Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185536
Published : 7/2/2017 17:37

الاسوہ اسلامک سینٹر سیتاپور کی جانب سے:

چودہ سو سالہ جشن ولادت امام سجاد(ع) کے موقع پر عظیم الشان سیمینار کا انعقاد

سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے آفتاب شریعت مولانا سید کلب جواد نقوی صاحب نے علم کی اہمیت و افادیت کو بیان کیا نیز امام سجاد(ع) کے خطبوں کے ذکر کے بعد امت کو پیغام دیا کہ ایک عالم کے لیے خطیب ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ ہر خطیب کو عالم ہونا چاہئے تاکہ قوم تک تعلیمات محمد و آل محمد(ع) کو صحیح معنی میں پہنچایا جا سکے۔

ولایت پورٹل:
شکر ہے اس رب کائنات کا جس نے ہماری زندگی میں ایسے سن ہجری کو قرار دیا جس سے چودہ سوسال پہلے زین العابدین، سید الساجدین، امام علی ابن الحسین(ع) عالم ملکوت سے عالم ظاہر میں تشریف لائے،امام سجاد(ع) کی ولادت با سعادت کو چودہ سو سال مکمل ہونے کی مناسبت پر الاسوہ اسلامک سینٹر کے زیر اہتمام بڑا امامباڑہ قضیارہ سیتاپور میں۴-۵ فروری کو عظیم الشان سیمینار اور جشن پر شکوہ کا انعقاد ہوا۔ ۴ فروری کو سیمینار کی نشست اول کا آغاز استاذ القرّاء مولانا حیدر مہدی کریمی صاحب نے تلاوت قرآن مجید سے کیا،مکتب امام عسکری(ع) اور مکتب سکینہ بنت الحسین (ع) میں زیر تعلیم معصوم بچوں نے دینی احکام کا عملی مظاہرہ کیا،شعرائے کرام نے بارگاہ امام سجاد(ع) میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے کلام اور خوش الحانی سے سامعین کو مسحور کیا،استاد جامعۃ الزہرا مولانا سید سعید الحسن نقوی صاحب، مولانا انوار الحسن صاحب امام جمعہ و جماعت اٹاوہ، مولانا سید نقی عسکری صاحب اور فاضل دمشق مولانا سید افتخار مہدی صاحب نے اپنی بصیرت افروز تقاریرمیں امام سجاد(ع) کی سیرت پر روشنی ڈالی،اس نشست کی نظامت کے مکمل فرائض کو سید عاصم علی باقری نے انجام دیا جبکہ کلمات تشکر کے بعد دعائے امام زمان(عج) پڑھ کر سربراہ ادارۂ الاسوہ مولانا سید حمید الحسن زیدی صاحب نے نشست دوم تک سیمینار کے التوا کا اعلان کیا۔
۵ فروری کو صبح ۱۰ بجے سیمینار کی نشست دوم کا آغاز تلاوت کلام الٰہی سے ہوا جس کے بعد جامعۃ المصطفیٰ الامامیہ،سیتاپور کے مقالہ نگار طلاب کرام نے اپنے مقالہ کا خلاصہ پیش کیا واضح رہے کہ سیمینار میں پیش کیے جانے والے تینوں مقالے اہلبیت کونسل کی جانب سے منعقد ہو رہے مسابقۂ مقالہ نگاری کے لیے منتخب کیے جا چکے ہیں،طلاب جامعۃ المصطفیٰ الامامیہ کے ۶ طلاب نے ملک کے نمایاں علماء و افاضل کی موجودگی میں تقریری مقابلہ کے مدّ نظر معین وقت، پانچ پانچ منٹ میں اپنی تقریر پیش کی جسکے بعد علماء کے ججمنٹ سے پہلے انعام کے حقدار ثاقب حسن، دوسرے انعام کے مستحق عون عباس اور تیسرے انعام کو زین العباء نے حاصل کیا جبکہ اس مقابلہ میں فرمان حیدر، ابوطالب اور محمد زماں نے بھی شرکت فرمائی،مولانا سید محمد دانش زیدی صاحب،مولانا سید تنویر عباس صاحب،مولانا منظر صادق صاحب نے امام سجاد(ع) کی حیات طیبہ، اوصاف حمیدہ اور بے مثال ادعیہ و مناجات کو اپنے بیانات کا مرکز و محور بنایا اور شاعر اہلبیت(ع) انظار سیتاپوری اور صابر علی عمرانی صاحب نے منظور نذرانۂ عقیدت پیش کیا،سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے آفتاب شریعت مولانا سید کلب جواد نقوی صاحب نے علم کی اہمیت و افادیت کو بیان کیا نیز امام سجاد(ع) کے خطبوں کے ذکر کے بعد امت کو پیغام دیا کہ ایک عالم کے لیے خطیب ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ ہر خطیب کو عالم ہونا چاہئے تاکہ قوم تک تعلیمات محمد و آل محمد(ع) کو صحیح معنی میں پہنچایا جا سکے،مدیر جامعۃ المصطفیٰ الامامیہ مولانا سید گلزار حسین جعفری صاحب نے ادارۂ الاسوہ کی خدمات کا تعارف کرایا،مولانا میثم زیدی صاحب، مولانا شمیم الحسن صاحب، مولانا اعجاز حیدر صاحب،مولانا ظہیر حسن صاحب، مولانا سید قمر الحسن صاحب،  مولانا اعجاز مہدی صاحب، مولانا اشتیاق حسین صاحب،مولانا ذوالفقار علی صاحب، مولانا اعجاز مہدی صاحب، مولانا سید محمد راحم صاحب، مولاناسید وقار حسین رضوی صاحب، مولانا سید عباس رضا نقوی، مولانا سید ثاقب رضا نقوی صاحب، مولانا سید محمد عظیم رضوی صاحب،مولانا علی محمد صاحب اور دیگر شعرائے کرام و دانشوران قوم و ملت نے شرکت فرمائی،سربراہ ادارۂ الاسوہ مولانا سید حمید الحسن زیدی صاحب نے سیمینار میں دور دراز سے تشریف لائے ہوئے مؤمنین و مؤمنات کا شکریہ ادا کیا اور دعائے امام زمان(عج)پر سیمینار کا اختتام ہوا۔
سیمینار کی کچھ یادگار تصاویر:











آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18