسلام و قرآن کی حقانیت کا پرچم بلند کیاہے جن لوگوں نے نواسۂ رسول(ص)کو ایک ویران و غیر آباد صحرا میں قتل کرکے، حقائق کو پلٹنے اور اپنے حق میں الٹا کرکے پیش کرنے کی جرات کی تھی سردربار ان بہیمانہ جرائم کو برملا کرکے کوفہ و شام کے بے حس عوام کی آنکھوں پر پڑے ہوئے غفلت و بے شرمی کے پردے چاک کئے ہیں، اور باوجود اس کے کہ بظاہر تمام حالات بنی امیہ اور ان کے حکمراں یزید فاسق و فاجر کے حق میں تھے جناب زینب(س) نے اپنے خطبوں کے ذریعے اموی حکام کی ظالمانہ ماہیت برملا کرکے ابتدائی مراحل میں ہی نواسۂ رسول کے قاتلوں کی مہم کو ناکام و نامراد کردیا۔
ہم ایک بار پھر اسلام اور پیغمبر اسلام (ص)کا افتخار علی و فاطمہ کی اس شیردل بیٹی کے یوم ولادت کی مناسبت سے اپنے سامعین کو تہنیت و مبارک باد پیش کرتے ہیں اور جناب زینب کے ایک زرین قول پر اپنی یہ گفتگو تمام کرتے ہیں،آپ فرماتے ہیں:«خداوند متعال کو تم پر جو  قوت و اقتدار حاصل ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے ڈرتے رہو اور وہ تم سے کس قدر قریب ہے اس کو پیش نظر رکھ کر (گناہ کرنے سے) شرم کرو »۔
الحسنین


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 مئی 22