Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185490
Published : 5/2/2017 14:47

ٹرمپ اور مشرق وسطٰی؟

گریٹر میڈل ایسٹ کا نظریہ وائٹ ہاؤس کی اولین ترجیحات میں سے ہے جس کا لازمہ خطے کے ممالک کا تجزیہ ہے، اگر اس خطے کے حکام نے حالات کا صحیح تجزیہ نہ کیا تو سوڈان، لیبیا اور مصر جیسے حالات کا تجربہ کرنا پڑسکتا ہے جس سے مشرق وسطیٰ کی پائداری یقیناً خطرے میں پڑجائے گی۔

ولایت پورٹل:
وائٹ ہاؤس میں کسی نئے صدر کی آمد دیگر ممالک کے لیے خاصی اہمیت کی حامل ہوتی ہے کیونکہ تقریباً سبھی ممالک میں امریکہ کسی نہ کسی طرح مداخلت کرتا رہتا ہے۔
مشرق وسطیٰ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے،عرب ممالک کو قطعی توقع نہیں تھی کہ ڈونالڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کی دہلیز پار کرنے میں کامیاب ہوپائیں گے اسی لیے انہوں نے ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،مگر ان کی امیدوں کے برخلاف ایسا صدر منتخب ہوگیا جو روس سے مذاکرات کی بات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بشار اسد کو کنارے لگانے کے بجائے داعش سے جنگ کا خرچ بھی سعودی عرب سے ہی وصول کیا جانا چاہئے۔
اسی طرح ایران کے جوہری معاہدے کے تعلق سے بھی ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے،جب کہ سعودی حکام کا ماننا ہے کہ اگر جوہری معاہدے کو منسوخ کیا گیا تو ایران پہلے سے زیادہ شیر ہوجائے گا کیونکہ پھر پابندیاں ہٹ جائیں گی اور ایران جوہری میدان میں پیشرفت کرتا رہے گا۔
اس کے علاوہ ٹرمپ اسلام اور مسلمانوں کے بھی مخالف ہیں، ان کا ماننا ہے کہ اسلام عورتوں، ہم جنس پرستوں اور امریکیوں کا مخالف ہے،ٹرمپ کی پوری کوشش ہے کہ عیسائیت کو امن پسند اور اسلام کو شدت پسند دین کے طور پر پیش کریں جب کہ وہ اس بات کو بھول رہے ہیں کہ امریکہ میں عیسائی قدامت پسندوں سے زیادہ کسی نے بھی ہم جنس پرستی کی مخالفت نہیں کی۔
مذکورہ نظریات اور بیانات کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ کی نئی سیاست میں بھی دنیائے اسلام کے خلاف معاندانہ سیاست کا سلسلہ ماضی کی طرح جاری رہے گا،مگر دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کس طرح کے قدم اٹھاتے ہیں۔
ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ وہ بشار اسد کے مخالف ہیں مگر ان کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ روس کے خلاف محاذ بنانے سے گریز کیا جائے اور داعش کا سنجیدگی سے مقابلہ کیا جائے، ممکن ہے اس سیاست کو عملی جامہ پہنانے کے لیے شام کے اعتدال پسند مخالفین کو استعمال کیا جائے۔
مگر شام میں ایک مرکزی حکومت کا قیام امریکہ اور صہیونی حکومت کے حق میں نہیں ہے،جب کہ دوسری طرف لبنان میں بھی ایسا صدر منتخب ہوا ہے جسے حزب اللہ کی مکمل حمایت حاصل ہے،لبنان کے نو منتخب صدر 2006 سے حسن نصر اللہ کے ساتھ کام کررہے ہیں۔
تیسری طرف سے امریکی اتحادی سعودی عرب کو 81 ارب ڈالر خسارہ کا سامنا ہے اور عراق، شام و یمن میں اس کی سیاستیں دم توڑ رہی ہیں۔
ایسے حالات میں ریاض کے کمزور ہونے کا مطلب تل ابیب کا ناکام ہونا ہے،اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن کے دوران امریکی معیشت میں سدھار لانے اور دفاعی بجٹ کو کم کرنے کا نعرہ دینے والے امریکہ کے نو منتخب صدر داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد میں اپنی مشارکت کے حوالے سے نئی سیاست ترتیب دیں گے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں روزانہ تقریباً دس ملین ڈالرز خرچ ہوتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی اسٹریٹجی پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے خواہ منتخب ہونے والے صدر کا کسی بھی گروہ سے تعلق ہو۔ کسی امیدوار کے انتخابی نعرے امریکہ کی سیاست میں بڑی تبدیلی ایجاد نہیں کرسکتے۔
گریٹر میڈل ایسٹ کا نظریہ وائٹ ہاؤس کی اولین ترجیحات میں سے ہے جس کا لازمہ خطے کے ممالک کا تجزیہ ہے، اگر اس خطے کے حکام نے حالات کا صحیح تجزیہ نہ کیا تو سوڈان، لیبیا اور مصر جیسے حالات کا تجربہ کرنا پڑسکتا ہے جس سے مشرق وسطیٰ کی پائداری یقیناً خطرے میں پڑجائے گی۔
شام میں دہشتگردوں گروہوں کی تشکیل اور انہیں اسلحوں کی فراہمی اسی مقصد کے تحت انجام پارہی تھی مگر تہران دمشق نے ایک ساتھ ملکر اس سیاست کو ناکام بنادیا،اسرائیل کی سکیورٹی اور مشرق وسطیٰ کی مالامال زمین میں دراندازی ان مسائل میں سے ہیں کہ جنہیں وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے والا ہر صدر اپنی ساست کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔
اس بنا پر یہ پیشنگوئی کی جاسکتی ہے کہ قومی و مذہبی منافرت کا سلسلہ جاری رہے گا اور خاندان آل سعود اس گندی سیاست کے نتائج سے بےخبر اسے عملی بنانے میں کردار ادا کرتے رہیں گے۔
ابلاغ



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18