Wed - 2018 August 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186345
Published : 26/3/2017 16:25

بیوی کے فرائض:

کسی غیر کا تصور بھی نشیمن جلا سکتا ہے(۱)

حضرت امام علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:جس نے اپنی آنکھوں کو آزاد چھوڑا تو وہ ہمیشہ ناراض اور افسردہ رہے گا اور کبھی نہ ختم ہونے والی حسرت و یاس میں گرفتار ہوجائے گا۔

ولایت پورٹل:محترم خاتون !ممکن ہے شادی سے پہلے آپ کا رشتہ لینے کے لئے بہت سے افراد آئے ہوں، ممکن ہے بعض  افراد کی طرف آپ کی نظریں تھیں کہ وہ آپ کے لئے شادی کا پیغام لے کر آئیں،شاید آپ کی  یہ تمنا تھی  که  آپ کا شوہر ثروتمند ہو یا فلاں پیشہ سے منسلک ہو،تعلیم یافتہ ہو اور خوبصورت ۔۔۔۔۔۔۔وغیره وغیرہ ہو۔
شادی سے پہلے اس طرح کی تمنائیں کرنا کوئی رکاوٹ نہیں ہوتیں لیکن اب چونکہ آپ نے  ایک مرد کو اپنے شریک حیات کی طور پر انتخاب کرلیا ہے اور ازدواجی زندگی کے مقدس عہد و پیمان پر دستخط کئے ہیں  که عمر  کے آخر تک  ایک دوسرے کے ساتھ رہوگے، اور مشترکہ زندگی میں ایک دوسرے کے معاون و مددگار بنوگے تو اب آپ کو ماضی کی یادوں کو فراموش کردینا چاہیئے ،اور اپنے  شوہر کے علاوہ کسی کو بھی اپنی نظروں میں مت لائیں،اپنے  دل کو اضطراب و پریشانی سے نجات دیں،اور کسی دوسرے کو اپنے دل سے نکال کر اس میں اپنے شوہر کی یادوں کو بسائیں، اپنے سابقہ خواستگار کو بھول جائیں اور اس کی طرف نہ دیکھیں،آپ کو اب اس کے بارے میں بلکل فکر نہیں کرنی چاہیئے کہ وہ ناراض ہے یا خوشحال؟ اور کیوں آپ اس کے احوال دریافت کرنے کے درپئے رہتی ہیں؟ یہ دو دلی کی کیفیت روح  کو پریشان کرنےکے علاوہ کیا نتیجہ دے سکتی ہے؟بلکہ یہ حالت کبھی آپ کی بدنصیبی اور بدبختی کے اسباب فراهم کرسکتی ہے۔
جب آپ نے کسی مرد کے ساتھ ازدواجی زندگی کا عهدو پیمان کرلیا ہے کہ آخری دم تک ایک ساتھ رہیں گے تو اب کیوں جھانک تانک کرتی ہو ،آپ کیوں کبھی اس مرد اور کبھی اُس مرد کی طرف دیکھتی ہیں  اور ان کے ساتھ اپنے شوہر کا تقابل کرتی ہیں؟آپ کو اس  غلط تاک جھانک کے سبب دائمی حسرت اور روحی اضطراب کے علاوہ کیا ہاتھ آئے گا؟
حضرت امام علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:جس نے اپنی آنکھوں کو آزاد چھوڑا تو وہ ہمیشہ ناراض اور افسردہ رہے گا اور کبھی نہ ختم ہونے والی حسرت و یاس میں گرفتار ہوجائے گا۔(بحار الانوار، ج 104،ص 38)۔
جب آپ سوداگری نگاہ سے دوسرے مردوں کو دیکھے گیں اور ان کے ساتھ اپنے شوہر کا تقابل کریں گی تو مجبوراً آپ کا ایسے افراد کے ساتھ واسطہ پڑے گا جن میں وہ عیوب نہیں پائے جاتے جو آپ کے شوہر میں پائے جاتے ہیں، اس لئے آپ کو  یہ خیال دامن گیر ہوگا کہ یہ ایسے چنندہ اور بے عیب لوگ ہیں جو آسمان سے نازل ہوئے ہیں ، اگرچہ ممکن ہے  ان  میں ایسے سینکڑوں عیوب  موجود ہوں کہ اگر آپ کو  ان کے بارے میں تھوڑا سا علم ہوجائے تو آپ اپنے شوہر کو ان پر ہر حال میں فوقیت دوگی، لیکن چونکہ ان کے پوشیده عیوب کے متعلق آپ کو کچھ معلوم نہیں ہے،آپ کو تو صرف ان کی خوبیاں نظر آرہی ہیں،اس لئے آپ اپنے آپ کو شادی کے مسئلہ میں شکست خوردہ  خیال کر رہی ہیں اور یہ سمجھ رہی ہیں کہ میرے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے، اور اس طرح آپ اپنے ہی  ہاتھوں پنی  بے چارگی کے اسباب فراہم کرنے میں مصروف ہوگئیں۔
جاری ہے۔۔۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 August 15