Tuesday - 2018 Oct. 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186323
Published : 25/3/2017 16:7

کیا آیت ابتلاء امام کی عصمت پر نہیں بلکہ صرف نبی کی عصمت پر دلیل ہے؟

امام رضا علیہ السلام نے امام کے متعلق ارشاد فرمایا:امام وہ معصوم ہوتا ہے جسے خدا کی تائید ،توفیق ،حمایت حاصل ہوتی ہے اور وہ خطاؤں ،لغزشوں اور کوتاہیوں سے امان میں رہتا ہے،ان صفات کی بنا پر اللہ اسے اپنا مخصوص بندہ بنا لیتا ہے،تاکہ وہ اس کے اور اس کے بندوں کے درمیان حجت اور اس کی مخلوقات پر اس کا گواہ رہے۔


ولایت پورٹل:
ممکن ہے کہ اس آیۂ کریمہ:« إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَاماً قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی قَالَ  لاَیَنَالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ» میں امامت سے مراد، نبوت و رسالت ہو یعنی جناب ابراہیم(ع) کے مخصوص ابتلاء و آزمائش اور امتحانات کے سر کر لینے کے بعد خدا نے انہیں نبی اور رسول بنایا،اورآپ نے اپنی اولاد کے لئے نبوت کی درخواست کی اور خدا نے جواب میں کہا کہ ظالمین اس مقام کے اہل نہیں ہیں یعنی انبیاء کو معصوم ہونا چاہئے اور آیت سے امامت کی عصمت کی ضرورت ثابت نہیں ہوتی۔
جواب
اولاً تو ظاہراً جس وقت حضرت ابراہیم(ع)نے اپنی ذریت کے لئے امامت کی درخواست کی اس وقت آپ صاحب اولاد تھے اور یہ احتمال کہ آپ نے امامت کی درخواست اس وقت کی جب صاحب اولاد نہ تھے،آیت کے ظاہر سے مطابقت نہیں رکھتا دوسری جانب ضعیفی اور پیرانہ سالی کے وقت تک جناب ابراہیم(ع)صاحب اولاد نہ تھے چنانچہ آپ نے فرمایا:«اَلْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِی وَهَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ»۔(۱)
دوسرے یہ کہ:«وَإِذْ ابْتَلَی إِبْرَاہِیمَ رَبُّهُ بِکَلِمَاتٍ»سے ظاہر ہوتاہے کہ آپ سخت آزمائشوں سے گذرے،جناب ابراہیم کی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ بت پرستوں ،چاند اور ستاروں کی پرستش کرنے والوں سے بحث و مناظرے ،بت شکنی نمرود اور نمرودیوں سے مقابلہ ،نمرود کے ذریعہ آپ کو آگ میں پھینکا جانا اور اپنے فرزند اسماعیل کے ذبح کا واقعہ آپ کے اہم ترین امتحانات ہیں اور آپ اپنی نبوت ورسالت کے دوران ہی آپ ان امتحانات سے گذرے لہٰذا درجۂ امامت پر فائز ہونے سے قبل آپ نبی تھے۔
آیۂ کریمہ:«أَطِیعُوا اﷲَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُوْلِی الْأَمْرِ مِنْکُمْ»۔(۲) سے بھی «اولی الامر» کی عصمت ثابت ہوتی ہے اس لئے کہ اولا کسی شخص یا افراد کی بغیر کسی قید وشرط کے اطاعت کا حکم جب کہ غیر اللہ کی اطاعت گناہوں میں حرام ہے اس بات کا نبوت ہے کہ«اولی الامر»خطا ومعصیت سے معصوم ہیں،دوسرے یہ کہ«رسول» پر«اولی الامر»کا عطف ہونا بتاتا ہے کہ اولی الامر کی اطاعت کا وہی معیار ہے جو رسول کی اطاعت کا ہے لہٰذا جس طرح رسول اکرم(ص)معصوم ہیں اسی طرح «اولی الامر»بھی معصوم ہیں۔
«اولی الامر» کی عصمت پر اس آیت کی دلالت اتنی واضح ہے کہ اہل سنت کے مشہور عالم   فخر الدین رازی بھی اگرچہ خود جو امام کی عصمت کے سلسلہ میں شیعہ عقیدہ کے قائل نہیں ہیں لیکن اولی الامر کی عصمت پر اس آیت کی دلالت کو تسلیم کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
۱۔قطعی طور پر خداوند عالم نے اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔
