Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185534
Published : 7/2/2017 16:55

محمد ابن عبد الوہاب کے پیروکاروں کو وہابی کیوں کہا جاتا ہے؟

محمد بن عبد الوہاب کے غلط افکار اور نظریات کے مقابل خود اس کا باپ شیخ عبد الوہاب اور حقیقی بھائی شیخ سلیمان محاذ آراء ہوگئے چنانچہ اسی مخالفت کے باعث کئی مناظرے اور مباحثہ محمد بن عبد الوہاب اور اس کے بھائی کے درمیان واقع ہوئے،شیخ سلیمان اپنے بھائی کا سخت مخالف تھا ۔

ولایت پورٹل:
وہابی لفظ فرقہ وہابیت کے بانی کے باپ یعنی عبد الوہاب سے لیا گیا ہے لیکن خود وہابی حضرات اس کو صحیح نہیں مانتے۔
سید محمود شکری آلوسی(وہابیت کی طرفداری میں) کہتا ہے:وہابیوں کے دشمن ان کو وہابی کہتے ہیں جبکہ یہ نسبت صحیح نہیں ہے بلکہ اس فرقہ کی نسبت اس کے رہبر محمد کی طرف ہونا چاہیئے کیونکہ اسی نے ان عقائد کی دعوت دی ہے، اس کے علاوہ شیخ عبد الوہاب اپنے بیٹے (محمدابن عبد الوہاب) کے نظریات کا سخت مخالف تھا۔(۱)
صالح بن دخیل نجدی (المقتطف نامی مجلہ مطبع مصرمیں ایک خط کے ضمن میں ) اس طرح لکھتا ہے:اس کے بعض معاصرین وہابیت کی نسبت صاحب دعوت (یعنی محمد بن عبد الوہاب) کے باپ کی طرف حسد وکینہ کی وجہ سے دیتے تھے تاکہ وہابیوں کو بدعت اورگمراہی کے نام سے پہچنوائیں اور خود شیخ کی طرف نسبت نہ دی (اور محمدیہ نہیں کہا) اس وجہ سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس مذہب کے ماننے والے پیغمبر اکرم (ص) کے نام کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہ سمجھ بیٹھیں۔(۲)
مشہور ومعروف مصری مؤلف احمد امین، اس سلسلہ میں یوں رقمطراز ہے:محمد بن عبد الوہاب اور اس کے مرید اپنے کو موحّد کہلاتے تھے لیکن ان کے دشمنوں نے  ان کو وہابی کانام دیا ہے اور اس کے بعد یہ نام زبان زد خاص وعام ہوگیا۔(۳)
قبل اس کے کہ محمد بن عبد الوہاب کے اعتقادات کے بارے میں تفصیلی بحث کی جائے مناسب بلکہ ضروری ہے کہ پہلے سلفیہ کے بارے میں کچھ مطالب ذکر کئے جائیں جو وہابیت کی اصل اور بنیاد مانے جاتے ہیں، اس کے بعد بربَہاری اور ابن تیمیہ کے مختصر اعتقادات اور نظریات جو وہابیوں کی اصل اور بنیاد ہیں؛ ذکر کئے جائیں۔
..................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔تاریخ نجد،ص ۱۱۱ ۔شیخ عبد الوہاب کی مخالفت کے علاوہ اس کا بھائی شیخ سلیمان بھی محمد بن عبدالوہاب کا سخت مخالف تھا،ہم انشاء اللہ اس بارے میں تفصیلات بعد میں بیان کریں گے،اور باپ بیٹے کے درمیان بہت سے مناظرات اور مباحثات بھی ہوئے،لہذا اس فرقہ کی اس کی طرف کیسے نسبت دی جاسکتی ہے جو خود ان نظریات کا سخت مخالف ہو۔
۲۔دائرۃ المعارف فرید وجدی،ج ۱۰ ،ص ۸۷۱ بہ نقل از مجلہ المقطف،ص ۸۹۳ ۔
۳۔زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث،ص ۱۰ ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21