Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185517
Published : 6/2/2017 17:20

وہابی فرقہ کہاں سے اور کیسے وجود میں آیا؟

شیخ محمد بن عبد الوہاب کا سب سے اہم کارنامہ یہ تھا کہ اپنے عقائد کو ظاہر کرنے کے بعد ان پر ثابت قدم رہا اور بہت سے نجدی حکمرانوں کو اپنے ساتھ میںملالیا اور ایک ایسا نیا فرقہ بنالیاجس کے عقائد اہل سنت کے کے چاروں فرقوں سے مختلف تھے، اس میں شیعہ مذہب سے بہت زیادہ اختلاف تھا جب کہ وہ حنبلی مذہب سے دیگر مذاہب کے مقابلہ میں نزدیک تھا۔

ولایت پورٹل:
سب سے پہلے وہابی فرقہ کوبنانے والا اور اس کوپھیلانے کے لئے انتھک کوشش کرنے والا شخص محمد بن عبد الوہاب ہے جو بارہویں صدی ہجری کے نجدی علماء میں سے تھا۔(انشاء اللہ ہم آئندہ اس کے متعلق تفصیل سے گفتگو کریں گے)۔
لیکن یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہابیت کے عقائدکو وجودب خشنے والا یہ پہلا شخص نہیں ہے بلکہ صدیوں پہلے یہ عقیدے مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے رہے ہیں، لیکن یہ ایک نئے فرقہ کی صورت میں نہیں تھے اور نہ ہی ان کے زیادہ طرفدار تھے۔(۱)
ان میں سے :چوتھی صدی میں حنبلی فرقہ کے مشہور ومعروف عالم دین «ابومحمد بَربہاری» نے قبور کی زیارت سے منع کیا، لیکن خلیفہ عباسی نے اس مسئلہ کی بھرپور مخالفت کی۔
حنبلی علماء میں سے «عبد اللہ بن محمد عُکبَری» مشہور بہ ابن بطّہ (متوفی ۳۸۷ہجری) نے پیغمبر اکرم (ص) کی زیارت اور شفاعت کا انکار کیا۔(۲)
اس کا اعتقاد تھا کہ حضرت رسول اکرم (ص)کی قبر منور کی زیارت کے لئے سفر کرنا گناہ ہے، اسی بناپر اس سفر میں نماز تمام پڑھنا چاہئے اور قصر پڑھنا جائز نہیں ہے۔(۳)
اسی طرح اس کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ اگر کوئی شخص انبیاء اور صالحین کی قبور کی زیارت کے سفر کو عبادت مانے، تو اس کا عقیدہ اجماع اور سنت پیغمبر اکرمؐ  کے خلاف ہے۔(۴)
ساتویں اور آٹھویں صدی کے حنبلی علماء کا سب سے بڑا عالم «ابن تیمیہ» ہے اور محمد بن عبد الوہاب نے اکثر اور اہم عقائد اسی سے اخذ کئے ہیں۔
ابن تیمیہ کے دوسرے شاگرد، جن میں سے مشہور ومعروف ابن قیم جوزی ہے اس نے اپنے استاد کے نظریات وعقائد کو پھیلانے کی بہت زیادہ کوششیں کی ہیں۔
شیخ محمد بن عبد الوہاب کا سب سے اہم کارنامہ یہ تھا کہ اپنے عقائد کو ظاہر کرنے کے بعد ان پر ثابت قدم رہا اور بہت سے نجدی حکمرانوں کو اپنے ساتھ میںملالیا اور ایک ایسا نیا فرقہ بنالیاجس کے عقائد اہل سنت کے کے چاروں فرقوں سے مختلف تھے، اس میں شیعہ مذہب سے بہت زیادہ اختلاف تھا جب کہ وہ حنبلی مذہب سے دیگر مذاہب کے مقابلہ میں نزدیک تھا۔
........................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔وہابی حضرات اپنے فرقہ کو نیا فرقہ نہیں کہتے بلکہ کہتے ہیں یہ فرقہ سلف صالح کا فرقہ ہے اور اسی وجہ سے اپنے کو سلفیہ کہتے ہیں۔
۲۔ابن بطہ کی سوانح حیات کتاب المنتظم ،تالیف ابن جوزی جو سن ۳۸۷ ہجری میں وفات پانے والوں کے سلسلہ میں ہےاور سمعانی کی انساب میں بطی  اور عبکری (بغداد سے دس فرسخ کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے) دونوں لفظوں کے تحت بیان ہوئی ہے۔
۳۔ابن تیمیہ،الرد علی الاخنائی ،ص ۲۷ ۔
۴۔سابق حوالہ ،ص ۳۰ ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21