Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185493
Published : 5/2/2017 17:1

جنگ موتہ

موتہ نامی ایک دیہات کے کنارے اسلامی فوج کا سامنا روم کی فوج سے ہوا جس کے فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ تھی،تینوں سپہ سالاروں نے ترتیب وار اسلامی فوج کا پر چم اپنے ہاتھوں میں بلند کرتے ہوئے جنگ کی اور منزل شہادت پر فائز ہوگئے۔

ولایت پورٹل:
پیغمبر اکرم(ص) نے صلح حدیبیہ کے بعد باقاعدہ اپنی عالمی رسالت کا آغاز کیا اور دنیا کے شہنشاہان مملکت کو اسلام کی طرف دعوت دی اس زمانے کے ملکوں میں روم اور ایران جیسی بڑی حکومتیں سُپر پاور سمجھی جاتی تھیں،قیصر روم تک پیغمبر اکرم(ص) کی نبوت کے بارے میں خبریں پہنچی تھیں جس کی بنا پر وہ اسلام قبول کرنے کی طرف مائل تھا لیکن جب اس نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو اسے عیسائیوں اور روم کی فوج کی طرف سے بہت سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جس کی بنا پر اسے مجبوراً اپنے فیصلہ کو تبدیل کرنا پڑا۔(۱) اس سے صاف واضح ہے کہ اس کے دوسرے امراء اور عہدے دار اسلام کے بارے میں معاندانہ رویہ رکھتے تھے،اس زاویۂ نگاہ سے جنگ موتہ کی ابتداء کی صحیح علت تلاش کی جاسکتی ہے!پیغمبر اسلام(ص) نے جزیرہ نمائے عرب سے باہر اپنی دعوت اور تبلیغ کو عام کرنے کے لئے سن  ۸  ہجری میں حارث بن عمیر ازدی کو یہ خط دے کر بُصریٰ «شام» کے بادشاہ کے پاس بھیجا۔(۲)
شر خبیل بن عمرو غسانی جو اس وقت قیصر روم کی طرف سے شام کا گورنر تھا۔(۳)اس نے رسول خدا (ص) کے سفیر کو قید کر لیا اور ان سے ان کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھ تاچھ کرنے کے بعد«موتہ» نامی گاؤں میں انھیں قتل کر ڈالا،پیغمبر اکرم(ص) کے لئے یہ حادثہ نہایت ہی تلخ اور ناگوار تھا اور آپ اس سے بہت غمزدہ اور متأثر ہوئے۔(۴)
اگرچہ ایک آدمی کے قتل ہوجانے سے کوئی جنگ نہیں چھڑتی ہے لیکن اس دور میں سفرائے ملت کو جو اہمیت اور حقوق حاصل تھے ان کے مطابق اور دوسرے اخلاقی اصولوں کے برخلاف پیغمبر(ص) کے سفیر کا قتل در حقیقت آپ(ص) کے لئے ایک طرح کی نظامی اور فوجی دھمکی تھی اور شام کے گورنر کی طرف سے پیغمبر کی مسالمت آمیز دینی دعوت کے مقابلے میں اپنی قدرت کا اظہار تھا اسی وجہ سے پیغمبر اکرم(ص)نے اس علاقہ میں ایک فوج روانہ کرنے کا ارادہ کیا آپ(ص) کے اس اقدام کو اسلام کا پیغام عزت اور دشمن کے مقابل اپنی فوجی قوت کے اظہار کا نام بھی دیا جاسکتا ہے،اس بنیاد پر رسول خدا نے ۳ ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک لشکر سر زمین موتہ کی طرف روانہ کیا جس کی سپہ سالاری بالترتیب جناب جعفر بن ابو طالب۔(۵) زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ کے حوالے کی،یعنی اگر ان میں سے کوئی ایک شخص شہید ہوجائے تو دوسرا شخص اس کی جگہ فوج کا سپہ سالار ہوگا۔(۶)
موتہ نامی ایک دیہات کے کنارے اسلامی فوج کا سامنا روم کی فوج سے ہوا جس کے فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ تھی،تینوں سپہ سالاروں نے ترتیب وار اسلامی فوج کا پر چم اپنے ہاتھوں میں بلند کرتے ہوئے جنگ کی اور منزل شہادت پر فائز ہوگئے اس کے بعد اسلامی فوج کے سپاہیوں نے خالد بن ولید کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اس نے مختلف طریقوں سے پہلے تو دشمن کو مرعوب کیا اور اس کے بعد عقب نشینی کا حکم دے دیا اور اسلامی فوج کو مدینہ واپس لے آیا۔(۷)
