Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185519
Published : 6/2/2017 18:7

اسلام کی راہ میں حضرت علی(ع) کی سبقت

اس بات پر تمام راوی متفق ہیں کہ امیر المو منین (ع) دور جاہلیت کے بتوں کی گندگی و پلیدگی سے پاک و پاکیزہ رہے ہیں اور اس کی تاریکیوں کا لباس آپ کو ڈھانک نہیں سکا،آپ(ع) ہرگز دوسروں کی طرح بتوں کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوئے۔

ولایت پورٹل:
تمام مؤرخین اور راوی اس بات پر متفق ہیں کہ امام علی(ع) ہی سب سے پہلے نبی کریم(ص) پر ایمان لائے ، آپ(ع) ہی نے نبی امی (ص)کی دعوت پر لبیک کہا،اور آپ(ع)ہی نے اپنے اس قول کے ذریعہ اعلان فرمایا کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کی عبادت کرنے والا میں ہوں:«لَقَدْ عَبَدْتُ اللّٰهَ تَعَالیٰ قَبْلَ اَنْ یَعْبُدَہُ اَحَدٌ مِنْ ھٰذِہِ الاُمَّةِ »۔(۱)
میں نے ہی اس امت میں سب سے پہلے اللہ کی عبادت کی ہے ۔
اس بات پر تمام راوی متفق ہیں کہ امیر المو منین (ع) دور جاہلیت کے بتوں کی گندگی و پلیدگی سے پاک و پاکیزہ رہے ہیں اور اس کی تاریکیوں کا لباس آپ کو ڈھانک نہیں سکا،آپ(ع) ہرگز دوسروں کی طرح بتوں کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوئے۔
مقریزی کا کہنا ہے:علی بن ابی طالب ہاشمی (ع)  نے ہر گز شرک نہیں کیا،اللہ نے آپ(ع) سے خیر کا ارادہ کیا تو آپ(ع) کو آپ(ع) کے چچازاد بھائی سید المرسلین(ص) کی کفالت میں قرار دیدیا۔(۲)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سیدہ ام المؤ منین حضرت خدیجہ(س) آپ(ع) کے ساتھ ایمان لائیں، حضرت علی (ع) اپنے اور خدیجہ (س) کے اسلام پر ایمان لانے کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:«وَلَم یَجْمَعْ بَیْتُ یَومَئِذٍ وَاحِدٌ فِی الْاِسْلَامِ غَیْرَرَسُولِ اللہِ ؐوَخَدِیْجَۃَ وَاَنَا ثَالِثُھُمَا»۔(۳)
اس دن رسول اللہ (ص)خدیجہ اور میرے علاوہ کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔
ابن اسحاق کا کہنا ہے :اللہ اور محمد رسول اللہ(ص) پر سب سے پہلے علی (ع)ایمان لائے۔(۴)
حضرت علی(ع) کے اسلام لانے کے وقت آپ(ع) کی عمر سات سال یا دوسرے قول کے مطابق نو سال تھی۔(۵)مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ(ع) سب سے پہلے اسلام لائے ،جو آپ(ع) کے لئے بڑے ہی شرف اور فخر کی بات ہے۔
.............................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔صفوۃ الصفوۃ ،ج۱ ،ص ۶۲ ۔
۲۔امتاع الاسماء،ج۱،ص ۱۶ ۔
۳۔حیاۃ الامام امیرالمؤمنین،ج۱ ،ص۵۴ ۔
۴۔شرح نہج البلاغہ،ابن ابی الحدید معتزلی،ج۴ ،ص۱۱۶ ۔
۵۔صحیح ترمذی،ج۲ ،ص ۳۰۱،طبقات ابن سعد،ج۳،ص ۲۱،کنزالعمال،ج۶،ص ۴۰۰،تاریخ طبری،ج۲،ص ۵۵ ۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18