Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185540
Published : 7/2/2017 19:5

کیا انبیاء(ع) کا توبہ و استغفار کرنا عصمت کے منافی ہے؟

انسان راہ عبادت میں کتنی ہی سعی کیوں نہ کرلے اورخطا وعصیان سے خود کو کتنا ہی دورکیوں نہ رکھے اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب خدا کی نعمتیں اور عنایات ہیں،لہٰذا انسان جب مکمل طریقہ سے اس حقیقت کو درک کرے گاتو اس کا یہ احساس پختہ ہوتا چلا جائے گا کہ وہ کسی بھی صورت خدا کی کما حقہ عبادت نہیں کر سکتا چاہے اپنی پوری توانائی کیوں نہ صرف کر دے۔

ولایت پورٹل:
عصمت انبیاء کے باب میں عموماً ایک شبہہ یا اعتراض کیا جاتاہے کہ قرآن کی آیات میں بعض انبیاء کی جانب گناہ کی نسبت دی گئی ہے،نیز بعض انبیاء خود کو گناہگار سمجھ کر بارگاہ الٰہی میں استغفار کیا کرتے تھے،یہ اعتراض صرف نبوت سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ ائمۂ طاہرین(ع) کی عصمت کے بارے میں بھی یہی اعتراض کیا جاتا ہے اس لئے کہ یہ مقدس ہستیاں بھی بارگاہ خداوندی میں خود کو گناہگار سمجھ کر طلب مغفرت کرتی تھیں۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اولاً تو عصیان ،ذنب اور ان کے مانند دیگر الفاظ مختلف اور متعدد معانی میں استعمال ہوتے ہیں،ان سے ہمیشہ حرام کام انجام دینا یا واجب ترک کرنا ہی مراد نہیں ہوتا بلکہ کبھی ایسا عمل مراد ہوتا ہے کہ اگر چہ اس کا ترک واجب یا انجام دینا حرام نہیں ہے لیکن ایک انسان کے مقام ومنزلت اور شخصیت کے پیش نظر بہتر یہی ہے کہ اسے انجام نہ دیا جائے ایسا کام «معصیت»کے مخصوص معنی کا مصداق نہیں ہے بلکہ ترک اولیٰ کا مصداق ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ انسان راہ عبادت میں کتنی ہی سعی کیوں نہ کرلے اورخطا وعصیان سے خود کو کتنا ہی دورکیوں نہ رکھے اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب خدا کی نعمتیں اور عنایات ہیں،لہٰذا انسان جب مکمل طریقہ سے اس حقیقت کو درک کرے گاتو اس کا یہ احساس پختہ ہوتا چلا جائے گا کہ وہ کسی بھی صورت خدا کی کما حقہ عبادت نہیں کر سکتا چاہے اپنی پوری توانائی کیوں نہ صرف کر دے،شاید اسی حقیقت کے پیش نظر پیغمبر اکرم(ص)نے فرمایا:«لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علیٰ نفسک»چونکہ انبیاء اور اولیاء الٰہی دوسروں کے مقابلہ اس حقیقت کو بہتر درک کرتے ہیں لہٰذا اس کی بارگا ہ میں تضرع و زاری کے ساتھ ہاتھ بلند کرکے اپنی خطاؤں کی مغفرت اور خدا کے لطف وکرم اور بخشش کے طالب رہتے ہیں،امیرالمؤمنین(ع)  جیسے افراد کی جانب سے اپنی ذات پر ظلم«ظلمت نفسی»اور خدا کی نسبت تجرّی«تجرأت بجھلی»کا اعتراف اور بارگاہ الٰہی میں توبہ واستغفار سب کچھ اسی لئے ہے اور اس کا گناہ اور جہالت کے رائج معنی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ انبیاء اور دیگر معصومین (ع) کے لئے گناہ ترک واجب یا حرام کام انجام دینے کا نام نہیں ہے بلکہ ان حضرات کے سلسلہ میں صرف دو ہی چیزیں متصور ہیں ۔۱۔ ترک اولیٰ     ۲۔ نعمات الٰہی کے سلسلہ میں شکر اور کما حقہ عبادت کے سلسلہ میں عاجزی کا اعتراف واعلان۔
چونکہ اعلیٰ مراتب اورمعنوی مقامات کے لحاظ سے انبیاء کے درمیان فرق پایا جاتاہے لہٰذا ان دونوں باتوں کے سلسلہ میں بھی انبیاء کے درمیان فرق ہو سکتا ہے:«تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْضٍ»۔(۱)اسی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ«حسنات الابرار سیئات المقربین» ابرار کے نیک اعمال مقربین کے لئے برے اعمال شمار ہوتے ہیں۔
سید الشہداء حضرت امام حسین(ع) کی دعائے عرفہ کا  مشہورجملہ ہے :«یا من البس اولیاء ملابس ھیبته فقاموا بین یدیه مستغفرین»۔(۲)
اس نکتہ کی طرف بھی توجہ رہے کہ انبیاء الٰہی کے بارے میں معصیت اور گناہ جیسی تعبیریں در اصل «ایاک اعنی واسمعی یا جارۃ»کے باب سے ہیں یعنی کہا کسی کے بارے میں جا رہا ہے لیکن مقصود کسی اورکو متوجہ کرنا ہوتا ہے،امت پیغمبر اکرم(ص) میں سے کسی فرد سے کوئی معصیت یا گناہ سرزد ہوا خدا نے پیغمبر(ص)   کو مخاطب کیا لیکن مقصود دوسرے افراد تھے عقلاء عالم کے درمیان بھی یہ طریقۂ کار رائج ہے مثلا اپنے نوکر اور ملازم کو متوجہ کرنے کے لئے انسان کبھی کبھی اپنے بیٹے کی سرزنش کرتاہے۔
اسی کے مانند دیگر توجیہات بھی ہیں یہاں موضوع کی مناسبت سے صرف چند کلی توجہیات وتاویلات کاتذکرہ کیا گیا ہے۔(۳)
..........................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔سورہ بقرہ:آیت۲۵۳۔
۲۔اقبال الاعمال، ص۳۵۰۔
۳۔اس سلسلہ میں تفسیر و عقائد کی کتب مجمع البیان ،المیزان،الکشاف ،مفاتیح الغیب ،شرح المواقف ،شرح المقاصد وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں،اسی سلسلہ کی علم کلام کی جامع ترین کتاب تنزیہہ الانبیاء، جس کے مولف گرامی سید مرتضیٰ علم الہدی ہے،اسلامی عرفاء نے بھی اس سلسلہ میں خامہ فرسائی کی ہے،محی الدین عربی کی کتاب الفتوحات المکیۃ ج۳،ص ۴۴۰،اورشیخ عبد الوھاب شعرانی کی کتاب الیواقیت والجواھر، ج۲ ،ص  ۳۰۵۔ ۳۳۲ ملاحظہ فرمائیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18