واقدی نے۔۔۔اس جنگ کے شہداء کی تعداد آٹھ ۔(۸) اور ابن ہشام نے بارہ۔(۹) ذکر کی ہے اور بعض جدید کتابوں میں ان کی تعداد سترہ۔(۱۰) ذکرکی گئی ہے،آج بھی ان شہداء کی قبریں ،شہر موتہ۔(۱۱) کے نزدیک موجود ہیں اور تینوں سپہ سالاروں کی قبروں کے اوپر بہترین گنبد موجود ہیں اور جناب جعفر کی قبر کے نزدیک ایک خوبصورت مسجد بھی موجود ہے۔(۱۲)
.............................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔زینی دحلان ،السیرۃ النبویہ والآثار المحمدیہ(بیروت:دارالمعرفہ،ط۲)،ج۲،ص۱۷۰۔۱۷۱،حلبی،السیرۃ الحلبیۃ (انسان العیون) (بیروت: دارالمعرفۃ) ج۳، ص۲۸۹۔۲۹۰۔
۲۔حلبی لکھتا ہے کہ یہ خط،روم کے بادشاہ ہرقل کے نام تھا جواس وقت شام میں رہتا تھا،سیرۃ الحلبیہ ، ج۲، ص۷۸۶۔
۳۔ ایضاً، ج۲،ص۷۸۶۔
۴۔واقدی،المغازی،تحقیق مارسڈن جونس(بیروت: مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات) ج۲،ص۷۵۵، طبقات الکبریٰ ،ابن سعد ،بیروت :داراحیاء ،ج۲،ص۱۲۸۔
۵۔جعفر بن ابی طالب ،حبشہ میں برسوں سکونت کے بعد سن  ۷ ہجری میں مدینہ پلٹ کر آئے اور فتح خیبر کے بعد اسی علاقہ میں پیغمبر اسلام(ص) کی خدمت میں شرفیاب ہوئے اور آنحضرت(ص) نے ان کی حوصلہ افزائی فرمائی،(ابن سعد الطبقات الکبریٰ (بیروت:دار صادر) ج۴،ص۳۵،ابن اثیر ،اسد الغابہ (تہران:المکتبۃ الا سلامیہ،۱۳۳۶ ش) ج۱ ،ص۲۸۷؛ابن عبدالبر،الاستیعاب،(حاشیہ اصابہ میں ) ج۱، ص۲۱۰، ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبیین ،تحقق سید احمد صفر(قم: منشوراتالشریف الرضی،۱۴۱۶ ہجری) ص۳۰، ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ (بیروت:مکتبۃ المعارف ) ،ج۴،ص۲۰۶)۔
۶۔ طبرسی،اعلام الوریٰ و اعلام الہدیٰ(دارالکتب الاسلامیہ)ط،۳،ص۱۰۷۔مشہور یہ ہے کہ اس لشکر کی سپہ سالاری میں جناب زید جناب جعفر پر مقدم تھے لیکن کچھ شیعہ روایات(جیسا کہ طبرسیؒ نے نقل کیا ہے)جناب جعفرکے مقدم ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور قرائن و شواہد بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔ (جعفر سبحانی،فروغ ابدیت (قم:مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی،۱۳۶۸،ط۵ ج۲، ص۲۹۳ ۲۹۱)محمد بن سعد کی ایک روایت بھی اسی مضمون کی تائید کرتی ہے۔(الطبقات الکبریٰ، ج۲، ص۱۳۰) مزید اطلاع کے لئے مجموعۂ مقالات«دراسات وبحوث فی التاریخ والاسلام »،جعفر مرتضی ج۱، ص۲۱۰ کے بعد مراجعہ کریں۔
۷۔ابن ہشام، السیرۃالنبویۃ (قاہرہ: مطبعۃ مصطفی البابی الحلبی، ۱۳۵۵ہجری )ج۴، ص۲۱۔۱۹، محمد بن جریر طبری، تاریخ الامم والملوک(بیروت: دارالقاموس الحدیث)ج۳، ص۱۱۰۔۱۰۷،واقدی، ایضاً،ج۲، ص۵۶۹۔ ۷۵۵، ابن سعد،ایضاً، ج۲، ص۱۳۰۔۱۲۸، حلبی، ایضاً، ج۲، ص۷۹۳۔ ۷۸۷، طبرسی، اعلام الوریٰ، ص۱۰۴۔۱۰۲،زینی دحلان،ایضاً،ج۲،ص۷۲۔۶۸،مجلسی،بحارالانوار(تہران:دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۴ہجری ) ج۲۱، ص۶۳،۵۰، طوسی ، الامالی (قم: دارالثقافہ ،ط۱، ۱۴۱۴ھ) ص۱۴۱۔
۸۔المغازی ،ج۲،ص۷۶۹۔
۹۔السیرۃ النبویہ،ج۴،ص۳۰۔
۱۰۔محمد ابراہیم آیتی ،تاریخ پیامبر اسلام  (تہران:ناشر:تہران یونیورسٹی،۱۳۶۱)،ص۵۰۱۔
۱۱۔یہ شہر ملک اردن کے جنوبی صوبہ کرک میں ہے جو کہ شہر امان (اردن کا دارالحکومت ) سے ۱۳۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔
۱۲۔جعفر سبحانی،ملک اردن کے سفر کی رپورٹ(موتہ:ایک یاد گاری جگہ ہے)مجلۂ درسہائی از مکتب اسلام ، سال ۳۸شمارہ ۷،ماہ مہر ۱۳۷۷ہجری شمسی۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18