۲۔خدا جسے قطعی طور پر واجب الاطاعۃ قرار دے وہ معصوم ہے۔
۳۔لہٰذا اولی الامر معصوم ہوتا ہے۔
اس کے باوجود «معصوم اولی الامر» کے مصداق کے سلسلہ میں فخر الدین رازی مشکلات میں گرفتار ہو کر غلط راستہ پر چلے گئے۔
«اولی الامر»کے مصداق کے بارے میں امام رازی کہتے ہیں «اولی الامر»  سے مراد یا پوری امت ہے یا امت کے بعض افراد ــــــ بعض افراد کا مراد ہونا صحیح نہیں ہے اس لئے کہ امت  کے ایسے بعض افراد جو معصوم ہوں ہماری دسترس میں نہیں ہیں لہٰذا تمام امت ہی مراد ہے جس کاانطباق«اہل حل وعقد»پر ہوتا ہے کہ ان کا اجماع دینی مسائل میں حجت ہے۔(۳)
«اولی الامر» کے مصداق کے سلسلہ میں امام رازی کی بات قابل قبول نہیں ہے اس لئے کہ اولاً تو اہل حل وعقد کے اجماع کا نتیجہ عصمت نہیں ہوتا ہاں اس سے خطا کا امکان واحتمال کم ضرور ہوجاتا ہے،دوسرے یہ کہ امت کے بعض افراد جو معصوم ہیں ان تک دسترسی ممکن ہے اور ان کی معرفت کے لئے قرآن وسنت سے مدد حاصل کرنا چاہئے،آیۂ تطہیر اور دیگر آیات نیز حدیث ثقلین،حدیث سفینہ اور دیگر احادیث اہل بیت پیغمبر(ص)کی عصمت ثابت کرتی ہیں اور ان سے واضح ہو جاتا ہے«اولی الامر» سے مراد «ائمہ اہل بیت»ہیں۔
(ب)ائمہ اہل بیت(ع)معصوم ہیں،لہٰذا یہی وہ افراد ہیں جو پیغمبر اکرم(ص)کے بعد امت مسلمہ کی امامت ورہبری کی صلاحیت رکھتے ہیں اور صرف یہی افراد امامت کے اہل ہیں(عصمت در امامت خاصہ)۔
اول الذکر کے دلائل ہم نے اس فصل میں بیان کردئے ہیں جب کہ دوسری بات کے دلائل اصول وفروع میں شیعی منابع و مآخذ سے متعلق بحث میں بیان کئے جاچکے ہیں لہٰذا ان کے تکرار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
چنانچہ امام رضا علیہ السلام نے امامت سے متعلق ایک حدیث میں امام کی عصمت کی ضرورت کو مکرر طور پر اس طرح بیان فرمایا ہے۔
۱۔آیۂ کریمہ:«لاَیَنَالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ»سے استناد کر تے ہوئے فرماتے ہیں:اس آیت نے قیامت تک ہر ظالم کی امامت کو باطل قرار دے کر اسے پاکیزہ افراد سے مخصوص کر دیا۔
«فابطلت ھذہ الآیة امامة کل ظالم الیٰ یوم القیامة وصارت فی الصفوۃ»۔
۲۔ یہ بیان کرنے کے بعد کہ امام مخلوق کے درمیان خدا کا امین ،بندوں پر خدا کی حجت ،خدا کی طرف دعوت دینے والا ،احکام الٰہی کی حرمت کا مدافع ہوتاہے آپ فرماتے ہیں«الامام المطهر من الذنوب والمبرّأ من العیوب»۔
۳۔یہ بیان کرنے کے بعد کہ امام کو خدا اپنے بندوں کے درمیان سے منتخب کرتا ہے اور اس کے قلب میں حکمت کے چشمے جاری کردتا ہے فرماتے ہیں:«فھو معصوم مؤیَّد موفَّق مسدَّد ،قدامن من الخطا یا والزلل والعثار ،یخصه اللہ بذالک لیکون حجته علیٰ عبادہ وشاھدہ علیٰ خلقه»۔(۴)
لہذا وہ معصوم ہوتا ہے جسے خدا کی تائید ،توفیق ،حمایت  حاصل ہوتی ہے اور وہ خطاؤں ،لغزشوں اور کوتاہیوں سے امان میں رہتا ہے،ان صفات کی بنا پر اللہ اسے اپنا مخصوص بندہ بنا لیتا ہے،تاکہ وہ اس کے اور اس کے بندوں کے درمیان حجت اور اس کی مخلوقات پر اس کا گواہ رہے۔
..........................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ابراہیم /۳۹۔
۲۔نساء /۵۹۔
۳۔مفاتیح الغیب، ج ۱۰ ،ص۱۴۴۔
۴۔اصول کافی،  ج ۱ ،کتاب الحجۃ،باب نادر جامع فی فضل الامام وصفاته، ص ۱۵۴۔
 

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 16