Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185435
Published : 2/2/2017 17:36

حضرت زینب(س) کی عبادتیں

حضرت زینب(سلام اللہ علیہا) کا خداوند عالم کے ساتھ عبادتوں کے ذریعہ بہت گھرا رابطہ تھا جس کے نتیجہ میں آپ اپنی زندگی کی اتنی مشکلات کے باوجود کبھی پریشان نہیں ہوئیں۔

ولایت پورٹل:
حقیقی مؤمن وہی ہے جو زندگی کی مشکلات میں کبھی بھی پریشان نہ ہو اور خدا کی بارگاہ میں حالات کی شکایت اور اعتراض کرنے کے بجائے صبر اور استقامت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتا ہے اور ان حالات میں اپنے اور خدا کے رشتہ کو اور مستحکم کرتا ہے اس صورت میں اس کو سکون اور آرام میسر ہوتا ہے جس کے بارے میں خداوند متعال قرآن مجید میں اس طرح ارشاد فرمارتا ہے:«الَّذينَ آمَنُوا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ»۔(۱)
ترجمہ:یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دلوں کو یاد خدا سے اطمینان حاصل ہوتا ہے اور آگاہ ہوجاؤ کہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے۔
ایمان کی اس بلندی پر بہت کم افراد پہونچتے ہیں جن کا رابطہ خدا سے اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ وہ اپنی پریشانیوں میں خدا کے ذکر کے ذریعہ اپنے آپ کو سکون پہنچاتے ہیں، حضرت زینب(سلام اللہ علیہا) ان باایمان لوگوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی تمام تر پریشانیوں کے باوجود خدا سے توسل اور ارتباط کو نہیں چھوڑا بلکہ ان مصیبتوں کے عالم میں بھی اپنی عبادتوں کے ذریعہ خدا سے ارتباط کو اور زیادہ مضبوط کیا مثال کے طور پر،حضرت زینب(سلام اللہ علیہا) نے کربلاء کے ان دردناک مصائب میں بھی اپنی عبادتوں کو ترک نہیں کیا اور خدا سے ارتباط کو قائم رکھا یہاں تک کے ان حالات میں بھی اپنی نماز شب کے ذریعہ خدا کو یاد کیا جس کے بارے میں فاطمہ بنت الحسین(علیہما سلام) فرماتی ہیں: «وَ اَمَّا عَمَّتِی زِینَب فَاِنَّهَا لَم تَزَل قَائِمَةٌ فِی تِلکَ اللَّیلَة اَی عَاشِرَة مِنَ المُحَرَّمِ فِی مِحرابِها تَستغیث اِلَی رَبِّهَا؛ میری پھوپی زینب (سلام الله علیها) شب عاشورا تمام رات اپنی محراب میں کھڑی ہوکر عبادت میں مصروف تھیں اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں استغاثہ کررہی تھیں»۔(۲)
حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی عبادت کی عظمت کو روشن کرنے کے لئے امام حسین(علیہ السلام) کا اپنی بہن سے یہ کہنا کہ اے بہن زینب! مجھے اپنی تہجد کی نمازوں میں نہ بھولنا۔(۳) کافی ہے کہ ہم امام(علیہ السلام) کے اس جملہ سے جناب زینب کی عظمت اور معرفت کو سمجھیں۔
امام سجاد(علیہ السلام) آپ کی عبادت کی عظمت کو بتاتے ہوئے فرمارہے ہیں: «اِنَّ عَمَّتي زَيْنَب کانَتْ تُؤَدّي صَلَواتِها مِنْ قِيام، اَلفَرائِضَ وَ النَّوافِلَ، عِنْدَ مَسيرِنا مِنَ الکُوفَةِ اِلَي الشّامِ، وَ في بَعْضِ المَنازِل تُصَلّي مِنْ جُلُوسٍ... لِشِدَّةِ الجُوعِ وَ الضَّعْفِ مُنْذُ ثَلاثِ لَيالٍ لاَنَّها کانَتْ تَقْسِمُ ما يُصيبُها مِنَ الطَّعامِ عَلَي الاَطْفالِ، لِاَنَّ القَوْمَ کانُوا يَدْفَعُونَ لِکُلِّ واحِدٍ مِنّا رغيفاً واحِداً مِنَ الخُبْزِ فِي اليَوْمِ وَ اللَّيلَة»۔(۴)
ترجمہ:یقنا میری پھوپی زینب(سلام اللہ علیہا) کوفہ سے شام  کے تمام راستوں میں نماز کھڑے ہوکر پڑھتی تھیں اور بعض مقامات پر بھوک اور کمزوری کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھتی تھیں چونکہ وہ کھانا جو ہم لوگوں کے لئے لشکر کی طرف سے ملتا تھا وہ اتنا کم ہوتا کہ بی بی  اپنا کھانا بچوں کے درمیان تقسیم کردیتی تھیں  
نتیجہ:حضرت زینب(سلام اللہ علیہا) کے ان مصائب اور پریشانیوں میں اس طرح کی عبادت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہم بھی اپنے آپ کو حضرت زینب(سلام اللہ علیہا) کی اتباع کرتے ہوئے سنواریں، خدا سے عبادت کے ذریعہ اپنے رشتہ کو مضبوط کریں تاکہ مشکلات اور پریشانیوں میں خدا سے شکایت کرنے کے بجائے اس سے اپنے رابطہ کو مزید محکم کریں۔
................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔سورہ رعد:آیت۲۸۔
۲۔عبد الله بن نور الله‏ بحرانى اصفهانى، عوالم العلوم و المعارف والأحوال من الآيات و الأخبار الأقوال،ج۱۱،ص ۹۵۴،مؤسسة الإمام المهدى (علیه السلام)،ایران،قم۔
۳۔«يا اُخْتاه! لا تَنْسِني في نافلةِ اللَّيْل»، سابق حوالہ۔
۴۔سابق حوالہ۔
   


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16