Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185465
Published : 4/2/2017 16:36

کیا نبی پر سہو و نسیان طاری ہوسکتا ہے؟(۲)

شیخ صدوق(رح)کے نظریہ کے مطابق یہ سہو رحمانی اس لئے ہے تاکہ لوگ پیغمبر(ص)کے حق میں غلو میں مبتلا ہو کر آپ(ص) کی پرستش نہ کرنے لگیں یا مثلاً جو لوگ نماز یا عبادات میں سہو میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی ملامت نہ ہو لہٰذا خدا نے اپنے نبی(ص) کو سہو میں مبتلا کردیا،درحقیقت شیخ صدوق(رح)اس تبصرہ کے ذریعہ نبوت کے عظیم المرتبت مقام کو شیطانی سہو ونسیان کے وسوسہ سے محفوظ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

ولایت پورٹل:
ہم نے گذشتہ کالم میں سہو النبی سے متعلق شیعہ اثنا عشری عقیدہ کی تصریح کی تھی اور یہ بیان کیا تھا کہ نبی پر سہو یا نسیان کا طاری ہونا، عصمت کے منافی ہے اگرچہ شیعہ علماء میں سے صرف شیخ صدوق(رح) اس نظریہ کے قائل ہیں لیکن تنہا ایک بزرگ کا کسی چیز کو ماننا اس کی پوری قوم کے عقیدہ کی عکاسی نہیں کرتا،دوسرے خود جناب شیخ صدوق(رح) نے اپنے اس نظریہ کی حدود اور قیود کو ذکر کیا ہے جو ہماری آج کی گفتگو کا اہم حصہ ہے لہذا اس موضوع پر ابتداء سے پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
کیا نبی پر سہو و نسیان طاری ہوسکتا ہے؟(۱)
اس نکتہ کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ شیخ صدوق(رح) اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ نبی کے سہو اور عام لوگوں کے سہو میں فرق ہے،پیغمبر(ص)کا سہو ونسیان رحمانی ہے۔
شیخ صدوق(رح)کے نظریہ کے مطابق یہ سہو رحمانی اس لئے ہے تاکہ لوگ پیغمبر(ص)کے حق میں غلو میں مبتلا ہو کر آپ(ص) کی پرستش نہ کرنے لگیں یا مثلاً جو لوگ نماز یا عبادات میں سہو میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی ملامت نہ ہو لہٰذا خدا نے اپنے نبی(ص) کو سہو میں مبتلا کردیا،درحقیقت شیخ صدوق(رح)اس تبصرہ کے ذریعہ نبوت کے عظیم المرتبت مقام کو شیطانی سہو ونسیان کے وسوسہ سے محفوظ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن بہر صورت جیساکہ پہلے بھی بیان کیا گیا سہو النبی کا تصور کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔(۱)
آخر کلام میں یہ عرض کرنا بھی مناسب ہے کہ اہل سنت کے مجامع روائی میں سہو النبی سے متعلق جو روایات نقل ہوئی ہیں ان میں اختلاف اور ناہم آہنگی پائی جاتی ہے جس سے اعتبار اورا ن کی حجیت مشکوک ہو جاتی ہے، روایات میں مندرجہ ذیل اختلافات ہیں۔
۱۔جس نماز میں پیغمبر(ص) کو سہو ہوا بعض روایات کے مطابق وہ نماز ظہر تھی ،بعض دیگر کے مطابق نماز عصر اور بعض کے مطابق ظہر وعصر دونوں میں شک ہوا۔
۲۔بعض روایات کے مطابق ایک رکعت کی زیادتی بعض دیگر کے مطابق ایک رکعت کی کمی اور اکثر روایات کے مطابق دو رکعت کی کمی کا سہو ہوا تھا۔
۳۔ان روایات کے مطابق جب ذوالیدین نے پیغمبر(ص) کو آپ کے سہو کی جانب متوجہ کیا تو آنحضرت(ص) نے اس کی بات قبول نہیں کی بلکہ دوسرے افراد سے سوال کیا انہوں نے بھی ذوالیدین کی تائید کی نتیجۃً پیغمبر اکرم(ص) کو اپنے سہو کا یقین ہوگیا،اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر(ص) کو صرف اپنی نماز کے متعلق ہی سہو نہیں ہوا بلکہ آپ(س) اپنے سہو کے بارے میں بھی تردد میں مبتلا تھے،یہ صفت اور ایسی حالت کسی بھی قیمت پر درجۂ نبوت ورسالت کے شایان شان نہیں ہے۔(۲)
۴۔ان روایات میں پیغمبر(ص) کو یاد دلانے کے وقت میں بھی اختلاف ہے بعض روایات کے مطابق نماز کے بعد بلا فاصلہ یاد دلایا گیابعض روایات کے مطابق اپنی جگہ سے اٹھنے اور مسجد میں ستون سے ٹیک لگانے کے بعد، اور بعض دوسروں کے مطابق اپنے حجرہ میں داخل ہونے کے بعد ـــــــ طے شدہ ہے کہ بقول قائلین یہ واقعہ صرف ایک مرتبہ پیش آیا اس میں اتنے اختلافات کی توجیہ ممکن نہیں ہے۔
۵۔بعض روایات میں منقول ہے کہ جب ذوالیدین نے آنحضرت(ص) کو آپ کے سہو کی جانب متوجہ کیا تو پیغمبر اکرم(ص) کو غصہ آگیا !بدیہی ہے کہ صاحب خلق عظیم کے لئے ایسے موقع پر،غیض وغضب ہزگز روا نہیں ہے۔
............................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔مزید تفصیل کے لئے علامہ شبر کی کتاب:حق الیقین، ج۱،ص۹۳۔۹۸  اور شیخ حر عاملی کی کتاب:التنبیہ،ملاحظہ فرمائیں۔
۲۔الالھیات علی ھدیٰ الکتاب والسنۃ والعقل، ج۲،ص ۱۹۴۔۱۹۶ کی طرف رجوع فرمائیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18