Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185544
Published : 7/2/2017 20:5

بچوں کی غلط تربیت کا قصور وار کون؟ہم یا معاشرہ؟

جب باپ صبح بچوں سے پہلے گھر سے باہر جائے بچوں کے سونے کے بعد لوٹے، ماں کو تربیت کرنے کی بجائے نیٹ ٹیلی ویژن یا موبائل و لیپ ٹاپ سے فرصت ملتی نہیں بچہ ماں اور باپ کی تربیت سے محروم ہوجاتا ہے پھر وہ تربیت اگر حاصل کرتا ہے تو برے لوگوں سے،غلط سوسائٹی سے،بڑا ہوکر یہی لوگ اس کی محفل کی رونق ہوتے ہیں۔

ولایت پورٹل:
عموماً یہ سننے کو ملتا ہے کہ جی معاشرہ گندہ ہے. معاشرہ خراب ہے، معاشرہ تباہی کے دہانے پر ہے،معاشرہ برا ہے وغیرہ وغیرہ!
کیا کبھی ہم نے یہ بھی سوچا کہ آخر معاشرہ ہے کیا؟ معاشرہ کس چیز کا نام کا ہے؟معاشرہ کہتے کسے ہیں؟ یہ کون سی بلا ہے؟
تو جواب ملتا ہے کہ معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے.معاشرے میں انسان بستے ہیں،معاشرہ انسانوں کی بستیوں کا نام ہے۔
پھر کیوں یہ راگ آلاپتے ہے کہ معاشرہ خراب ہے تباہ ہے گندہ ہے وغیرہ وغیرہ.....
یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم گندے ہوگئے ہیں ہماری سوچیں بری ہوگئی ہیں ہمارے اعمال خراب ہوگئے ہیں ہمارے ایمان تباہ ہوگئے ہیں ایمان ہمارے اندر نہیں رہا....ظاہر سی بات ہے جب بچوں کی تربیت نہیں ہوگی تو یہی بچے کل معاشرے کا حصہ بنتے ہیں اور یہی حصہ گلا ہوا سڑا ہوا ہوتا ہے کہ جسے ہم کہتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہے....ایسا کیوں ہوتا ہے؟...تب ہی ہوتا ہے کہ جب باپ صبح بچوں سے پہلے گھر سے باہر جائے بچوں کے سونے کے بعد لوٹے، ماں کو تربیت کرنے کی بجائے نیٹ ٹیلی ویژن یا موبائل و لیپ ٹاپ سے فرصت ملتی نہیں بچہ ماں اور باپ کی تربیت سے محروم ہوجاتا ہے پھر وہ تربیت اگر حاصل کرتا ہے تو برے لوگوں سے،غلط سوسائٹی سے،بڑا ہوکر یہی لوگ اس کی محفل کی رونق ہوتے ہیں،اب اس سے غلط لوگوں کا ساتھ،گندی سوسائیٹی کی حصہ داری،بے راہ روی چھڑانا بہت مشکل کام ہوتا ہے،اور ہم اس کا سب سے بڑا ذمہ دار  اور قصور وار معاشرہ کو سمجھتے ہیں،جبکہ ہم یہ بھول بیٹھے ہیں کہ ہم نے خود ہی تو اپنے معصوم پھول کو ان کانٹوں کے حوالہ کیا تھا،لہذا ہم اپنے کردار کو دیکھیں اپنے آپکو صحیح کریں معاشرہ  خود بخود سدھر جائے گا۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16