Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185430
Published : 2/2/2017 16:55

بیوی پر شوہر کےحقوق(۱۰)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:دنیا میں شائستہ بیوی سے زیادہ کوئی بھی چیز افضل نہیں ہے ، جسے دیکھ کر اس کے شوہر کا دل مسرور اور شاد ہوجائے۔

ولایت پورٹل:
ہم نے گذشتہ گفتگو کے دوران اپنے قارئین کی خدمت میں یہ عرض کیا تھا کہ اسلام نے جس طرح مردوں پر عورتوں کے کچھ حقوق فرض کئے ہیں اسی طرح اس نے عورت کا اپنے شوہر،بچوں اور گھر کے تئیں لاپرواہی کو قبیح شمار کیا ہے،لہذا بہترین شریک حیات وہی ہے کہ جو ہر حال میں اپنے شوہر کا ساتھ نبھائے ورنہ خوشحالی میں تو دوسرے بھی ہم نشین بن جاتے ہیں،لہذا اس سے پہلے کا حصہ پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
بیوی پر شوہر کےحقوق(۹)
اگر تمہیں ایسا لگے کہ وہ ابھی تمہیں کچھ بتانے کے لئے تیار نہیں ہے تو تم اس سے ضد مت کرو اور اگر اس نے اپنے دل میں چھپی بات بیان کرنا شروع کردی تو اب غور سے اس کی گفتگو سنو اس طرح کہ تمہاری ساری توجہ اسکی طرف ہو، فضول ہنسی سے مکمل اجتناب کرو  بلکہ اسکی پریشانی اور ناراضگی کے اسباب جان کر اظہار افسوس کرو اور  اپنے  آپکو اس طرح ظاہر کرو کہ جس طرح اس سے بھی زیادہ تم اس کے ساتھ پیش آنے والی  پریشانی سے پریشان  ہو ، اور اس کے زخموں پر محبت  اور ہمدردی  کا مرہم لگاؤ، نرمی اور ملائمت کی ساتھ اسکو تسلی دو اور اس  موضوع کو اس کے سامنے چھوٹا بناؤ اور مشکلات سے نپٹنے کے لئے اس کی حوصلہ افزائی کرو  اور کہو کہ ایسے  حادثات تو  زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں اور ہر ایک کے سامنے یہ حادثات  آتے رہتے ہیں، یہ اتنی  اہم  چیز نہیں ہے ،انسان صبر و استقامت کی طاقت سے  مشکلات پر قابو پا سکتا ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان کے مقابلہ پر ہار نہ مانے  ،اصولاً انسان کی شخصیت اور مردانگی ایسی مواقع پر ہی تو نکھر کر سامنے آتی ہے  تم غم مت کرو ،صبر اور کوشش کرو تاکہ مشکلات حل ہوجائیں، اور  اگر اسے رہنمائی کی ضرورت ہو اور تمہارے پاس کوئی مناسب تجویز ہو تو اس کے سامنے پیش کرو  اور اگر وہ اسے پسند نہ آئے تو اسے اس امر پر وادار کرو کہ وہ کسی خیرخواہ عزیز یا رشتہ دار سے اپنی مشکلات کے بارے میں مشورہ کرے۔
اے محترم  خاتون!تمہارے  شوہر کو پریشانی کے وقت تمہاری ہمدردی ، تسلی اور مہر بانیوں کی شدید ضرورت ہے ، تمہیں اس کی فریاد کو پہونچنا چاہیئے  اور ایک مہربان نرس بلکہ ایک ہمدردی رکھنے والے  نفسیاتی  ڈاکٹر کی طرح اسے  تسلی دو بلکہ ایک نرس اور ڈاکٹر تو کیا بلکہ تم اپنی ذاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ایک جان نثار خاتون کی طرح  شوہر کی خدمت کرو چونکہ جو کام ایک وفادار بیوی کرسکتی ہے وہ کوئی ڈاکٹر یا حکیم بھی نہیں کرسکتا؟ تم اس چیز سے غافل ہو کہ تمہاری تسلی اور مہربانیوں کا تمہارے شوہر کی روح  اور نفسیات پر کتنا معجز انہ اثر ہوگا! اسکے  دل و دماغ کو کتنا آرام  ملے گا  ، وہ دوبارہ پر نشاط ہوکر زندگی گذارنے لگے گا ،مشکلات سے  مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہوجائے گا، نیز اسے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ وہ اس دنیا میں  تنہا اور بے سہارا نہیں ہے ، اور اسے تمہاری وفاداری اور دوستی پر مزید  اطمینان حاصل جائے گا ،تمہارے اخلاق پر فریفتہ اور تم سے محبت کرنے لگے گا اور اس طرح تمہاری شادی شدہ زندگی کے ستون مزید مضبوط اور مستحکم ہوجائیں گے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:«دنیا میں شائستہ بیوی سے زیادہ کوئی چیز بھی  بہتر نہیں ہے ، جسے دیکھ کر اس کے شوہر کا دل مسرور اور شاد ہوجائے»۔(۱)
اور حضرت امام  رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :«عورتوں میں سے ایک  جماعت ایسی ہے جن کے یہاں باکثرت اولاد ہوتی ہے، اور جو نہایت مہربان اورنرم دل ہوتی ہیں ،شوہر کی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور سختیوں نیز اخروی امور میں ان کی پشت پناہی کرتی ہیں،ان کا کوئی کام شوہر کے نقصان میں نہیں ہوتا اور وہ نہ ان کی پریشانیوں میں اضافہ کرتی ہیں»۔(۲)
...............................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ بحار الانوار،ج 103، ص 217 ۔
۲۔مستدرک، ج 2 ،ص 534 ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21