Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186350
Published : 26/3/2017 17:6

امام محمد باقر(ع) اور فقہاء کی کفالت

تاریخ نے امام محمد باقر(ع) جیسے کسی شخص کا تعارف نہیں کرایا،آپ نے اپنی پوری زندگی لوگوں میں علم نشر کرنے میں صرف کر دی ،آپ نے،جیسا کہ راویوں نے کہا ہے کہ:یثرب میں ایک بہت بڑے مدرسہ کی بنیاد رکھی جس میں لوگوں کوعلم فقہ ،حدیث ،فلسفہ ،علم کلام اور قرآن کریم کی تفسیر کی غذا سے سیر کیا۔


ولایت پورٹل:
جیسا کہ ہم نے گذشتہ مضمون میں عرض کیا کہ امام(ع) کے نزدیک سب سے زیادہ اہم مقصد ہمیشہ کے لئے اہل بیت(ع) کی فقہ اسلامی کو نشر کرنا تھا جس میں اسلام کی روح اور اس کا جوہر تھا ، امام (ع) نے اس کو زندہ کیا ،اس کی بنیاد اور اس کے اصول قائم کئے،آپ(ع) نے عظیم اور مایہ ناز فقہاء کی تربیت فرمائی کہ جنھوں نے اہل بیت(ع)کے علوم کی تدوین کیا،لہذا ہماری گذشتہ گفتگو سے متصل ہونے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
علم و معرفت کا بحر بیکراں
گذشتہ سے پیوستہ:امام محمد باقر علیہ السلام نے اِن فقہاء کے نفقہ کی ذمہ داری خود اپنے کا ندھوں پر لی ،ان کی زندگی میں اقتصادی طور پر پیش آنے والی  تمام حاجتیں پوری کیں تاکہ ان کو تحصیل علم ،اس کے قواعد و ضوابط لکھنے اور اس کے اصول کو مدوّن کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے ،جب آپ کے دار فانی سے ملک بقا کی طرف کوچ کرنے کا وقت آیا تو آپ نے اپنے فرزند ارجمند امام جعفر صادق(ع) کو ان فقہاء کو نان و نفقہ اورحق الزحمت دینے کی وصیت فرمائی کہ ان کو تحصیل علم اور ان کو لوگوں کے درمیان نشر کرنے میں کوئی معاشی مشکل پیش نہ آئے۔
یہ فقہا جو کچھ امام(ع) سے سنتے اس کو مدوّن کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے اور ان کو روشن فکر افراد کے لئے بیان کرتے ،امام (ع) کے شاگرد فقیہ جابر بن یزید جعفی سے ستر ہزار روایات نقل ہوئی ہیں جن میں سے اکثر احادیث فقہ اسلامی سے متعلق ہیں،اسی طرح ابان بن تغلب سے احادیث کا ایک بہت بڑا مجموعہ نقل ہوا ہے، احکام میں زیادہ تر عبادات ،عقود اور ایقاعات سے متعلق بہت زیادہ روایات جمع کی ہیں، فقہ اہل بیت(ع) کے مؤسس اور ناشر کا یہی حق ہے۔
آپ(ع) نے قرآن کریم کی تفسیر کا بڑا اہتمام کیا اس کے لئے مخصوص وقت صرف کیا،اکثر مفسرین نے آپ سے کسب فیض کیا ،اور آپ نے بعض آیات کی تفسیر میں وارد ہونے والی اپنے آباء و اجداد کی روایات کو مدوّن کیا،قرآن کریم کی تفسیر میں ایک خاص کتاب تحریر فرمائی جس سے فرقہ ٔ جارودیہ کے سربراہ زیاد بن منذر نے روایت کی ہے۔(فہرست،شیخ طوسی،ص۲۹۸) ۔
امام (ع)نے بعض احا دیث انبیاء علیہم السلام  کے حالات سے متعلق بیان فرمائیں ہیں جن میں انبیاء کا اپنے زمانہ کے فرعونوں کے ذریعہ قتل و غارت ،ان کی حکمتیں ،موعظے اور آداب بیان کئے گئے ہیں،آپ نے سیرت نبویہ کو ایک مجموعہ کی صورت میں پیش کیا جس سے ابن ہشام ،واقدی اور حلبی وغیرہ جیسے مدوّن کرنے والوں نے نبی اکرم(ص) کے غزوے اور ان کی جنگوں کے حالات نقل کئے ہیں، جس طرح ان سے آدابِ سلوک،حسن اخلاق اور حسن اعمال کے سلسلہ میں بھی متعدد احادیث نقل کی ہیں۔
یہ بات شایانِ ذکر ہے کہ امام محمد باقر(ع)نے مسیحی ،ازراقہ ،ملحدین اور غالیوں کی جماعتوں سے مناظرے کئے اور مناظروں میں ان کو شکست دی خود فاتح ہوئے اور ان سب دشمنوں نے آپ(ع) کی علمی طاقت اور ان پرروحانی فوقیت کااعتراف کیا۔
بہر حال تاریخ نے امام محمد باقر(ع) جیسے کسی شخص کا تعارف نہیں کرایا،آپ نے اپنی پوری زندگی لوگوں میں علم نشر کرنے میں صرف کر دی ،آپ نے،جیسا کہ راویوں نے کہا ہے کہ:یثرب میں ایک بہت بڑے مدرسہ کی بنیاد رکھی جس میں لوگوں کوعلم فقہ ،حدیث ،فلسفہ ،علم کلام اور قرآن کریم کی تفسیر کی غذا سے سیر کیا۔
جاری ہے۔۔۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12