Tuesday - 2018 Oct. 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186332
Published : 25/3/2017 17:38

عصر حاضر کی سب سے بڑی تفسیر،تسنیم

تفسیر تسنیم ، تفسیر المیزان کے بعد اسلامی دنیا کی بہترین تفسیر ہے،اور آنے والے وقت میں تفسیر تسنیم اسلامی دنیا کی مفصل ترین تفسیر ہوگی،چونکہ اس وقت تک اس کی تقریباً ۴۲ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں،اور قوی امکان ہے کہ انشاء اللہ یہ تفسیر ۸۰ جلدوں تک جائے گی۔


ولایت پورٹل:

مولف:آیت اللہ العظمٰی جوادی آملی
آیت اللہ جوادی آملی اس دور کی ایک عظیم اور جامع شخصیت ہیں،آپ ایک فقیہ ہونے کے ساتھ ساتھ (۴۰ سال سے فقہ کا درس خارج دے رہے ہیں ) ایک مایہ ناز فیلسوف بھی ہیں (چنانچہ حوزہ علمیہ قم میں جتنے بھی عظیم فلسفی موجود ہیں وہ سب کسی نہ کسی طرح انھیں کے شاگرد ہیں) اسی طرح آپ اعلی درجہ کے مفسر بھی ہیں(37 برس سے مسلسل تفسیر کا درس دے رہے ہیں جو کہ اس شخصیت کا امتیاز ہے، علامہ طباطبائی کے بعد واحد یہی شخصیت ہیں جو اتنے عرصہ سے تفسیر کا درس دے رہے ہیں اور اس کو اصلی درس سمجھ کر تدریس کر رہے ہیں)اور لازمی طور پر وہ  ایک ماہر متکلم بھی ہیں۔
اس تفسیر کی چند اہم خصوصیات ہیں:
۱۔تفسیر تسنیم ، تفسیر المیزان کے بعد اسلامی دنیا کی بہترین تفسیر ہے،اور آنے والے وقت میں تفسیر تسنیم اسلامی دنیا کی مفصل ترین تفسیر ہوگی،چونکہ اس وقت تک اس کی تقریباً ۴۲ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں،اور  قوی امکان ہے کہ انشاء اللہ یہ تفسیر ۸۰ جلدوں تک جائے گی۔
۲۔ یہ تفسیر ، المیزان کی طرف ناظر ہے اور اکثر جگہ علامہ طباطبائی کے نظریات کی وضاحت کرتے ہیں گویا کہ یہ تفسیر ، المیزان کی شرح ہے، لہذا جو حضرات المیزان کا مطالعہ کررہے ہوں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں وہ تفسیر تسنیم کو حتما مطالعہ میں رکھیں ، علامہ کے مشکل نظریات کی وضاحت انتہائی خوبصورت انداز میں کی گئی ہے۔
۳۔یہ تفسیر بھی تفسیر قرآن بالقرآن کے مبنی کے مطابق لکھی گئی ہے۔
۴۔ تفسیر کو چار مراحل میں بیان کرتے ہیں
الف) خلاصہ تفسیر: آیت اللہ جوادی آملی نے آیات کا ترجمہ نہیں کیا بلکہ اس کی جگہ جو تفسیر کرنی ہے اس کا خلاصہ بیان کردتے ہیں۔
ب)تفسیر آیت
ج) لطایف اور اشارات: اس فصل میں انتہائی علمی اور اجتہادی بحث ذکر کرتے ہیں جو کہ آیت کے ساتھ مربوط ہوتی ہے۔
د) بحث روائی
روائی بحث میں بہترین روایات کا انتخاب کرتے ہیں اور اگر وضاحت کی محتاج ہو تو وضاحت کرتے ہیں، یعنی فقہ الروایہ کا عمل انجام دیتے ہیں۔
۵۔ اس تفسیر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آیت کے لغوی معنا واضح کرنے کے لیے تفصیلل کے ساتھ لغوی بحث کرتے ہیں۔
۶۔ ایک اور خصوصیت جو اس تفسیر میں پائی جاتی ہے وہ تناسب آیات کی بحث ہے اس میں بیان کرتے ہیں کہ کس طرح آیات ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں مضمون کے اعتبار سے پچھلی آیت کا بعد والی آیت سے کیا رابطہ ہے۔
۷۔ یہ تفسیر اس وقت کی جدید ابحاث کی طرف ناظر ہے اور اگر وہ درست نہ ہو تو ان کو رد کیا گیا ہے مثلا پلورالیزم ، سکولریزم ، علوم تجربی اور دین کا ارتباط وغیرہ ابحاث موجود ہیں۔
۸۔اس تفسیر کا ایک امتیاز یہ  ہے کہ  اس میں نزول،فضائے نزول اور شان نزول کو جدا کر کے بیان کیا گیا ہے۔
شان نزول:
ان حوادث کو کہتے ہیں جن کہ وجہ سے آیت نازل ہونے کا زمینہ فراہم ہوتا تھا۔
فضا نزول:
یہ پورے سورہ کے ساتھ مربوط ہے یعنی سورہ کے نزول کے وقت موجود افراد ، جامعہ کے حالات و شرائط کیا تھے ان کو مدنظر رکھ کر تفسیر کرنا انہتائی اہمیت کا حامل ہے۔
جو نزول :
یہ پورے قرآن کے ساتھ مربوط ہے یعنی تمام ان حوادث ، حالات اور شرائط کو مدنظر رکھنا جو ۲۳ سال قرآن کے نزول کے وقت پیش آئے۔
۹۔اس تفسیر میں تمام  مفسرین چاہے سنی ہوں یا شیعہ وہ سب مؤلف محترم کے مدنظر ہیں لہذا جہاں ان کے نظریات غلط ہوتے ہیں ان پر بلا مانع رد  بھی کرتے ہیں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 16